ترکی کے قریب بحیرہ اسود میں روسی تیل بردار جہاز پر ڈرون حملہ ہوا جس کے نتیجے میں دھماکہ پیش آیا۔ حکام کے مطابق تمام عملہ محفوظ رہا۔
ترک وزیر ٹرانسپورٹ عبدالقادر اورال اوغلو نے بتایا کہ جہاز کو سمندری ڈرون نے نشانہ بنایا۔ یہ واقعہ باسفورس آبنائے کے قریب پیش آیا جو عالمی تجارت کے لیے اہم راستہ ہے۔
جہاز میں 27 افراد سوار تھے۔ واقعے کے بعد ترک ساحلی محافظ دستے فوری طور پر مدد کے لیے روانہ ہوئے۔
یہ جہاز روس کی نووروسیسک بندرگاہ سے تقریباً دس لاکھ بیرل خام تیل لے کر روانہ ہوا تھا۔ اطلاعات کے مطابق جہاز مکمل طور پر بھرا ہوا تھا۔
ابتدائی معلومات کے مطابق حملے کا نشانہ انجن کا حصہ تھا جس سے پانی داخل ہوا اور نقصان پہنچا۔ عملے نے فوری طور پر حکام سے مدد طلب کی۔
بحیرہ اسود کا خطہ روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے باعث حساس بنا ہوا ہے۔ حالیہ مہینوں میں ایسے کئی واقعات سامنے آئے ہیں۔
ابھی تک ماسکو اور کیف کی جانب سے اس واقعے پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔


