اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2025-26 کے بجٹ کا تخمینہ 17.5 کھرب روپے لگایا ہے، جو رواں سال کے مقابلے میں تقریباً 1.3 کھرب روپے کم ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ بجٹ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف) کی مشاورت سے تیار کیا گیا ہے، جس میں دفاعی اخراجات، قرضوں پر سود کی ادائیگیاں، ترقیاتی فنڈز اور دیگر اخراجات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف بی آر کے لیے آئندہ مالی سال کا ہدف 14.1 کھرب روپے مقرر کیا گیا ہے، جو پچھلے تخمینے یعنی 14.3 کھرب روپے سے کچھ کم ہے۔
معاشی ٹیم نے اس بجٹ کی تفصیلات پر وزیرِاعظم شہباز شریف کو بریفنگ دے دی ہے۔ بجٹ میں مختلف شعبوں پر ٹیکس اصلاحات کی تجاویز بھی شامل کی گئی ہیں۔ شیئرز کے منافع پر ٹیکس بڑھانے اور 1000 سی سی تک کی گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کو موجودہ 12.5 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
آئی ایم ایف نے کفایت شعاری کے اصولوں پر سختی سے عمل درآمد کی ہدایت کی ہے۔ اس کے تحت وفاقی وزارتوں اور محکموں میں نئی گاڑیوں کی خریداری پر مکمل پابندی عائد کی جائے گی۔ وزارت خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے حالیہ مذاکرات کامیاب رہے ہیں، اور بجٹ کی تیاری اس کے معاہدے کے فریم ورک کے مطابق کی جا رہی ہے۔
مزیدپڑھیں:بغیر ثبوت چالان نہیں ہونگے، ٹریفک وارڈنز کی وردی کیساتھ باڈی کیمرے منسلک
