پاکستان مسلم لیگ (ن) نے آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے لیے پارٹی ٹکٹ کے خواہشمند امیدواروں کے انٹرویوز کا مرحلہ مکمل کر لیا ہے، جبکہ پارٹی قیادت نے انتخابی مہم کے لیے سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔
ذرائع کے مطابق پارٹی سربراہ نواز شریف(Nawaz Sharif) نے انتخابی مہم میں بھرپور حصہ لینے کا فیصلہ کرتے ہوئے جون کے وسط میں آزاد کشمیر کا دورہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ شہباز شریف اور مریم نواز بھی انتخابی مہم کے سلسلے میں آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں کا دورہ کر سکتے ہیں۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف نے وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو ہدایت کی ہے کہ وہ انتخابی مہم میں بھرپور انداز میں شریک ہوں۔ ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں کے دو سے تین بڑے عوامی جلسوں سے خطاب کرنے کا امکان ہے۔
پارلیمانی بورڈ کے اجلاس میں نواز شریف نے امیدواروں کے انٹرویوز کیے۔ ذرائع کے مطابق آزاد کشمیر کے 45 انتخابی حلقوں سے 206 سے زائد امیدواروں کا جائزہ لیا گیا، جبکہ ہر امیدوار کو گفتگو کے لیے مختصر وقت دیا گیا۔
پارٹی ذرائع کے مطابق حتمی امیدواروں کے ناموں کا اعلان آئندہ دو سے تین روز میں کیا جا سکتا ہے، جس کے لیے پارلیمانی بورڈ کے ارکان سے مشاورت جاری ہے۔ انٹرویوز کے دوران امیدواروں سے پارٹی وابستگی، سیاسی کارکردگی اور عوامی مقبولیت سے متعلق سوالات بھی کیے گئے۔
امیر مقام کی سربراہی میں آزاد کشمیر انتخابات کے لیے ایک پارلیمانی کمیٹی بھی قائم کر دی گئی ہے، جو انتخابی حکمت عملی اور امیدواروں کے معاملات کی نگرانی کرے گی۔
برطانیہ: بلدیاتی انتخابات میں حکمران پارٹی کو بڑا دھچکا
اجلاس کے دوران متعدد امیدواروں نے گزشتہ برسوں میں نظریہ پاکستان اور تحریک آزادی کشمیر کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا۔ امیدواروں کا کہنا تھا کہ کشمیری عوام نے آزادی کے لیے بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور پاکستان مسلم لیگ (ن) ہی کشمیریوں کے نظریات اور شہدا کی حقیقی نمائندہ جماعت ہے۔
پارلیمانی بورڈ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ ان کا کشمیریوں سے جذباتی تعلق ہے اور وہ خود کو کشمیری عوام کے قریب محسوس کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ آزاد کشمیر جا کر خود پارٹی امیدواروں کے لیے ووٹ مانگیں گے۔
انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ وفاق اور پنجاب کی طرح آزاد کشمیر میں بھی پاکستان مسلم لیگ (ن) حکومت بنانے میں کامیاب ہوگی۔




