Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے بشریٰ بی بی سے فیملی اور ذاتی معالج کی ملاقات کی درخواست مسترد کردی

سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی جانب سے بشریٰ بی بی(Bushra Bibi) سے فیملی اور ذاتی معالج کی ملاقات کی درخواست مسترد کیے جانے کے معاملے نے ایک بار پھر عدالتی اور سیاسی حلقوں میں توجہ حاصل کر لی ہے۔

یہ معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں اُس وقت زیرِ سماعت آیا جب بشریٰ بی بی کی بیٹی کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔ کیس کی سماعت جسٹس ارباب محمد طاہر نے کی، جبکہ عدالت میں ایڈووکیٹ جنرل نوید ملک اور اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ ساجد بیگ پیش ہوئے۔ درخواست گزار کی جانب سے معروف وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیے۔

جیل حکام کا مؤقف

سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں مؤقف اختیار کیا کہ قیدیوں سے ملاقاتوں کے بعد بعض اوقات باہر جا کر سیاسی گفتگو اور بیانات دیے جاتے ہیں، جس سے نہ صرف ادارہ جاتی نظم متاثر ہوتا ہے بلکہ سیکیورٹی خدشات بھی پیدا ہوتے ہیں۔

رپورٹ میں خاص طور پر یہ بھی کہا گیا کہ بشریٰ بی بی کی فیملی سے ملاقاتوں کے بعد ان کی بہن مریم ریاض وٹو کی جانب سے سوشل میڈیا پر کیے گئے ٹوئٹس بھی ریکارڈ کا حصہ بنائے گئے ہیں۔ جیل حکام کا مؤقف ہے کہ یہ سرگرمیاں ملاقاتوں کو محض خاندانی یا طبی ضرورت تک محدود رکھنے کے بجائے سیاسی رنگ دے دیتی ہیں۔

درخواست گزار کا مؤقف

دوسری جانب درخواست گزار کی طرف سے موقف اپنایا گیا کہ بشریٰ بی بی کو فیملی سپورٹ اور ذاتی معالج تک رسائی دینا بنیادی انسانی اور قانونی حق ہے، خاص طور پر جب صحت اور ذاتی حالات اس کی ضرورت ظاہر کریں۔

تین روزہ جنگ بندی ختم: روس کا یوکرین کے خلاف فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کا اعلان

وکیل سلمان اکرم راجہ نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ملاقاتوں پر پابندی یا غیر ضروری رکاوٹ قیدی کے بنیادی حقوق سے متصادم ہو سکتی ہے، اس لیے عدالت کو اس معاملے کا قانونی اور انسانی پہلو سے جائزہ لینا چاہیے۔

عدالتی کارروائی

سماعت کے دوران عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد کیس کو مزید غور کے لیے جاری رکھا۔ تاہم فوری طور پر ملاقات کی اجازت یا حکم جاری نہیں کیا گیا۔

پس منظر

بشریٰ بی بی کا نام گزشتہ کچھ عرصے سے مختلف عدالتی اور انتظامی معاملات کے باعث مسلسل خبروں میں رہا ہے، اور ان کی جیل میں موجودگی کے دوران ملاقاتوں اور سہولیات سے متعلق معاملات اکثر قانونی بحث کا حصہ بنتے رہے ہیں۔

یہ کیس بھی بنیادی طور پر اس سوال کے گرد گھوم رہا ہے کہ قیدیوں کے انسانی حقوق، سیکیورٹی خدشات اور سیاسی اثرات کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جائے۔

اگر آپ چاہیں تو میں اس کیس کا “ٹائم لائن” یا آسان الفاظ میں مکمل پس منظر بھی سمجھا سکتا ہوں۔

یہ بھی پڑھیں