فیلڈ مارشل عاصم منیر: تسخیر سےناقابلِ تسخیر تک
قومیں خوابوں سے بنتی ہیں لیکن وہ خواب جن کی تعبیر میدانِ عمل میں دکھائی دے وہی قوموں کی تاریخ میں سنگِ میل بنتے ہیں۔ پاکستان کی عسکری تاریخ میں کئی ایسے لمحات آئے جب جرات حوصلے اور قیادت کی
قومیں خوابوں سے بنتی ہیں لیکن وہ خواب جن کی تعبیر میدانِ عمل میں دکھائی دے وہی قوموں کی تاریخ میں سنگِ میل بنتے ہیں۔ پاکستان کی عسکری تاریخ میں کئی ایسے لمحات آئے جب جرات حوصلے اور قیادت کی
پاکستان،چائنا انسٹیٹیوٹ کی تازہ ترین رپورٹ ’’16 گھنٹے میں جنوبی ایشیاء کی تاریخی تبدیلی‘‘ منظرعام پر آئی ہے جس کے مطابق پاکستان نے نہ صرف خطے کے تزویراتی خدوخال کو بدل کر رکھ دیا ہے بلکہ عالمی برادری کو بھی
جب اسلام کا پیغام مدینہ کی سرزمین میں جڑ پکڑنے لگا اور جب رسولِ رحمت ﷺ کی قیادت میں ایک فکری اور اخلاقی انقلاب برپا ہو رہا تھا تو عرب کے ان سرداروں کی آنکھوں میں یہ چراغ آنکھوں کا
فوجی قیادت کی تاریخ ایسے جری اور باصلاحیت سپہ سالاروں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے نہ صرف میدانِ جنگ میں فیصلہ کن کردار ادا کیا بلکہ اپنی قوموں کی تقدیر بھی بدل ڈالی۔ اس سفر کا نقط آغاز نپولین
جنوبی ایشیا ایک بار پھر عالمی طاقتوں کے گھنائونے کھیل کا میدان بن چکا ہے۔ بظاہر تو منظرنامے پر بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک روایتی فوجی کشیدگی دکھائی دی لیکن حقیقت کہیں زیادہ گہری، پیچیدہ اور خطرناک ہے۔ پاکستان
جے 10 سی ڈریگن کا شمار دنیا کے جدید ترین 4++ جنریشن لڑاکا طیاروں میں ہوتا ہے۔ یہ وہ طیارہ ہے جو عام فضائی لڑائیوں یا چھوٹے موٹے طیاروں کو گرانے کے لیے نہیں بلکہ اس سے کہیں بڑی سطح
تاریخ انسانیت میں مظلوموں کی آہیں بے اثر نہیں رہتیں۔ جو قومیں صدیوں تک ظلم سہتی رہیں جب ان کی دعائیں عرش تک پہنچتی ہیں تو پھر عرش سے فیصلہ زمین پر نازل ہوتا ہے۔ مسلمانانِ عالم پچھلی چند دہائیوں
ہفتے کی علی الصباح جب پوری قوم نماز فجر کی تیاری کر رہی تھی پاکستان کی مسلح افواج ایک ایسے فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی تھیں جو نہ صرف ملک کی سالمیت کے دفاع کے لیے ناگزیر تھا
لڑاکا طیارے جدید جنگی میدان میں کسی بھی ملک کی دفاعی صلاحیت کا بنیادی جزو ہوتے ہیں۔ اکیسویں صدی کی جنگیں محض تعداد یا ہتھیاروں کے انبار پر نہیں بلکہ ٹیکنالوجی، درستگی، اسمارٹ وار فیئر اور فضا پر کنٹرول کی
دنیا میں انسان نے جتنی ترقی کی ہے اتنے ہی خطرناک ہتھیار بھی ایجاد کرلئے ہیں۔ ان میں سب سے تباہ کن ہتھیار ایٹم بم ہے۔ اگرچہ یہ ہتھیار جنگی مقاصد کے لیے بنایا گیا مگر اس کے اثرات صرف