Search
Close this search box.
هفته ,20 جون ,2026ء

سولر سسٹمز کی پیداوار گرڈ کی طلب سے تجاوز کرجائے گی، وزارت موسمیاتی تبدیلی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزارت موسمیاتی تبدیلی کی سیکریٹری عائشہ موریانی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں پہلی بار اگلے سال دن کے اوقات میں بعض بڑے صنعتی علاقوں میں چھتوں پر نصب سولر سسٹمز کی بجلی قومی گرڈ کی طلب سے زیادہ ہو جائے گی۔

عائشہ موریانی نے کوپ 30 کانفرنس کے موقعے پر رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں گزشتہ برسوں کے دوران سولر پینلز کی تنصیبات میں بے مثال اضافہ ہوا ہے جس سے اخراجات اور بجلی کے بل کم ہوئے لیکن ساتھ ہی گرڈ پر مبنی بجلی کی طلب میں کمی کے باعث خسارے میں ڈوبی پاور کمپنیوں کے مالی معاملات مزید خراب ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کچھ اوقات میں گرڈ سے منسلک بجلی کی طلب منفی ہو جائے گی کیونکہ گھروں اور صنعتوں میں نصب سولر سسٹمز کی پیداوار مکمل طور پر گرڈ کی کھپت کو بدل دے گی۔

عائشہ موریانی کے مطابق لاہور میں سب سے پہلے منفی طلب دیکھنے کا امکان ہے جہاں سولر پینٹریشن سب سے زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد فیصل آباد اور سیالکوٹ میں بھی یہی رجحان دیکھا جائے گا جہاں صنعتی علاقوں میں سولر کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

بجلی کی لوڈشیڈنگ اور ٹیرف میں اضافے نے 25 کروڑ آبادی والے ملک میں سولر اپنانے کے رجحان کو تیز کیا ہے جس کے باعث پاکستان دنیا کا تیسرا بڑا سولر پینل درآمد کنندہ بن گیا ہے اور اس کی سولر پیداواری شرح ہمسایہ چین سے بھی زیادہ رفتار سے بڑھ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ گرمیوں کی دوپہر، صنعتی تعطیلات اور معتدل موسموں میں جب سورج کی روشنی زیادہ ہوتی ہے ایسے منفی طلب کے واقعات مزید بڑھ جائیں گے۔

عائشہ موریانی نے کہا کہ پاکستان کے لیے اصل چیلنج یہ نہیں کہ قابل تجدید توانائی کتنی بڑھے گی بلکہ یہ ہے کہ گرڈ، ضابطہ جاتی فریم ورک اور مارکیٹ ڈیزائن کس رفتار سے اس کے مطابق ڈھلتے ہیں۔

پاکستان بڑے سولر صارفین کے لیے نئے ٹیرف لانے اور فیس ڈھانچے میں تبدیلیاں کرنے کا منصوبہ بھی بنا رہا ہے، تاکہ سولر استعمال کرنے والے صنعتی یونٹس بھی گرڈ کے اخراجات میں حصہ ڈالیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس سال گرڈ سے منسلک بجلی کی طلب میں 3 سے 4 فیصد اضافہ متوقع ہے جو ماضی کی نسبت کم ہے جبکہ اگلے سال طلب میں اضافہ تو ہوگا لیکن سولر کے بڑھتے استعمال کے باعث اس پر اثر پڑ سکتا ہے۔

سولر کے غیر معمولی پھیلاؤ کے بعد پاکستان نے قطر کے ساتھ اپنے ایل این جی معاہدوں پر دوبارہ بات چیت شروع کر دی ہے جبکہ اٹلی کی کمپنی ای این آئی کی کچھ سپلائیز بھی منسوخ کی گئی ہیں۔

پاکستان کم قیمت، زیادہ لچکدار ڈیلیوری شیڈول اور ممکنہ طور پر کم مقدار کی درآمد چاہتا ہے۔

اگرچہ کوپ 30 میں قطر کے ساتھ باضابطہ مذاکرات نہیں ہوئے لیکن عائشہ موریانی کے مطابق کانفرنس نے توانائی وزرا اور تجارتی نمائندوں کے ساتھ سفارتی سطح پر گفتگو کا اہم موقع فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا بنیادی مقصد اپنی گیس درآمدی حکمت عملی کو مالی گنجائش، بجلی کی طلب اور موسمی ضروریات کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان استحکام اور مناسب قیمت چاہتا ہے ایل این جی انحصار میں مزید اضافہ نہیں۔
مزید پڑھیں: عثمان طارق ٹی 20 انٹرنیشنلز میں ہیٹ ٹرک کرنے والے چوتھے پاکستانی بن گئے

یہ بھی پڑھیں