ایران کے اسکول حملے کی تحقیقات عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں اقوام متحدہ نے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
جنیوا میں ہونے والے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں مختلف ممالک نے اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
شجرہ طیبہ اسکول پر حملے میں ایرانی حکام کے مطابق 175 سے زائد بچے اور اساتذہ جان سے گئے، جو ایک بڑا سانحہ قرار دیا جا رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ نے امریکہ سے کہا ہے کہ وہ اپنی تحقیقات جلد مکمل کرے اور نتائج عوام کے سامنے لائے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق امریکی فوجی حکام کو شبہ ہے کہ اس حملے میں ان کی فورسز ملوث ہو سکتی ہیں، تاہم حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
ایران نے اس واقعے کی سخت مذمت کی ہے اور انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ اس سانحے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
پاکستان اور چین سمیت کئی ممالک نے اس واقعے پر دکھ اور غم کا اظہار کیا اور اسے انسانی اقدار کی خلاف ورزی قرار دیا۔
متاثرہ خاندانوں نے بھی انصاف کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ دنیا بچوں کی جانوں کی قدر کرے۔
ایران کے اسکول حملے کی تحقیقات اب عالمی برادری کے لیے ایک اہم معاملہ بن چکی ہیں اور سب کی نظریں نتائج پر ہیں۔

