Search
Close this search box.
جمعه ,05 جون ,2026ء

مسجد اقصیٰ تک رسائی کا مطالبہ، آٹھ مسلم ممالک کی اسرائیل کے خلاف مشترکہ آواز

مسجد اقصیٰ تک رسائی کا مطالبہ

آٹھ مسلم ممالک نے منگل کے روز مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ تک رسائی کا مطالبہ کرتے ہوئے اسرائیلی پابندیوں کی شدید مذمت کی۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ یہ اقدامات مذہبی آزادی کی خلاف ورزی ہیں۔

پاکستان، سعودی عرب، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکی اور قطر کے وزرائے خارجہ نے اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل مسلمانوں کو مسجد اقصیٰ تک جانے سے روک رہا ہے جبکہ مسیحیوں کو بھی اپنی عبادت گاہوں میں جانے سے محدود کیا جا رہا ہے۔

وزرائے خارجہ نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر مسجد اقصیٰ کے دروازے کھولے۔ انہوں نے بیت المقدس کے قدیم شہر میں عائد تمام پابندیاں ختم کرنے کا بھی کہا۔

اعلامیے کے مطابق عبادت گزاروں کو روکنا بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔ اس سے مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو نقصان پہنچتا ہے۔

مسلم ممالک نے مقدس مقامات کی حیثیت تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات ناقابل قبول ہیں۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ کو مسلسل 30 دن تک بند رکھا گیا، حتیٰ کہ رمضان کے دوران بھی۔ اس عمل کو اشتعال انگیز قرار دیا گیا۔

وزرائے خارجہ نے خبردار کیا کہ ایسے اقدامات خطے میں کشیدگی بڑھا سکتے ہیں اور عالمی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری سے فوری اقدام کا مطالبہ کیا۔

اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ کا پورا احاطہ مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے۔ اس کے انتظام کا اختیار صرف یروشلم اوقاف کے پاس ہے۔

آخر میں آٹھوں ممالک نے عالمی طاقتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کو اپنی کارروائیاں روکنے پر مجبور کریں اور مقدس مقامات کے احترام کو یقینی بنائیں۔

یہ بھی پڑھیں