Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

عمران خان کا پمز میں طبی معائنہ، بینائی میں نمایاں بہتری

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)میڈیکل بورڈ نے سابق وزیراعظم عمران خان کی آنکھوں کاگزشتہ روز معائنہ کیا۔ بورڈ میں پروفیسر ڈاکٹر ندیم قریشی (الشفا ٹرسٹ آئی ہسپتال راولپنڈی) اور پروفیسر ڈاکٹر محمد عارف خان (پی آئی ایم ایس اسلام آباد) شامل تھے۔بینائی کے معائنے میں دائیں آنکھ کی نظر بغیر چشمے کے 6/24 جزوی جبکہ بائیں آنکھ کی 6/9 تھی۔ چشمہ لگانے کے بعد دائیں آنکھ 6/9 جزوی اور بائیں آنکھ 6/6 ہو گئی۔سلیٹ لیمپ معائنے میں دونوں آنکھوں کا اگلا حصہ نارمل پایا گیا، قرنیہ صاف تھا اور اینٹیریئر چیمبر میں خلیات موجود نہیں تھے۔ دائیں آنکھ میں نئی غیر معمولی شریانیں نظر نہیں آئیں، پتلی روشنی پر ردعمل دے رہی تھی اور لینز صاف تھا۔ گونیواسکوپی میں زاویہ کھلا پایا گیا اور غیر معمولی نئی شریانیں نہیں دیکھی گئیں۔ ویٹریئس زیادہ تر صاف تھا تاہم معمولی فائبریلر دھندلاہٹ موجود تھی اور 6 بجے کی سمت ہلکی اندرونی خون ریزی دیکھی گئی۔

فنڈس معائنے میں دائیں آنکھ کی ڈسک سرخی مائل اور رگیں پھیلی ہوئی تھیں، کپ واضح نہیں تھا۔ چاروں حصوں میں درمیانی درجے کی ریٹینل خون ریزی موجود تھی اور مختلف حصوں میں 4 سے 5 کاٹن وول اسپاٹس دیکھے گئے۔ میکیولا کی سوجن کم ہو رہی ہے، فوویئل کنٹور واضح ہے اور ریٹینا جڑی ہوئی ہے۔

بائیں آنکھ میں ڈسک گلابی رنگ کی تھی، سی ڈی آر 0.2 تھا، رگیں نارمل تھیں، میکیولا صاف تھی اور کوئی نمایاں تبدیلی نہیں دیکھی گئی۔ پردیی حصہ صاف تھا، لیٹس نہیں تھا اور ریٹینا جڑی ہوئی تھی۔او سی ٹی رپورٹ کے مطابق دائیں آنکھ میں میکیولا کی سوجن کم ہو رہی ہے اور بہتری کی جانب ہے۔
سنٹرل میکیولر تھکنس 550 سے کم ہو کر 350 ہو گئی ہے جسے بہتری قرار دیا گیا ہے۔ بائیں آنکھ نارمل حدود میں ہے جبکہ متاثرہ آنکھ کی بینائی 6/36 سے بہتر ہو کر 6/9 (جزوی) ہو گئی ہے جو اس مرحلے پر کافی بہتر سمجھی جا رہی ہے۔

تجویز کردہ علاج میں نیواناک آئی ڈراپس دونوں آنکھوں کے لیے، کوسوپٹ آئی ڈراپس صرف دائیں آنکھ کے لیے اور سسٹین الٹرا دونوں آنکھوں کے لیے شامل ہیں۔ اینٹی وی ای جی ایف کی دوسری خوراک شیڈول کے مطابق دی جا سکتی ہے۔ مزید تحقیقات کے لیے او سی ٹی اینجیوگرافی اور ایف ایف اے ٹیسٹ علاج مکمل ہونے کے بعد کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

میڈیکل بورڈ میں پروفیسر ڈاکٹر ندیم قریشی اور پروفیسر ڈاکٹر محمد عارف خان شامل تھے۔ 15 فروری 2026 کو اڈیالہ جیل میں فالو اپ وزٹ کے دوران بیرسٹر گوہر خان اور علامہ راجہ ناصر عباس کو عمران خان کی موجودہ صحت کی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ عمران خان کے ذاتی معالجین ڈاکٹر عاصم یوسف اور ڈاکٹر خرم مرزا کو بھی فون پر بریف کیا گیا اور انہوں نے علاج پر اطمینان کا اظہار کیا۔

رپورٹ کے مطابق میڈیکل بورڈ، سیاسی رہنماؤں اور ذاتی معالجین نے اب تک کیے گئے علاج پر اعتماد کا اظہار کیا ہے اور تجویز کردہ فالو اپ ہدایات جاری رکھنے کی سفارش کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق بیرسٹر گوہر علی خان اور علامہ راجہ ناصر عباس نے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کا دورہ کیا جہاں ڈاکٹرز نے انہیں بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین ڈاکٹر عاصم یوسف اور ڈاکٹر خرم مرزا کو بھی فون پر تقریباً 25 منٹ طویل بریفنگ دی گئی جس پر انہوں نے اطمینان کا اظہار کیا۔ سیاسی قائدین اور ذاتی معالجین نے اب تک کیے گئے علاج اور سینئر ڈاکٹرز کی ٹیم کی تجاویز پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

