آزاد کشمیر(Azad Kashmir) کے محکمہ ان لینڈ ریونیو میں مبینہ کرپشن، غیر قانونی مالی معاملات اور انتظامی بے ضابطگیوں سے متعلق سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق سگریٹ فیکٹریوں سے ماہانہ کروڑوں روپے کی مبینہ وصولیوں اور بند یونٹس کی بحالی میں مالی مفادات کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بھمبر میں قائم متعدد سگریٹ فیکٹریوں سے مبینہ طور پر ماہانہ بھاری رقوم وصول کی جا رہی تھیں، جبکہ بعض بند فیکٹریوں کو دوبارہ پیداوار کی اجازت دینے کے فیصلے بھی مالی معاملات سے منسلک بتائے جا رہے ہیں۔
مبینہ الزامات کے مطابق سابقہ دور میں بند کی گئی کم از کم 12 فیکٹریوں کو دوبارہ پیداوار کی اجازت دی گئی، جس کے بعد صنعتی سرگرمیوں کے ساتھ مالی لین دین کے دعوے بھی سامنے آئے ہیں۔
رپورٹ میں وزیر برائے ان لینڈ ریونیو چوہدری قاسم مجید(Qasim Majeed) کا نام بھی سامنے آیا ہے، جن پر الزام ہے کہ ان کے دور میں فیکٹریوں سے مبینہ طور پر ماہانہ کروڑوں روپے کی غیر رسمی وصولیوں کا سلسلہ جاری رہا۔ تاہم ان الزامات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
ذرائع مزید بتاتے ہیں کہ محکمہ میں افسران کی ترقیوں اور نئی بھرتیوں کے لیے بھی مبینہ طور پر لاکھوں روپے رشوت لینے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔
اس معاملے سے متعلق بعض درخواستیں عدالتوں میں زیر سماعت ہیں اور کچھ فریقین نے حکم امتناع بھی حاصل کر رکھا ہے۔
سرکاری سطح پر تاحال ان الزامات کی تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی، جبکہ معاملے کی مزید تحقیقات کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔




