الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں کے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کا فیصلہ کرلیا۔الیکشن کمیشن کے ترجمان کے مطابق سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد کے سلسلے میں اجلاس ہوا جس میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کرنے کا فیصلہ ہوا ہے۔
الیکشن کمیشن نے لیگل ٹیم کو ہدایات دی ہیں کہ فیصلے کے کسی پوائنٹ پر عملدرآمد میں رکاوٹ ہے تو نشاندہی کریں، رکاوٹ ہے تو نشاندہی کریں تاکہ مزید رہنمائی کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے۔
اعلامیہ کے مطابق اگر سپریم کورٹ کے فیصلے کے کسی نقطے پر عمل درآمد میں رکاوٹ ہے تو فورا نشاندہی کریں۔ الیکشن کمیشن کی لیگل ٹیم کو ہدایت اگر کوئی رکاوٹ ہے تو مزید رہنمائی کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے ایک سیاسی جماعت کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر اور ممبران کو مسلسل اور بے جا تنقید کا نشانہ بن بنانے پر کمیشن کی شدید مذمت کمیشن سے استعفے کا مطالبہ مضحکہ خیز ہے۔
اعلامیہ میں مزید کہا گیا کہ کمیشن کسی قسم کے دباؤ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے ائین اور قانون کے مطابق کام جاری رکھے گا۔ الیکشن کمیشن نے کسی فیصلے کی غلط تشریح نہیں کی۔ کمیشن نے تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی انتخابات کو درست قرار نہیں دیا۔ الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف پی ٹی آئی مختلف فورمز پر گئی لیکن ہمارے فیصلے کو برقرار رکھا گیا۔ جن 41 ارکان قومی اسمبلی کو ازاد قرار دیا گیا انہوں نے اپنے کاغذات ہیں نامزدگی میں تحریک انصاف کا ذکر کیا نہ پارٹی کی وابستگی ظاہر کی۔ان ارکان نے الیکشن جیتنے کے بعد قانون کے تحت تین دن کے اندر رضاکارانہ طور پر سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کی سپریم کورٹ میں سنی اتحاد کونسل الیکشن کمیشن اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل میں گئی
جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے بھی بطور ایڈہاک جج کام کرنے سے بھی انکار کر دیا


