لڑاکا طیارے جدید جنگی میدان میں کسی بھی ملک کی دفاعی صلاحیت کا بنیادی جزو ہوتے ہیں۔ اکیسویں صدی کی جنگیں محض تعداد یا ہتھیاروں کے انبار پر نہیں بلکہ ٹیکنالوجی، درستگی، اسمارٹ وار فیئر اور فضا پر کنٹرول کی بنیاد پر لڑی جاتی ہیں۔ ایسے میں فرانس کا تیار کردہ’’رافیل‘‘ (Rafale) لڑاکا طیارہ دنیا بھر میں اپنی مہارت، رفتار اور جدید ٹیکنالوجی کی بدولت ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ بھارت نے اسے فخر کے ساتھ اپنی فضائیہ میں شامل کیا، لیکن حالیہ دنوں میں پاکستان نے نہ صرف اس فخر کو چیلنج کیا بلکہ اپنے دفاع میں اسے فضا میں ہی خاک میں ملا دیا۔ یہ کامیابی نہ صرف پاکستان کی فضائی قوت کی گواہی ہے بلکہ رافیل جیسے ’’مہنگے خواب‘‘کی حقیقت بھی آشکار کرتی ہے۔ دنیا بھر میں جنگ کے دوران تباہ ہونے والا یہ پہلا رافیل طیارہ ہے اور اسکی تباہی کے ساتھ ہی رافیل بنانے والی کمپنی پر بھی سوالیہ نشان اٹھنے لگے اور دیکھتے ہی دیکھتے عالمی مارکیٹ میں بھی کمپنی کے شئیرز کی قیمت بھی گرنے لگ گئے۔
رافیل طیارہ فرانس کی مشہور دفاعی کمپنی ’’ڈاسو ایوی ایشن‘‘ (Dassault Aviation) کا تیار کردہ ہے جس کا شمار دنیا کی بہترین طیارہ ساز کمپنیوں میں ہوتا ہے۔ اس پروگرام کا آغاز 1980 ء کی دہائی میں ہوا تاکہ فرانس کی فضائیہ اور بحریہ کو ایک ہمہ گیر، جدید اور کثیر المقاصد لڑاکا طیارہ مہیا کیا جا سکے۔ ابتدائی منصوبہ بندی کے مطابق یہ طیارہ 1996 ء میں سروس میں آنا تھا تاہم سرد جنگ کے خاتمے کے بعد دفاعی بجٹ میں کٹوتی اور دیگر ترجیحات کے باعث اس میں تاخیر ہوئی اور بالآخر 2001 میں فرانس کی فضائیہ اور بحریہ کے لیے باضابطہ طور پر رافیل متعارف کرایا گیا۔رافیل تین مختلف ماڈلز میں دستیاب ہے:رافیل سی (Rafale C) – ایک نشست والا زمین سے اڑنے والا ورژنرافیل بی (Rafale B) – دو نشستوں والا زمین سے اڑنے والا تربیتی اور آپریشنل ورژنرافیل ایم (Rafale M) – ایک نشست والا بحری طیارہ جو طیارہ بردار جہاز سے اڑان بھر سکتا ہے۔
رافیل کو فرانس کے علاوہ کئی ممالک نے خریدا۔ ان میں مصر، بھارت، قطر، یونان، کروشیا، انڈونیشیا، متحدہ عرب امارات اور سربیا شامل ہیں۔ اس طیارے کی عالمی کامیابی کی بنیادی وجہ اس کی ہمہ جہت خصوصیات ہیں جن میں سپرسانک رفتار، جدید ریڈار نظام، الیکٹرانک وارفیئر صلاحیت، جدید میزائل سسٹم اور فضا سے زمین اور فضا سے فضا میں مار کرنے کی طاقت شامل ہے۔رافیل کو افغانستان، لیبیا، مالی، عراق اور شام میں جنگی آپریشنز کے دوران استعمال کیا جا چکا ہے۔ بھارتی فضائیہ نے بھی اسے لائن آف کنٹرول کے قریب استعمال کیا جہاں اس کا آمنا سامنا پاکستان کی فضائی قوت سے ہوا۔پاکستان نے رافیل کی ممکنہ آمد کو شروع دن سے سنجیدگی سے لیا۔ پاکستان ایئر فورس (PAF) نے نہ صرف اپنی دفاعی حکمت عملی کو جدید خطوط پر استوار کیا بلکہ JF-17 تھنڈر جیسے خود ساختہ لڑاکا طیاروں کی جدید اقسام جیسے کہ ’’بلاک III‘‘ کو تیزی سے ڈیولپ کیا۔ اس کے علاوہ چین سے جدید دفاعی نظام، ریڈار، اور میزائل ٹیکنالوجی بھی حاصل کی گئی۔
