اسلام آباد (نیوزڈیسک) چوہدرری اعجاز کی اہلیہ، اور حاجی امتیاز کی بھابھی نے عمرایوب کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ چند روز قبل ہمارے گھر میں 25 سے 30 لوگ آئے، چار سے پانچ گاڑیاں تھیں ۔ہمارے ملازمین کو زمین پر لٹا کر لوہے کے پائپ سے مارتے رہے، استریوں سے جلاتے رہے ، پوچھتے رہے کہ چوہدری اعجاز اور چوہدرری امتیاز کہاں ہیں۔
مجھے زبردستی گھسیٹتے سیڑھیوں تک لائے میرے بچوں کو کمرے مں بند کرکے مجھے میرے خاوند کے آفس لے گئے 9 سال کی بچی کو تصویر دکھائی کہ والد کہاں ہے، گیارہ ماہ کے بچے کو کھینچامجھے گالیاں دیں، جو زبان استعمال کی وہ میڈیا میں نہیں بتا سکتے۔ ایک آدمی میرے پاوں پر وزن ڈال کر کھڑا ہوگیا اور کہا اپنے شوہر سے بات کرو۔
ہمارے ملازمین میں سے کسی کا بازو توڑ دیا تو کسی کی انگلی توڑ دی ،کسی کواستری سے جلایا وہ رات 9 بجے آئے ،ایک بجے تک رہے،چار گھنٹے ہمارے اوپر تشدد کرتے رہے ۔میں گھریلو خاتون ہوں۔ سیاست سے کچھ لینا دینا نہیں۔ مجھے ہراساں کیا گیا۔ جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئی ۔
ہمیں کہا گیا اگر کسی کو بتایا تو کل دوبارہ آئیں گے ۔ خاوند کو سارا واقعہ بتایا 15 پر کال کرنے کا کہا میں نے 15 پر کال کی ،مجھے کوئی اچھا ریسپانس نہیں ملا11 اکتوبر سے لیکر آج تک کبھی صبح آجاتے ہیں توکبھی شام کو آجاتے ہیں۔ کل رات 6 بجے مشینری لے کر آئے اور کہا کہ ہم سی ڈی اے سے ہیں، توڑ پھوڑ شروع کردی۔ بغیرنوٹس کے ہمارے گھر کیوں آئے،ہمیں مسلسل ہراساں کیا جارہا ہےمیری درخواست ہے کہ سیاست کو گھروں میں نہ لائیںسی سی ٹی وی فوٹیج بھی ساتھ لے گئے۔
’’ایک‘‘ ہو کر کھیلیں، محسن نقوی،توقعات پر پورا اتروں گا،محمد رضوان


