Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

اعتمادواعتبار

مجھے اس بات کاشدت سے احساس ہے کہ ہم پچھلی سات دہائیوں سے ایک ایسی شکستہ کشتی کے سوارہیں جن کے پتوارہمیشہ سے اناڑی ملاحوں کے ہاتھ میں رہے ہیں اوروہ کشتی کو کنارے پر لگانے کی بجائے خطرناک طوفانوں کے لرزہ خیز بھنورمیں پھنساکرخودراہِ فرار اختیار کرلیتے ہیں اور مسافر(قوم)ان دھوکہ بازوں سے جاں بخشی کے لئے سجدوں میں مناجات میں تومصروف رہتی ہے لیکن آگے بڑھ کران کے ہاتھوں سے پتوارچھین کراس کشتی کارخ کنارے کی طرف موڑنے کی کوئی کوشش نہیں کرتی۔ان حالات میں بڑے سوزوگداز اور چیخ وپکارکیساتھ پچھلی کئی دہائیوں سے ہرروزاپنے کالمزمیں پوری قوت کے ساتھ ڈھول پیٹ کرسوئی ہوئی قوم کوجگانے کی کوشش کررہاہوں لیکن بعض اوقات محسوس ہوتاہے کہ یہ قوم سونے کی ایکٹنگ کر رہی ہے جس کوجگانے کے لئے اب اسرافیل کے صورکی ضرورت ہے۔
دو برس قبل لندن میں عالمی مالیاتی اداروں کی طرف سے تیسری دنیاکے ذمے بے تحاشہ واجب الاداقرضوں کی ادائیگی کی مشکلات کے بارے میں ایک سیمینارمنعقدکیاگیاجس میں تیسری دنیاکے 29ممالک اورترقی پذیرملکوں کے پانچ ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی،مجھے انتہائی دکھ کے ساتھ یہ بتاناپڑرہاہے کہ اس اجلاس میں ہمارے مقتدرحلقوں کی لاپرواہی کایہ عالم تھاکہ کوئی ایک بھی نمائندہ اس میں شامل نہیں ہوا۔ اس اجلاس کالب لباب ایک فقرے میں بتاناچاہتاہوں کہ مجھے خودآئی ایم ایف کے نمائندے نے شکائتی انداز میں یہ کہاکہ آپ کی حکومت کوکس نے روکاہے کہ وہ اس معاہدے کوقوم کے سامنے لے آئے جس پرعمران خان کی حکومت نے جن شرائط پردستخط کئے تھے لیکن اپنی حکومت کو خطرے میں دیکھ کراس نے اس معاہدے کے پرزے کردیئے۔آپ اگر تحریری معاہدوں کایہ حال کرتے ہیں توپھرہم آپ پردوبارہ اعتمادکیوں کریں۔ پاکستان کوئی عام ملک نہیں بلکہ ایک نیوکلیئر طاقت کاحامل ملک ہے اورکیادیوالیہ ہونے کی صورت میں عالمی پابندیوں کابوجھ اٹھاسکے گاجبکہ آپ کے ملک کے پچاس فیصد اثاثے توہمارے ہاں گروی پڑے ہوئے ہیں۔ آپ ہماری ویب سائٹ پرجاکران تمام معاہدوں کی تفصیلات کیوں نہیں پڑھتے جہاں ہم نے ان تمام شرائط پرآپ کے حکمرانوں کے دستخط شائع کررکھے ہیں۔ یقین کریں کہ اس کی یہ گفتگوسن کرمجھ پرگھڑوں پانی پڑگیااورمیں اب تک ندامت کے بحرقلزم میں غوطے کھارہاہوں۔ خدارا، اب بھی وقت ہے کہ چہرے نہیں، نظام بدلیں۔ نئے اورپرانے پاکستان کے نعرے لگانے والے چہروں نے ہمیں بربادکرکے رکھ دیاہے اور اب ایک مرتبہ پھرڈوبتی کشتی کے پتوارانہی کے ہاتھوں میں تھمادیئے ہیں۔
