گوگل(Google) نے لیپ ٹاپ ٹیکنالوجی میں ایک نئی پیش رفت کرتے ہوئے اپنی نئی اے آئی بیسڈ ڈیوائس “گوگل بک” متعارف کرانے کی تیاری شروع کر دی ہے، جسے مستقبل کی ذہین کمپیوٹنگ کا اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق یہ نئے لیپ ٹاپس روایتی کمپیوٹنگ سے ہٹ کر مکمل طور پر مصنوعی ذہانت پر مبنی تجربہ فراہم کریں گے اور انہیں Microsoft کے “کو پائلٹ پلس پی سیز” کا مضبوط حریف سمجھا جا رہا ہے۔
جیمنائی اے آئی ہوگا مرکزی فیچر
Introducing Googlebook, the first laptop designed for Gemini Intelligence. It’s crafted for heavyweight performance, built with Gemini at the core and perfectly synced with your Android phone. Coming this fall. 💻✨#TheAndroidShow pic.twitter.com/rn4pztApmp
— Google (@Google) May 12, 2026
گوگل بکس کی سب سے نمایاں خصوصیت ان کا Gemini اے آئی سسٹم کے گرد تیار کیا جانا ہے۔ یہ نظام صارف کے استعمال کے انداز کو سمجھ کر مختلف کام خودکار طریقے سے انجام دے سکے گا۔
رپورٹس کے مطابق یہ ڈیوائسز محض روایتی لیپ ٹاپ نہیں ہوں گی بلکہ ایک “انٹیلیجنس بیسڈ کمپیوٹنگ پلیٹ فارم” کے طور پر کام کریں گی۔
کیمبرج نے پاکستان میں اے ایس لیول ریاضی کا پرچہ ملتوی کردیا
کروم بکس سے مختلف نظام
ماہرین کا کہنا ہے کہ گوگل بکس موجودہ Chromebook ڈیوائسز سے کافی مختلف ہوں گی کیونکہ ان میں ایک نیا اور زیادہ جدید آپریٹنگ سسٹم استعمال کیے جانے کا امکان ہے، جو مبینہ طور پر گوگل کے “پروجیکٹ ایلومینیم” سے منسلک ہو سکتا ہے۔
یہ نظام اینڈرائیڈ ایپس کی مکمل سپورٹ فراہم کرے گا، جس سے صارفین موبائل اور لیپ ٹاپ کے درمیان زیادہ مربوط تجربہ حاصل کر سکیں گے۔
“میجک پوائنٹر” اور اسمارٹ فیچرز
گوگل بکس میں “میجک پوائنٹر” نامی ایک جدید فیچر بھی شامل کیا جا رہا ہے، جو اسکرین پر موجود مواد کو سمجھ کر خودکار ایکشن لینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
مثال کے طور پر:
ای میل میں موجود معلومات سے خودکار ایونٹ شیڈول کرنا
تصاویر کو منظم یا یکجا کرنا
صارف کی سرگرمی کے مطابق فوری تجاویز دینا
اس کے علاوہ صارفین اے آئی پرامپٹس کے ذریعے اپنی پسند کے ویجٹس اور شارٹ کٹس بھی تیار کر سکیں گے۔
اینڈرائیڈ فونز کے ساتھ مکمل انضمام
ان لیپ ٹاپس کو اینڈرائیڈ فونز کے ساتھ گہرے انضمام کے ساتھ تیار کیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے فائلز، ایپس، نوٹیفکیشنز اور دیگر ڈیٹا تک فوری رسائی ممکن ہوگی۔
ماہرین کے مطابق یہ فیچر Apple کے میک بک اور آئی فون کے مربوط سسٹم کو براہِ راست چیلنج کر سکتا ہے۔
بڑی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری
Google نے ان ڈیوائسز کی تیاری کے لیے Acer، ASUS، Dell، HP اور Lenovo جیسی عالمی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ان لیپ ٹاپس کے ڈیزائن میں “گلو بار” نامی خصوصی لائٹ اسٹرپ بھی شامل ہوگی، جو انہیں منفرد ظاہری شکل دے گی۔
متوقع قیمتیں
اگرچہ گوگل نے ابھی تک باضابطہ قیمتوں کا اعلان نہیں کیا، تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ گوگل بکس کی قیمتیں روایتی کروم بکس سے نمایاں طور پر زیادہ ہوں گی۔
ابتدائی ماڈلز کی قیمت تقریباً:
800 سے 1,000 امریکی ڈالر
(تقریباً 2 لاکھ 20 ہزار سے 2 لاکھ 80 ہزار پاکستانی روپے)
جبکہ ہائی اینڈ ماڈلز کی قیمت:
1,200 سے 1,500 امریکی ڈالر
(تقریباً 3 لاکھ 30 ہزار سے 4 لاکھ روپے یا اس سے زائد)
ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
کن ڈیوائسز سے مقابلہ؟
ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق گوگل اپنی نئی ڈیوائسز کو Microsoft Surface اور MacBook Air کے مقابلے میں متعارف کرا رہا ہے، اس لیے قیمتوں اور فیچرز کا معیار بھی انہی ڈیوائسز کے قریب رکھا جا سکتا ہے۔
پاکستان میں درآمدی ڈیوٹیز اور ٹیکسز کے باعث ان لیپ ٹاپس کی قیمت عالمی مارکیٹ کے مقابلے میں زیادہ ہونے کا امکان ہے، جبکہ باضابطہ لانچ اور قیمتوں کا اعلان آئندہ چند ہفتوں میں متوقع بتایا جا رہا ہے۔