پاکستان کی فضائیہ نے ڈاگ فائٹ، الیکٹرانک وارفیئر، اور ریڈار جامنگ جیسے شعبوں میں مہارت حاصل کی اور اپنے پائلٹس کو ہر ممکن تربیت فراہم کی تاکہ کسی بھی قسم کے جارحانہ اقدام کا موثر جواب دیا جا سکے۔رواں ماہ مئی کے چھ اور سات تاریخ کی درمیانی رات بھارتی فضائیہ کے رافیل طیارے پاکستانی فضائی حدود کے قریب مشکوک پروازیں کرتے پائے گئے۔ ان طیاروں نے بعد ازاں پاکستان پر حملہ کرتے ہوئے میزائیل برسا دئیے ۔ پاکستان ایئر فورس کے تیار شاہینوں نے فوری ردعمل دیا۔ JF-17 تھنڈر طیارے فضا میں بلند ہوئے اور ایک مختصر مگر انتہائی تیز رفتاری سے بھرپور فضائی جھڑپ میں دو بھارتی رافیل طیاروں کو نشانہ بنا کر ہوا ہی میں تباہ کر دیا۔
اس کارروائی کے شواہد خود انڈین میڈیا اور سوشل میڈیا نے دنیا کے سامنے پیش کر دئیے۔ جن میں تباہ شدہ طیارے کے ملبے، پرزے اور فضا میں بھارتی طیاروں کی حرکتوں کی ویڈیوز شامل تھیں۔ بھارتی حکومت نے ابتدائی طور پر اس واقعے کی تردید کی، لیکن بعد میں عالمی میڈیا اور سیٹلائٹ شواہد کے دبا پر بھی ابھی تک اس نقصان کو تسلیم کرنے سے گھبرا رہا ہے۔ مگر امریکہ سمیت پوری دنیا رافیل کی تباہی کو تسلیم کر چکی ہے۔
رافیل کی قیمت، آپریشنل لاگت، اور محدود تعداد اسے ایک ’’مہنگا خواب‘‘ بناتی ہے۔ ایک رافیل طیارے کی قیمت تقریبا 218 ملین امریکی ڈالر ہے جو کہ نہ صرف خریداری بلکہ اس کی دیکھ بھال اور آپریشنل اخراجات کو بھی مدنظر رکھتے ہوئے ایک بڑا بوجھ ہے۔ بھارت نے 36 طیارے خرید کر سمجھا کہ وہ خطے میں فضائی برتری حاصل کر لے گا مگر پاکستان کی بروقت تیاری، موثر حکمت عملی، اور جذبہ ایمانی نے ان خوابوں کو چکنا چور کر دیا۔
رافیل کی شکست نے ایک بات واضح کر دی ہے کہ جنگیں صرف ہتھیاروں سے نہیں جیتی جاتیں بلکہ جذبے، پیشہ ورانہ مہارت اور حکمت عملی سے فتح حاصل ہوتی ہے۔ پاکستان نے دنیا کو دکھا دیا کہ محدود وسائل کے باوجود اگر قوم تیار ہو، دفاع مضبوط ہو اور قیادت سنجیدہ ہو تو دشمن کے جدید ترین ہتھیار بھی ناکام ہو سکتے ہیں۔یہ واقعہ نہ صرف پاکستان کے لیے فخر کا باعث ہے بلکہ بھارت کے لیے ایک لمحہ فکریہ بھی۔ کیا صرف مہنگے ہتھیار خریدنے سے کوئی ملک ناقابل تسخیر بن سکتا ہے؟ کیا قومی سلامتی صرف ڈیلز اور معاہدوں سے ممکن ہے؟ پاکستان نے ایک بار پھر اپنے دشمن کو یہ پیغام دیا ہے کہ یہ قوم نہ جھکنے والی ہے، نہ بکنے والی۔
رافیل طیارہ بھارت کی فضائی قوت کا وہ ہتھیار ہے جسے نئی دہلی نے دشمنوں کے لیے ’’کھیل کا خاتمہ‘‘ قرار دیا تھا۔ لیکن پاکستان نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت، بروقت تیاری اور غیر متزلزل عزم سے اس غرور کو خاک میں ملا دیا۔
بھارتی فضائیہ کے رافیل طیارے کے تباہ ہونے کا واقعہ صرف بھارت کے لیے ہی نہیں، بلکہ فرانس کے دفاعی صنعت کے لیے بھی ایک بڑا دھچکا ہے۔ رافیل طیارہ طویل عرصے سے ایک قابلِ اعتماد، جدید اور مہنگا جنگی طیارہ سمجھا جاتا رہا ہے، جسے بھارت سمیت کئی ممالک نے اربوں ڈالرز میں خریدا۔ تاہم اس حادثے نے اس کی ساکھ پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ اس صورتحال کا سب سے زیادہ فائدہ امریکہ کو ہو سکتا ہے، جو ایف-16، ایف-18 اور خاص طور پر جدید ترین ایف-35 طیاروں کی فروخت کے لیے پہلے ہی دنیا بھر میں سرگرم ہے۔ ممکن ہے کہ مستقبل میں کئی ممالک رافیل کے بجائے امریکی طیاروں کو ترجیح دیں، کیونکہ وہ نہ صرف تکنیکی لحاظ سے مضبوط سمجھے جاتے ہیں بلکہ امریکی اثرورسوخ کی بدولت ان کی فروخت بھی زیادہ موثر ہوتی ہے۔