Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

عمران خان کی میڈیکل رپورٹ عدالت میں پیش، سماعت متاثر ہونے کی نشاندہی

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ راولپنڈی کی عدالت میں عمران خان کی میڈیکل رپورٹ پیش کی گئی ہے جس میں پہلی بار واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ان کی قوتِ سماعت متاثر ہو رہی ہے۔ رپورٹ میں علاج کے لیے “سپورٹیو مینجمنٹ” کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے۔

اسد قیصر نے اے بی این نیوز کے پروگرام تجزیہ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگست 2024 میں عمران خان کا آخری معائنہ ان کے معدے کے ماہر ڈاکٹر فیصل نے کیا تھا، مگر اس کے بعد اہل خانہ اور وکلاء کی بار بار درخواستوں کے باوجود حکومت نے اس ماہر کو دوبارہ معائنہ کرنے کی اجازت نہ دی۔ حال ہی میں پمز اسپتال کے چار رکنی ڈاکٹرز بورڈ نے عمران خان کا معائنہ کیا اور دو سال کی میڈیکل ہسٹری سمیت رپورٹ عدالت میں پیش کی۔

ڈاکٹرز کے مطابق “سپورٹیو مینجمنٹ” کا مطلب یہ ہے کہ مریض کو قیدِ تنہائی میں نہ رکھا جائے، اس کے اردگرد ایسا ماحول ہو جہاں وہ دوسروں سے بات چیت کرسکے، سن سکے اور جواب دے سکے تاکہ اس کی قوتِ سماعت مزید متاثر نہ ہو۔ تاہم عمران خان کو مسلسل قیدِ تنہائی میں رکھنے کے باعث ان کی حالت مزید بگڑنے کا خدشہ ہے۔

علی امین گنڈا پور کا کالاباغ ڈیم بیان

دوسری جانب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کے کالاباغ ڈیم سے متعلق بیان پر پارٹی کے اندر اختلافات سامنے آ گئے ہیں۔ علی امین گنڈا پور نے کہا ہے کہ “کالاباغ ڈیم پاکستان کے مفاد میں ہے، اس منصوبے کو ذاتی یا صوبائی اختلافات کی نذر نہیں کیا جا سکتا۔”

ان کے بیان پر پارٹی کے کئی حلقوں نے اعتراض کیا ہے کہ یہ انتہائی حساس معاملہ ہے اور پارٹی چیئرمین کی غیر موجودگی میں اس پر اظہارِ خیال نہیں ہونا چاہیے تھا۔ بعض رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ وضاحت ضروری ہے کہ گنڈا پور نے یہ مؤقف ذاتی طور پر اپنایا یا پارٹی پالیسی کے تحت۔

اسد قیصر نے اس حوالے سے کہا کہ “کالاباغ ڈیم پر علی امین گنڈا پور کا بیان ان کی ذاتی رائے ہے، یہ پارٹی کی پالیسی نہیں ہے۔ ایسے معاملات جو پہلے ہی متنازع اور طے شدہ ہوں، ان پر دوبارہ بحث چھیڑنا مناسب نہیں۔”

سیاسی دوریاں اور عدالتی معاملات

رہنماؤں نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ علی امین گنڈا پور اور عمران خان کے درمیان فاصلے بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔ عمران خان کی جانب سے واضح ہدایت تھی کہ صوبائی حکومت بعض جاری آپریشنز کی مخالفت کرے، لیکن وزیر اعلیٰ نے ان ہدایات پر عمل نہیں کیا۔

ادھر عمران خان سے ملاقات کے لیے عدالت سے اجازت نہ ملنے پر سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی، تاہم رجسٹرار آفس نے تکنیکی اعتراضات لگا دیے۔ قانونی ماہرین کے مطابق یہ معاملہ آئینی بنچ کے سامنے جا سکتا ہے لیکن فوری ریلیف ملنے کے امکانات کم ہیں۔

سیلاب اور ملکی معیشت پر اثرات

گفتگو میں اسد قیصر نے حالیہ سیلابی صورتحال پر بھی اظہارِ تشویش کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کی گنے اور چاول کی فصل مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے۔ “یہ ہماری معیشت کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ اس وقت ضرورت ہے کہ سب جماعتیں سیاسی اختلافات بھلا کر قومی ایجنڈے پر متحد ہوں۔”

انہوں نے بتایا کہ عمران خان نے پارٹی رہنماؤں کو ہدایت دی ہے کہ وہ سیلاب متاثرین کی امداد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور متاثرہ علاقوں کا دورہ کریں۔

یہ بھی پڑھیں