اسلام آباد (ویب ڈیسک) قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور پاکستان تحریک انصاف کے جنرل سیکرٹری عمرایوب نے کہا کہ ملک میں آئین اور قانون کی بالادستی ہونی چاہیئے، آئین میں واضح ہے فوج سیاست میں مداخلت نہیں کرے گی، مذاکرات کا اختیار صرف وزیر اعظم دے سکتا ہے، چاہے وہ وزیراعظم فارم 47 کی بیساکھیوں پر ہی کیوں نہ کھڑا ہو جبکہ شبلی فراز نے کہا کہ ملک میں خوف اور سیاسی بے یقنی کی فضا ہے، اس ماحول نے عوام کو ذہنی طور پر مفلوج کردیا ہے۔
عمر ایوب
اسلام آباد میں تحفظ آئین پاکستان کیسے اور کیوں؟“ کے عنوان سے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے جنرل سیکرٹری عمر ایوب نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین نے ہمیں سیاسی قوتوں کے ساتھ مذاکرات کی ذمہ داری دی تھی، آئین میں واضح ہے کہ فوج سیاست میں مداخلت نہیں کرے گی۔
پی ٹی آئی جنرل سیکرٹری نے کہا کہ بات چیت کی اتھارٹی صرف وزیر اعظم دے سکتا ہے، چاہے وہ وزیراعظم بیساکھیوں پر ہی کیوں نہ کھڑا ہو، بانی پی ٹی آئی سے گزشتہ ہفتے میری ملاقات ہوئی تھی، عمران خان نے کہا کہ سودے بازی کے لیے تیار نہیں۔
مزیدپڑھیں :چکی کے آٹے کی فی کلو قیمت میں 20 روپے کی کمی
عمر ایوب کا مزید کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کے دو ٹوک مؤقف کے بعد ہمارا ایک پوائنٹ ایجنڈا یہی ہے کہ ملک میں آئین و قانون کی بالادستی ہو، بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ عوام کو بتائیں، آئین و قانون پر سودے بازی نہیں ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے آئین و قانون کی بالادستی کے لیے بہت قربانیاں دی ہیں، ہم نے ربر بلٹ، آنسو گیس کی شیلنگ برداشت کی، آگ کا دریا عبور کر کے یہاں تک پہنچے ہیں۔
پی ٹی آئی جنرل سیکرٹری نے دعویٰ کیا کہ 9 مئی ایک سازش تھی، جس کا تمام تر الزام پاکستان تحریک انصاف پر عائد کر دیا گیا، ہم یہاں بھی یہی کہتے آئے ہیں کہ 9 مئی کے واقعات پر تحقیقات ہونی چاہئیں۔
عمر ایوب نے مزید کہا کہ مجھ پر ایک کیس ایکسرے مشین کی چوری کا بھی بنایا گیا، ایک کیس کسی کی پرانی موٹر سائیکل چھیننے کا بھی بنایا گیا، ہم پر قتل، اغوا اور دہشت گردی کے پرچے درج کیے گئے، پی ٹی آئی کارکنان نے تشدد برداشت کیا،لاٹھیاں کھائیں، پتہ نہیں ہمارے پاس کون سی ٹیکنالوجی تھی کہ بیک وقت پورے ملک میں جا کر یہ کام کیے، یہ سب لندن پلان کا حصہ تھا، ٹارگٹ اُس وقت کے وزیر اعظم عمران خان تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد ٹرین نہیں چلی، جلاؤ گھیراؤ ہوا، اس نقصان کی رپورٹ بھی سامنے لائیں، 9 مئی کو کسی خلائی مخلوق نے ہمیں ایسی مشینیں دیں کہ ہم نے پورے ملک میں بیک وقت حملے کردیے، اے پی ایس اور ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ پبلک ہونی چاہیئے۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ فارم 47 کے تحت ہماری 180 نشستیں چھینی گئیں، ہم انتخابی دھاندلی کی مذمت کرتے ہیں، آئین کے مطابق ہر شخص کو اظہار رائے کی آزادی ہے، ارشد شریف کی شہادت کی رپورٹ آنی چاہیئے۔
عمر ایوب نے مزید کہا کہ ہم سعودی بھائیوں کو خوش آمدید کہتے ہیں، سرمایہ کاری کو ویلکم کرتے ہیں، ہمارے دور حکومت میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے باوجود مالی 2021-22 میں شرح نمو 6 فیصد تھی۔ اس کے بعد پی ڈی ایم کے اناڑی وزیر خزانہ آئے، شرح نمو منفی میں چلی گئی۔
شبلی فراز
اس موقع پر سیمنیار سے خطاب کرتے ہوئے تحریک انصاف کے رہنما شبلی فراز نے کہا کہ ملک میں خوف،سیاسی بے یقنی کی فضا ہے، عوام کو اس ماحول نے ذہنی طور پر مفلوج کردیا ہے، ہمارے بڑوں نے آئین اور قانون کے لیے زندگیاں گزار دیں۔
شبلی فراز نے کہا کہ پی ٹی آئی کا اسمبلی توڑنے کا فیصلہ جمہوری طریقہ تھا، ہم نے آئین کے تحت صوبائی اسمبلیاں توڑیں، آئین کے تحت 90 روز میں انتخابات ہونے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک کا مستقبل آئین اورقانون کی بالا دستی سے ہے، بانی پی ٹی آئی و دیگر رہنما 9 ماہ سے جیل میں ہے، الیکشن نہ جیتنے والوں نے نگراں حکومت کی مدت بڑھائی۔
لطیف کھوسہ
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے رہنما لطیف کھوسہ نے کہا کہ ریاست صرف عوام ہے باقی ملازم ہیں، آپ ملازم ہو آپ ادارہ بھی نہیں ہو، آئین کی پاسداری سب پر لازم ہے چاہے آرمی چیف ہو یا چیف جسٹس۔
لطیف کھوسہ نے کہا کہ کل ایک مضحکہ خیز پریس کانفرنس ہوئی، بانی پی ٹی آئی کہتا ہے میں ان زنجیروں کو توڑوں گا، کیا ملازموں سے مفاہمت کی جاتی ہے، معافی کی بات کی جاتی ہے معافی تم مانگو گے، معافی مانگیں کس سے تم سے مانگیں، جناح ہاؤس پر بھی تم نے قبضہ کیا ہوا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج پرامن وکلاء پر تشدد کیا گیا، وکلاء پرآنسو گیس کے شیل برسائے گئے، پرامن وکلاء کو حراست میں لے لیا گیا۔


