Search
Close this search box.
جمعه ,19 جون ,2026ء

سپریم کورٹ کے مستعفی ججز کو پینشن کی مد میں بھاری رقم ملنے پر خواجہ آصف بول پڑے

اسلام آباد(ویب ڈیسک)وزیر دفاع و سینیئر رہنما مسلم لیگ ن خواجہ آصف نے کہا ہے کہ وفاقی سیکریٹری کی 35 سالہ خدمات کے بعد انہیں عام طور پر 6 سے 7 ملین روپے گریجویٹی ملتی ہے، جبکہ حالیہ چند ججز جنہوں نے استعفیٰ دیا، ریٹائر نہیں ہوئے، 156 سے 161 ملین روپے کے فوائد لے کر گھر چلے گئے۔

سماجی رابطے کی سائٹ ’ایکس‘ پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ اگر کوئی سیکریٹری استعفیٰ دیتا ہے تو اسے ریٹائرمنٹ فوائد نہیں ملتے، جو ناانصافی ہے۔


انہوں نے مزید کہاکہ یہ ججز ریٹائرمنٹ کے معیار کے مطابق مراعات کے اہل نہیں تھے، لیکن اس کے باوجود انہیں بھاری ادائیگیاں موصول ہوئیں۔

انہوں نے کہاکہ ایک جج 1980 کی دہائی میں سی ایس ایس امتحان میں فیل ہو گیا تھا، پھر بھی انہیں یہ فوائد دیے گئے۔ خواجہ آصف نے زور دیا کہ ججز کی ادائیگیوں میں شفافیت اور انصاف ہونا چاہیے۔

انہوں نے پارلیمنٹیرینز کی تنخواہوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ایک ممبر پارلیمنٹ چاہے 40 سال خدمات دے، انہیں نہ کوئی پلاٹ، نہ پینشن، نہ گاڑی یا اسٹاف ملتا ہے، بلکہ صرف ماہانہ تنخواہ دی جاتی ہے جو حالیہ مہینوں میں ساڑھے 4 لاکھ روپے تک پہنچ گئی ہے، جبکہ پہلے یہ پونے 2 لاکھ روپے تھی۔

خواجہ آصف نے کہاکہ ججز کے بھاری فوائد اور پارلیمنٹیرینز کی محدود مراعات میں فرق نہ صرف شفافیت کے اصول کے خلاف ہے بلکہ انصاف کے تقاضوں سے بھی مطابقت نہیں رکھتا۔

واضح رہے کہ حال ہی میں 27ویں آئینی ترمیم سے اختلافات کرتے ہوئے مستعفی ہونے والے ججز جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس منصور علی شاہ کو پینشن کی مد میں ملنے والی مراعات کی تفصیل سامنے آئی ہے، جس پر تبصرے کیے جا رہے ہیں۔
مزید پڑھیں:آئی پی ایل سے مستفیض کو نکالنےکا معاملہ، بنگلادیش ٹی 20 ورلڈکپ کے میچز بھارت سے سری لنکا منتقل کرانےکا سوچنے لگا

یہ بھی پڑھیں