میڈیکل بورڈ نے 15 فروری 2026 کو معائنہ کیا جس میں ڈاکٹر ندیم قریشی (الشفاء ٹرسٹ آئی ہسپتال) اور ڈاکٹر محمد عارف خان (پمز اسلام آباد) شامل تھے۔رپورٹ کے مطابق دائیں آنکھ کی بینائی بغیر عینک 6/24 پارشل جبکہ بائیں آنکھ کی 6/9 ریکارڈ کی گئی۔ عینک کے ساتھ دائیں آنکھ کی بینائی بہتر ہو کر 6/9 پارشل اور بائیں آنکھ کی مکمل طور پر 6/6 ہو گئی۔ دائیں آنکھ کے معائنے میں خون کے بہاؤ اور پردہ بصارت پر سوزش کے آثار پائے گئے تاہم سوجن میں واضح کمی آئی ہے اور موٹائی 550 سے کم ہو کر 350 ہو گئی جو بہتری کی علامت ہے۔

میڈیکل بورڈ نے دونوں آنکھوں کے لیے نیواناک اور سسٹین الٹرا جبکہ صرف دائیں آنکھ کے لیے کوسوپٹ آئی ڈراپس تجویز کیے ہیں۔ بینائی 6/36 سے بہتر ہو کر 6/9 پارشل ہو چکی ہے جو اس مرحلے پر تسلی بخش قرار دی گئی ہے۔ ماہرین نے اینٹی وی ای جی ایف علاج مکمل ہونے کے بعد او سی ٹی اینجیوگرافی اور ایف ایف اے ٹیسٹ کروانے کا مشورہ بھی دیا ہے۔

بیرسٹر گوہر خان اور علامہ راجہ ناصر عباس کا پمز کا دورہ

بیرسٹر گوہر خان اور علامہ راجہ ناصر عباس نے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کا دورہ کیا جہاں ڈاکٹرز نے انہیں بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ رپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین ڈاکٹر عاصم یوسف اور ڈاکٹر خرم مرزا کو بھی فون پر 25 منٹ طویل بریفنگ دی گئی جس پر انہوں نے اطمینان کا اظہار کیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سیاسی قائدین اور ذاتی معالجین نے اب تک کیے گئے علاج اور سینئر ڈاکٹرز کی ٹیم کی تجاویز پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ بانی پی ٹی آئی کا باقاعدہ معائنہ 15 فروری 2026 کو پروفیسرز پر مشتمل ماہر امراضِ چشم کے میڈیکل بورڈ نے کیا۔

میڈیکل بورڈ میں الشفاء ٹرسٹ آئی ہسپتال کے پروفیسر ڈاکٹر ندیم قریشی اور پمز اسلام آباد کے پروفیسر ڈاکٹر محمد عارف خان شامل تھے۔ رپورٹ کے مطابق دائیں آنکھ کی بینائی عینک کے بغیر 6/24 پارشل جبکہ بائیں آنکھ کی بینائی 6/9 ریکارڈ کی گئی۔ عینک کے استعمال سے دائیں آنکھ کی بینائی بہتر ہو کر 6/9 پارشل اور بائیں آنکھ کی بینائی مکمل طور پر 6/6 ہو گئی۔

طبی رپورٹ میں دائیں آنکھ کے معائنے کے دوران خون کے بہاؤ اور پردہ بصارت پر سوزش کے آثار کی نشاندہی کی گئی، تاہم سوجن میں نمایاں کمی آئی ہے اور موٹائی 550 سے کم ہو کر 350 ہو گئی ہے جو بہتری کی علامت قرار دی گئی ہے۔

میڈیکل بورڈ نے دونوں آنکھوں کے لیے نیواناک اور سسٹین الٹرا جبکہ صرف دائیں آنکھ کے لیے کوسوپٹ آئی ڈراپس تجویز کیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بینائی 6/36 سے بہتر ہو کر 6/9 پارشل ہو چکی ہے جو اس مرحلے پر تسلی بخش پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔

ماہرین نے اینٹی وی ای جی ایف علاج مکمل ہونے کے بعد او سی ٹی اینجیو گرافی اور ایف ایف اے ٹیسٹ کروانے کا بھی مشورہ دیا ہے تاکہ آئندہ علاج کا لائحہ عمل مرتب کیا جا سکے۔

عمران خان کی آنکھ 95 فیصد بہتر، محمود خان اچکزئی کا اظہارِ مسرت

عمران خان کی آنکھ کی صحت سے متعلق حوصلہ افزا خبر سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق ان کی آنکھ الحمدللہ 95 فیصد تک بہتر ہو چکی ہے اور بینائی میں واضح بہتری ریکارڈ کی گئی ہے۔

محمود خان اچکزئی نے ڈاکٹرز سے ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں طبی ماہرین کی جانب سے عمران خان کی صحت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ معائنے کے بعد ڈاکٹرز نے آگاہ کیا کہ عمران خان کی بینائی پہلے کے مقابلے میں کافی بہتر ہو چکی ہے۔

محمود خان اچکزئی کے مطابق عمران خان نے خود بھی بتایا کہ پہلے انہیں دیوار پر لگا ٹائم پیس واضح نظر نہیں آ رہا تھا، تاہم حالیہ چیک اپ کے بعد اب گھڑی کی سوئیاں صاف دکھائی دینے لگی ہیں، جو صحت میں بہتری کی مثبت علامت ہے۔

اس موقع پر موجود ارکانِ اسمبلی نے ’’ماشاءاللہ‘‘ اور ’’الحمدللہ‘‘ کہہ کر اطمینان کا اظہار کیا اور عمران خان کی مکمل اور جلد صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ سیاسی حلقوں میں اس خبر کو خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے اور رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بہتر طبی نگہداشت کے باعث ان کی صحت میں تسلسل کے ساتھ بہتری آ رہی ہے۔


مزیدپڑھیں:ٹیلی نار نے بھی سم لگاﺅ آفر متعارف کر ادی

یہ بھی پڑھیں