Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

آزاد کشمیر کے محکمہ ان لینڈ ریونیو کی کارکردگی سوالیہ نشان، 85 ارب کا ہدف حاصل نہ ہوا

آزاد کشمیر کے محکمہ ان لینڈ ریونیو مالی سال 2025-26 کے لیے مقرر کردہ 85 ارب روپے کے مقامی ٹیکس ہدف کو حاصل کرنے میں ناکام رہا۔

15 مئی تک محکمہ صرف 37 ارب روپے کی وصولی کر سکا، جبکہ باقی 48 ارب روپے کی ریکوری اب محکمہ ان لینڈ ریونیو کے لیے ایک معمہ بن چکی ہے۔

ذرائع کے مطابق ہدف حاصل کرنے کے بجائے محکمہ ان لینڈ ریونیو میں اندرونی سطح پر لوٹ مار کا ایک نیا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے، جس کے تحت جونیئر افسران کو ترقی دے کر ان کے سلیکشن بورڈ تشکیل دیے جا رہے ہیں تاکہ موجودہ وزیر ان لینڈ ریونیو کے مستقبل کے مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔

محکمانہ ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ ان لینڈ ریونیو میں سلیکشن بورڈ کے نام پر 5 کروڑ روپے جمع کیے گئے، جو مبینہ طور پر گریڈ 18 میں ترقی پانے والے ایک افسر کے ذریعے وزیر ان لینڈ ریونیو سمیت اہم حکومتی شخصیات تک پہنچائے گئے۔

ذرائع کے مطابق اس سے قبل محکمہ خوراک میں کابینہ منٹس کے نام پر جی ایس ٹی استثنیٰ کے لیے 1.2 ارب روپے وصول کیے گئے تھے۔ Muzaffarabad میں افواہوں اور چہ مگوئیوں کا بازار گرم ہے جبکہ سیکریٹریٹ کے مصروف دفاتر میں ریونیو وصولیوں سے متعلق کھلے عام گفتگو کی جا رہی ہے۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ٹیکس اہداف حاصل نہ ہونے کی ذمہ داری مقامی سیاسی صورتحال اور جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی پر ڈالی جا رہی ہے۔

دوسری جانب میرپور ڈویژن میں بند سگریٹ فیکٹریوں کو دوبارہ کھولنے اور جعلی سگریٹ مارکیٹ میں فروخت کرنے کی کھلی چھوٹ دے کر حکمران طبقے کے چند افراد نے چند ماہ کے دوران اربوں روپے کمائے، جو آئندہ عام انتخابات کے لیے سگریٹ فیکٹری مالکان سے بھتہ کی صورت میں وصول کیے گئے۔

محکمہ ان لینڈ ریونیو میں جاری مبینہ لوٹ مار کی مصدقہ اطلاعات کے باوجود متعلقہ اداروں کی خاموشی نے نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

وزارت ان لینڈ ریونیو کا دعویٰ ہے کہ انہیں صورتحال پر نظر رکھنے والے حلقوں کی حمایت حاصل ہے، اس لیے انہیں کسی خطرے کا سامنا نہیں۔ محکمہ ان لینڈ ریونیو میں مبینہ کرپشن اور لوٹ مار کی بازگشت ملکی سطح سے بین الاقوامی سطح تک پہنچ چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں