تہران: ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے پہلے سرکاری پیغام میں امریکی فوجی اڈوں کی بندش کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں موجود تمام امریکی فوجی اڈے فوری طور پر بند کیے جائیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ اڈے بند نہ کیے گئے تو انہیں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی بندش دشمن پر دباؤ ڈالنے کا ایک اہم ذریعہ ہے اور اسے برقرار رکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے مناب کے ایک اسکول پر حملے کا حوالہ دیتے ہوئے شہدا کے خون کا بدلہ لینے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ایران پر حملوں میں بعض ہمسایہ ممالک کی سرزمین استعمال ہوئی، لیکن اس کے باوجود ایران اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات کو متاثر نہیں کرنا چاہتا۔
ایران کی سپریم قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی نے بھی خبردار کیا کہ اگر ایران کے بجلی کے نظام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی تو اس کے اثرات پورے خطے میں محسوس ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ایران کی بجلی کی صلاحیت کو نشانہ بنایا گیا تو چند ہی منٹوں میں پورا خطہ تاریکی میں ڈوب سکتا ہے، جس سے خطے میں موجود امریکی فوجیوں کی سلامتی بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
ادھر ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ اگر ایران کے جزیروں پر حملہ کیا گیا تو ایران اس کا سخت اور مکمل جواب دے گا۔
دوسری جانب ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرم نیا نے دعویٰ کیا کہ ایرانی فوج نے اسرائیل کے بعض اہم فوجی مقامات کو نشانہ بنایا ہے اور کارروائیاں پہلے سے زیادہ درست ہو رہی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے باعث خلیجی خطے میں سکیورٹی صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے، جبکہ خلیجی ممالک نے تنازع کے حل کے لیے سفارت کاری اور مذاکرات پر زور دیا ہے۔

