اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کا حکم دے دیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے شیریں مزاری کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست پر سماعت کی، جہاں شیریں مزاری اپنے وکیل کے ہمراہ پیش ہوئیں۔
نیب پراسیکیوٹر رفیع مقصود نے کہا کہ ہم نے مارچ میں ہی شیریں مزاری کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی سفارش کی تھی۔
مزید پڑھیں: چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کاسپریم کورٹ میں ججوں کی تعیناتی میں مبینہ تعصب پر تشویش کااظہار
رفیع مقصود کے مطابق شیریں مزاری 190 ملین پاؤنڈ نیب کیس میں ملزم نہیں ہیں۔
اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہم نے 27 مارچ کو وزیراعظم کو خط بھی لکھا اور بتایا کہ شیریں مزاری اس کیس میں ملوث نہیں ہیں۔
جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے کہا کہ کابینہ کے اور بھی بہت سے کام ہیں، یہ کام ہم کریں گے۔
عدالت نے شیریں مزاری کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دیتے ہوئے درخواست نمٹا دی۔