جب بھی کوئی سرکارگڈلائف کے پنجرے کی اسیرہوئی،اس کے نتیجے میں خلقت صرف حقیر ہوئی۔ عوام کے سامنے اپنے تمام عیوب،ناکامیاں گزشتہ حکومت پرڈال کرجان نہیں چھڑائی جاسکتی۔صرف ماضی کے ہی تذکرے نہ کریں،عوام کے علم میں سب کچھ ہے،اب باتوں کی بجائے عمل کرکے دکھائیں،عوام کودئیے گئے ریلیف سے ہی ان کے گریف ختم ہوں گے۔انسان کے جذبات ناقابل تسخیرہوتے ہیں۔مگریہ بھی توسوچیں کہ ان کے دردکے فاصلوں کو کیسے کم کرناہے ۔فاصلے توایک ہی جسم میں دل و دماغ کے درمیان دشمنی لگادیتے ہیں۔ایسے میں دل اپنانہ دماغ حالانکہ ان کی ورکنگ ریلیشن شپ سے ہی قدم آگے بڑھتے ہیں ۔ اب اس بیمارسوچ کوذہن سے کھرچ کر نکالنا ہوگاکہ ان دونوں کی لڑائی میں ہمارافائدہ ہے۔ سیلاب اورزلزلہ جھونپڑی اورمحلات میں کوئی لحاظ نہیں رکھتا۔ سرکارکادعوی ہے کہ ہم نے ملک کودیوالیہ سے بچالیاہے۔اگریہ واقعی پاکستان پہلے سے بہترہوگیا ہے ،لوگ توتب مانیں گے۔
تمہیں ملنے سے بہتر ہو گیا ہوں
میں صحرا تھا سمندر ہو گیا ہوں
صحرامیں سراب بھی کسی خوبصورت خواب سے کم نہیں دکھائی دیتاجس کی مرہون منت آنکھیں امیدسے’’تربتر‘‘رہتی ہیں۔ امید کسی حال میں بھی نہیں ٹوٹنی چاہئے بصورت دیگر انجام اس عمارت کی طرح کاہوتاہے جولمحوں میں مسمارہوجاتی ہے۔ امیدکو بارود کے ساتھ ساتھ ’’نمرود‘‘سے بھی بچانا ہوتاہے کیونکہ یہ زندگی کی سب سے واضح علامت ہوتی ہے۔ یہ وہ سورج ہے جورات کوبھی روشن رکھتا ہے۔امیدٹوٹ گئی توسمجھوکہ قسمت ہی پھوٹ گئی۔ اب میڈیاپراس طرح فتح کے ڈونگرے برسائے جارہے ہیں جیساکہ جلدہی شہد اور دودھ کی نہریں بہناشروع ہوجائیں گی لیکن اس کے ساتھ یہ بھی سننے کومل رہاہے کہ ملکی معیشت کے لئے سخت فیصلے کرنے پڑے ہیں۔اوپرتبدیلی آگئی ہے مگرنیچے اسی طرح کے سخت فیصلے ہوں گے؟گستاخی معاف! اس کا مطلب تویہ ہواکہ صرف چہرے ہی بدلے ہیں۔اپنے اداروں کی توقیرکاخیال نہ کیاتوکل کلاں خودبھی بے آبروہونے میں دیرنہیں لگے گی۔
جب کبھی اسلامی معیشت کانام لیاجائے تو چاروں طرف سے خودساختہ معاشی ماہرین کی طرف سے غریبوں کی فلاح وبہبود کے لئے سیون اسٹار ہوٹلزمیں پھولوں سے سجی میزوں پرمنرل واٹر اورقیمتی کھانوں کے بے تحاشہ اخراجات کے بعد پروگرامز کی ایک لمبی فہرست ترتیب دی جاتی ہے جس میں ایسے پلان شامل کردیئے جاتے ہیں جن سے اہل اقتدارکے لئے لوٹ مارکاایک لامتناہی سلسلہ مستور ہوتاہے جبکہ حقیقتاً اسلامی معیشت کاخلاصہ تین مختصر فقروں میں بیان کیا جا سکتاہے اوراس پراگرنیک نیتی سے عملدرآمدکیاجائے تواس کے بہترین نتائج سے ملک وملت کی تقدیربدلی جاسکتی ہے۔
