اسلام آباد (نیوزڈیسک)وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ ہم نے اور ہمارے اتحادیوں نے مخصوص نشستوں کے فیصلے پر نظر ثانی اپیل دائر کردی ہے، انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا وجہ ہے کہ اس پر تفصیلی فیصلہ نہیں آرہا۔
نجی ٹی وی سےگفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہماری نظر ثانی کی اپیل کو جلد سے جلد سماعت کیلئے مقرر کیا جائے تاکہ اس میں جو قانونی سقم اور ہمارے سوالات ہیں اس پر سپریم کورٹ جواب دے سکے۔
انہوں نے کہا کہ عزم استحکام پر کوئی کنفیوژن نہیں ہے یہ ایک عزم کا نام ہے، اس پر قانونی مشاورت جاری ہے اور اسے حتمی شکل دے رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف اور پاکستان اکٹھے نہیں چل سکتے، یہ میری رائے ہے اور میں اس پر قائم رہوں گا۔
پی ٹی آئی پر پابندی کا آئیڈیا کس کا تھا؟ اس سوال کے جواب میں عطاء تارڑ نے کہا کہ ’جماعت کے اندر جب بیٹھتے ہیں تو میں سمجھتا ہوں کہ اس میں بہت سارے لوگوں کی مشاورت شامل ہوتی ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ یہ ایک مشترکہ فیصلہ تھا جس کا میں نے بطور ترجمان اعلان کیا۔
وفاقی وزیر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ایکس پر پابندی نگراں حکومت کے دور میں وزارت داخلہ کے کہنے پر لگی، معاملہ عدالت میں ہے، اس کا کوئی نہ کوئی فیصلہ آجائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’کل ہی ہماری ایک خاتون ایم پی اے جو وزیر اطلاعات ہیں، ان کی ایک جعلی ویڈیو نکالی گئی پی ٹی آئی کی طرف سے، ایک پورنوگرافک سائٹ سے وہ ویڈیو اٹھائی گئی اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لگائی گئی، کل کو لوگوں کے بچوں پر لگائی جائیں گی، چائلڈ پورنو گرافی کو پاکستان میں پروموٹ کیا جائے گا، کیونکہ ان کا کوئی دین ایمان تو ہے نہیں، مادر پدر آزاد ہیں، کسی کی ماں بہن کی تضحیک کریں تذلیل کریں‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ کل ایک انڈین پورن ویب سائٹ سے وہ ویڈیو نکلی، جس پر انہوں نے شکل چینج کرکے ہماری وزیر اطلاعات پنجاب کے ساتھ اس کو منسوب کیا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ یہ ڈیپ فیک کا ٹرینڈ کس نے اس ملک کے اندر شروع کیا، ’کس نے کہا کہ کسی نہ ماں چھوڑو نہ بہن چھوڑو‘۔
وزیر اطلاعات نے فائر وال کی فعالیت کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ انٹرنیٹ سروسز، ڈیٹا اور سائبر سکیورٹی کو آئی ٹی منسٹری ڈیل کرتی ہے، اس پر آئی ٹی منسٹری کا پالیسی بیان آجائے گا جو عوام کے سامنے رکھ دیا جائے گا۔
ایک اور سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ہمارے دور میں کسی چینل کو بند نہیں کیا گیا، ہمارے دور میں کسی اینکر کو آف ایئر نہیں کیا گیا۔


