مسئلہ… بند نہیں، کھُلی عدالتیں ہیں!!
گزشتہ ہفتے، تین معزز جج صاحبان نے، مختلف مواقع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ چیف جسٹس، مسٹر جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے جسٹس اطہرمن اللہ کے تحریر کردہ ایک فیصلے سے جزوی اختلاف کرتے ہوئے اپنے نوٹ میں افسوس
گزشتہ ہفتے، تین معزز جج صاحبان نے، مختلف مواقع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ چیف جسٹس، مسٹر جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے جسٹس اطہرمن اللہ کے تحریر کردہ ایک فیصلے سے جزوی اختلاف کرتے ہوئے اپنے نوٹ میں افسوس
’جارُوب‘ یعنی جھاڑو، فرش پہ بکھری پڑی اشیاء میں کوئی امتیاز نہیں کرتا۔ سب کچھ سمیٹ کر کسی کونے میں جمع کردیتا ہے۔ جھاڑو پھیرنے ہی کے انداز میں، کسی موضوع کا باریک بینی سے جائزہ لینے اور ٹھوس موقف
سپریم کورٹ کے تیرہ رُکنی بینچ میں شامل آٹھ معزز جج صاحبان کے ’’تاریخ ساز‘‘ فیصلے کی رُو سے خواتین اور اقلیتوں کی متنازعہ نشستیں عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے والی ’’سُنّی اتحاد کونسل‘‘ کو ملیں گی نہ اسمبلیوں میں موجود
سات سال قبل، 2017ء کے یہی روزوشب تھے جب ایک منصوبہ بند سازش کے ذریعے شاہراہ مستقیم پر چلتے پاکستان کو بے برگ وثمر دلدلی جنگلوں کی طرف دھکیل دیاگیا۔ یہ سوال اَن گنت مرتبہ پوچھاگیا اور شاید برسوں بعد
9 مئی 2023ء کی پہلی سالگرہ کے ساتھ ہی، 365 دنوں پر محیط لمبی ڈھیل کو فولادی ڈھال بناتے ہوئے، پی۔ٹی۔آئی ایک اور فیصلہ کن 9 مئی کے لئے ہتھیار تیز کررہی ہے۔ اُس کا لہجہ ’’بہارِ اقتدار‘‘ کے خوش
کیا پاکستان واقعی کسی آتش فشاں کے دہانے پہ کھڑا ہے جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے اور کھولتا ہوا لاوہ سب کچھ خاکستر کر دینے کو ہے؟ کیا ہم واقعی کسی ایسے سنگین بحران سے دوچار ہیں جس
دو تین دِن قبل ایک شوخ وچنچل اور فکر انگیز خبر پر نگاہ پڑی۔ ’’لاہور ہائیکورٹ کے جج، مسٹر جسٹس شاہد کریم نے حکمِ امتناعی جاری کرتے ہوئے، 13 مئی تک حکومت پنجاب کو طلبہ وطالبات میں موٹر سائیکل تقسیم
کل، 8 مئی کی نصف شب، 9 مئی 2023 ء کو ایک برس بیت جائے گا۔ 365 دِن۔ 365 راتیں۔ ہماری سیاست رنگا رنگ احتجاجوں اور تحریکوں سے بھری پڑی ہے۔ سیاست دانوں کے حوالے سے پھانسی گھاٹوں، قتل گاہوں،
استاد داغ دہلوی نے کہا تھا کس کا یقین کیجئے، کس کا یقیں نہ کیجئے لائے ہیں اُس کی بزم سے یار خبر الگ الگ کچھ یہی احوال تحریکِ انصاف کا ہے۔ اپنی اپنی بولیاں بولنے والے راہنمائوں کی رنگارنگ
لگ بھگ 83 برس بعد، جماعت اسلامی کا قافلۂِ سخت جاں سید مودودی، میاں طفیل محمد، قاضی حسین احمد، سید منور حسن اور سراج الحق سے ہوتا ہوا، عروس البلاد کراچی کے مردِآتش بجاں، حافظ نعیم الرحمن تک آن پہنچا