اسلامی معیشت کاسب سے پہلااصول یہ ہے کہ ملک کاسب سے بڑھیاآدمی معاشی اعتبارسے سب سے گھٹیازندگی گزارے جیسے کہ خلفائے راشدین عملاً ایساکرتے تھے۔ حضرت عمرؓ کے دور میں مدینہ منورہ میں مفلسین مساکین کی ایک فہرست تیارکی گئی اوران کی درجہ بندی کی گئی۔ جب فہرست تیارہوگئی توسب سے پہلے نمبرپرجونام آیاجوسب سے زیادہ مفلس تھا،وہ خودخلیفہ وقت حضرت عمرؓکانام تھا۔اس کا فائدہ یہ ہوتاہے کہ عوام اپنے بڑوں کودیکھ کران کے طرززندگی کواپنانے کی کوشش کرتے ہیں اوران سے برابری کی کوشش کرتے ہیں کیوںکہ وہ اسی کومعیاربناتے ہیں جس سے عوام میں حرص اورلالچ بڑھتی ہے۔پیسہ جمع کرنے کی ہوس بڑھتی ہے جس کے نتیجے میں حلال وحرام جائزناجائزکی تمیزختم ہو جاتی ہے اورمعاشرے میں جھوٹ،فراڈ،رشوت،سود خوری،ذخیرہ اندوزی وغیرہ وغیرہ ساری مصیبتیں درآتی ہیں اورجب سب سے بڑھیالوگ یعنی حکمران وغیرہ سب سے نیچے والامعیارزندگی اپنائیں گے توپھرکسی بھی شخص غربت افلاس وغیرہ پرکوئی شرمندگی اوراحساس محرومی نہیں ہوتا۔
دوسرا اصول اسلامی معیشت کایہ ہے کہ دولت کوبالکل بھی کسی بھی طرح جمنے نہ دیاجائے کہ وہ کسی ایک جگہ پرجم کررہ جائے بلکہ اس کوتوڑتے رہیں تاکہ ملکی دولت پرچنداشخاص کا قبضہ نہ رہے۔لہذاسب سے پہلے موجودہ بنک کے سودی نظام کو ختم کرناہوگا۔اس کافائدہ یہ ہوگاکہ لوگ بینکوں میں پڑاساراپیسہ باہرنکال کر مارکیٹ میں لائیں گے کاروبارکریں گے،کارخانے لگائیں گے جس سے ایک توبیروزگاری ختم ہوگی دوسری طرف مقابلے کی فضا قائم ہوگی جس سے ہرکوئی اپنی چیزبہترسے بہتر اور سستی سے سستی بنانے کی کوشش کرے گااوراس سے عالمی سطح پر ملکی پیداوارسب سے سستی بھی ہوگی اورمعیاری بھی،یہ دوکام حکومت اورحکمران طبقہ کے کرنے کے ہیں۔
تیسرااصول اسلامی معیشت کایہ ہے کہ ضرورت سے زائد چیزیں پیسہ اپنے پاس نہ رکھا جائے بلکہ اسے اللہ تعالیٰ کی راہ میں اس کی مخلوق پر خرچ کرتے رہیں،اپنے رشتہ داروں ماتحتوں نوکروں پڑوسیوں پرخرچ کریں جس کے نتیجے میں وہ بھی پورے اخلاص کے ساتھ آپ کے کام کاروبارمیں مددبھی کریں گے اور اس کے بڑھنے کی تمنابھی کریں گے اور دعائیں بھی دیں گے۔ بجائے اس کے کہ وہ غربا اورمساکین سے آپ سے حسد کریں اورنقصان پہنچانے کی کوشش کریں، چوری کریں، ڈاکہ ڈالیں اور رہزنی کرکے نقصان پہنچائیں ۔ بس یہی اسلامی معیشت ہے اوراس کے لئے ضروری ہے کہ آپ کاموجودہ نظام مکمل طورپربدلاجائے۔آج معاشی اور اقتصادی بدحالی اورسیاسی ابتری کی وجہ صرف سیاستدان ہی نہیں بلکہ ہم خودبھی ہیں جوان کوبابارآزمانے کے باوجودان پراعتبارکرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں