اسلام آباد(نیوز ڈیسک)بانی پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف کیسز کو بریانی سے تشبیہہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ جو آخری دم ہوتا ہے نا 10 منٹ کا دم کہ 90 فیصد تیار ہے اور دیگچی پر سے ڈھکن اٹھائیں تو کھانا تیار ہے، اسی طرح عمران خان کے خلاف مقدمات آخری سانسوں پر ہیں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان صفدر نے کہا کہ توشہ خانہ میں بانی پی ٹی آئی کی ضمانت اتنی اہم نہیں جتنی بریت درخواست ہے کہ یہ کیس چل ہی نہیں سکتا۔ بریت کی درخواست پر اڈیالہ جیل میں جج صاحب نے آج فیصلہ نہیں کیا۔ بریت درخواست میں کچھ ایسے نکات اٹھائے گئے ہیں کہ کوئی جرم ہی نہیں ہوا۔
سلمان صفدر نے کہا کہ بریت درخواست پر دلائل مکمل ہونے کے باوجود جج صاحب نے فیصلہ نہیں دیا اور تاریخ ڈال دی۔ بانی پی ٹی آئی کی توشہ خانہ کیس میں ضمانت ہو چکی اور عدالتی آبزرویشنز بھی سامنے آ چکی ہیں۔ بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کے لیے ہم پر امید ہیں۔ اسپیشل پراسیکیوٹر کئی گھنٹے انتظار کرانے کے بعد بھی نہیں آئے۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے مرکزی کیسز ختم ہو چکے ہیں، بچے کھچے کیسز رہ گئے ہیں، القادر کیس بھی بریت کا کیس ہے، جلد فیصلے کی امید ہے۔ اگر القادر میں بھی خلاف فیصلہ آتا ہے تو وہ 15 دن میں معطل ہو سکتا ہے، بانی پی ٹی آئی کے کیسز ختم ہو چکے ہیں۔
بانی پی ٹی آئی پر درج مقدمات کے کیس میں پنجاب حکومت کے وکیل نے رپورٹ لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرائی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ عمران خان پر پنجاب پولیس نے 54 مقدمات درج کر رکھے ہیں۔
سرکاری وکیل کی رپورٹ کے مطابق عمران خان پر لاہور میں 21 مقدمات، راولپنڈی ڈویژن میں 19 اور شیخوپورہ میں 7 مقدمات درج ہیں۔ فیصل آباد میں 5 اور گوجرانوالہ میں بھی ایک مقدمہ درج ہے۔
واضح رہے کہ عمران خان پر پنجاب میں درج مقدمات کی تفصیل جاننے کے لیے ان کی بہن نے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس کی سماعت جسٹس فاروق حیدر کریں گے۔
مزیدپڑھیں:اکشے کمار کی سنیل شیٹھی اور پاریش راول کے ساتھ تصویر وائرل، ’کیا ہیرا پھیری 3 آنے والی ہے؟‘

