ایران کے خلیجی نقل و حمل اور توانائی مراکز پر حملے کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ پیر کے روز ایران نے خطے کے مختلف مقامات پر حملے کیے جس کے بعد صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تہران میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے دفاع کے لیے جنگ کو جہاں تک ضروری ہوا جاری رکھے گا۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق اسرائیل اور خلیجی ممالک میں متعدد مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں میں اسرائیل کے ہوائی اڈے اور امریکی فوجی اڈے شامل تھے جو متحدہ عرب امارات اور بحرین میں موجود ہیں۔
اسی دوران دبئی کے قریب ایک ڈرون حملے سے ایندھن کے ٹینک میں آگ لگ گئی جس کے باعث ہوائی اڈے پر مسافروں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا۔
ابوظہبی میں ایک میزائل حملے کے نتیجے میں گاڑی میں سوار ایک شہری ہلاک ہو گیا جبکہ فجیرہ میں تیل کے انفراسٹرکچر کے قریب ڈرون حملے سے آگ بھڑک اٹھی۔
ادھر تہران میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں جبکہ فضائی دفاعی نظام کو فعال کر دیا گیا۔ اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران کے شہروں شیراز اور تبریز میں فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان نے کہا کہ ایران کے اندر اب بھی ہزاروں اہداف موجود ہیں اور ہر روز نئے مقامات کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔
ان حملوں کے بعد عالمی تیل کی منڈی شدید متاثر ہوئی ہے۔ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی متاثر ہونے سے تیل کی قیمتوں میں چالیس سے پچاس فیصد تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی طاقتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کے تحفظ کے لیے بحری جہاز تعینات کریں۔
دوسری جانب اسرائیل نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے خلاف محدود زمینی کارروائی شروع کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔
سعودی عرب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایک رات میں ساٹھ سے زائد ڈرون تباہ کیے جبکہ بغداد کے ہوائی اڈے کے قریب راکٹ حملے میں پانچ افراد زخمی ہوئے۔
ایران کے مطابق اب تک امریکہ اور اسرائیل کے اہداف پر تقریباً سات سو میزائل اور تین ہزار چھ سو ڈرون فائر کیے جا چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے پناہ گزین ادارے کے مطابق جنگ کے باعث ایران میں تقریباً بتیس لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
اس کے باوجود تہران میں معمولاتِ زندگی جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئے ہیں اور بازاروں اور کیفے دوبارہ کھلنا شروع ہو گئے ہیں۔


