اسلام آباد(نیوزڈیسک)سولر پینلزپر ٹیکس لگانے کے حوالے سے زیر گردش خبروں بارے وزیردفاع خواجہ آصف نے بھی وضاحت جاری کر دی ۔
تفصیلات کے مطابق پیر کو سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس(ٹوئٹر)پر جاری اپنی ٹوئٹس میں وفاقی وزیردفاع خواجہ آصف نے کہاکہ سولر پینلز پر ٹیکس لگانے کی کوئی تجویز زیر غورنہیں اور نہ ہی عنقریب ایسا کوئی ارادہ ہے۔
انہوں نے کہاکہ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی( سی پی پی اے) یا پاور ڈویژن کی طرف سے سولر پینلز پر ٹیکس لگانے کی کوئی سمری بھی وزارت بجلی کو ارسال نہیں کی گئی ۔
No proposal for imposing any tax on solar panels on the table. Period.
No summary has been initiated by CPPA or by the Power Division. Period.
Taxing a product is not even the mandate of CPPA G. It belongs to FBR.
Net metering regime as practiced today unduly punishes… https://t.co/4EBV6MZzu6
— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) April 29, 2024
وزیردفاع نے کہاکہ سولر پینلز پرٹیکس لگانا سی پی پی اے یا پاورڈویژن کا مینڈیٹ بھی نہیں ہے، یہ ایف بی آر کا کام ہے۔
وفاقی وزیرنے کہاکہ نیٹ میٹرنگ کا نظام بھی صیح سے کام نہیں کر رہا ہے لہذااب اس بات کو یقینی بنانے کے لیے جائزہ لیا جا رہا ہے کہ ایسے صارفین کے ساتھ بھی زیادتی نہ ہو.
اپنی ٹوئٹ کے آخر میں انہوں نے سب سے درخواست کی کہ برائے مہربانی عوامی مسائل پر ٹویٹ کرنے سے پہلے حقائق کی جانچ کریں۔
یادرہے کہ چند روز قبل خبریں زیرگردش تھیں کہ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے گھریلویا کمرشل سولرپینل لگانے والوں پر ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دے دی ہے ۔
ذرائع وزارت توانائی کے مطابق سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی نے سمری وزارت بجلی کو ارسال کر دی۔
ذرائع وزارت توانائی کا کہنا ہے کہ گھریلو یا کمرشل سولرپینل لگانے والوں سے فی کلو واٹ 2 ہزار روپے ٹیکس وصول کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع نے بتایاکہ 12 کلو واٹ کے سولرپینل گرڈ سے 2 ہزار روپے فی کلو واٹ وصول کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع وزارت توانائی کے مطابق 12 کلو واٹ کا سولرپینل لگانے والے صارفین سے 24 ہزار روپے وصول کیے جائیں گے۔
ذرائع وزارت توانائی کا کہنا ہے کہ پاورڈویژن نے سی پی پی اے کی سمری منظوری کے لیے وزیراعظم شہباز شریف کو بھجوا دی۔
ذرائع وزارت توانائی نے بتایاکہ ملک میں نصب کیے گئے سولر پینل کے نرخوں پر نظرثانی کی تجویزبھی زیرغور ہے، سمری منظورہونے کے بعد سولرپینل کے نرخ کم کرنے کی درخواست نیپرا میں دائر کریں گے۔


