Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

وطن،کفن اوردفن

(گزشتہ سے پیوستہ)
جب اسرائیل،بھارت اورامریکاکی خفیہ ایجنسیزپاکستان کے سیاستدانوں کوخریدسکتی ہیں، الیکشن میں پیسہ لگاسکتی ہیں،تو پھرآئی ایس آئی کا کیا کردار ہوناچاہئے؟جس دن پاکستان کے سیاستدان ، پاکستان سے غداری ترک کردیں گے،رااورسی آئی اے کی مددسے الیکشن میں دھاندلی بندکردیں گے ، تسلی رکھیں،اس دن سے فوج اورآئی ایس آئی بھی سیاست میں ان کی راہ روکنابند کردے گی۔ تب تک کیلئے اپنے منہ بندرکھیں۔
جن کوآئی ایس آئی کی سیاست میں دخل دینے پراعتراض ہے،وہ پہلے ان سیاستدانوں کوپٹہ ڈالیں کہ جو ’’موساد،را,اورسی آئی اے‘‘ کے کہنے پرملک وقوم سے غداری کے مرتکب ہوتے ہیں۔ میموگیٹ، اورسب سے بڑھ کر9مئی جیسی بدترین سازش کے مرتکبین کے رااورسی آئی اے سے رابطے حلال ہیں کیا؟اب ایک طرف آئی ایم ایف ملک میں مذاکرات کیلئے پہنچاہواہے لیکن اس سے قبل ہی ان اداروں بشمول یورپی یونین کوخطوط لکھنے کی جرات تویہودو ہنود کونہیں ہوئی بلکہ وہ تو خوش ہیں کہ ان کاکام یہاں ایک جماعت کر رہی ہے۔ اچھی طرح سمجھ لیں کہ آئی ایس آئی ’’مارخور‘‘ہے یعنی آستین کے سانپوں کو ڈھونڈ ڈھونڈکرپکڑنااورہلاک کرنا،اس کی ڈیوٹی ہے، چاہے یہ سانپ ٹی ٹی پی کے ہوں،ایم کیوایم میں، یا پھردوسری جماعتوں میں یامیڈیامیں۔1971ء میں رامکمل طورپر پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کوخرید چکی تھی۔ شیخ مجیب الرحمن کی غداری اگر تلہ سازش کیس میں سالوں پہلے پکڑی جاچکی تھی۔ جب غداروں کوپھانسیاں دینے کے بجائے الیکشن میں جتوایا جائے،توپھرسقوط ڈھاکہ ہی ہوتے ہیں۔
امریکامیں الیکشن سی آئی اے کی مرضی کے بغیرنہیں جیتاجاسکتا،روس میں کے جی بی حکومت بنواتی ہے،برطانیہ میں ایم آئی فائیواورایم آئی سکس کی طاقت کاکس کونہیں پتا،انڈیامیںراکی مرضی کے بغیرکوئی سیاستدان بیان تک نہیں دے سکتا لیکن اگرایسا آئی ایس آئی کرے توسب منہ پھاڑ کر گالیاں دیتے ہیں۔آخرکیوں؟فرق یہ کہ ان ممالک میں اتنی اجازت نہیں کے فوج اورایجنسیز پر تنقید کرسکیں،جیل بھیج دیاجاتاہے،سکینڈل بنا دیا جاتا ہے،کیریئرختم کروادیاجاتاہے،ایکسیڈنٹ میں مروادیاجاتاہے لیکن یہ سہولت بھی ہماری فوج اور آئی ایس آئی نے دی ہوئی ہے ہمارے ملک میں سب کوکہ جی بھرکرتنقیدکرو،گالیاں دودفاعی اداروں کو۔ امریکامیں حال ہی میں ریٹائرسی آئی اے ڈائریکٹرکوامریکاکاسیکرٹری آف اسٹیٹ بنایا گیا ہے،اسرائیلی فوج کے کافی لوگ سیاست میں ہیں، گورنمنٹ میں،کہیں پرشورسناکے ایسا کیوں؟ یہ قائدہ بہت اچھی طرح سمجھ لیں۔فوج اور آئی ایس آئی صرف اس وقت سیاست اورالیکشن میں دخل نہیں دیں گے کہ جب تک غیرملکی دشمن خفیہ ایجنسیاں بھی دخل نہ دیں۔جب سیاستدان غدار ہوں، تومحب وطن مارخورکومجبوراسیاسی بساط میں بھی دشمنوں کو شکست دینی پڑتی ہے۔یادرکھیں ہم سب پاکستانی، پاکستان آرمی ہیں،ہم سب آئی ایس آئی ہیں۔
پاکستان میں دہشت گردی، کبھی فرقہ وارانہ دہشت گردی کی زیادہ ترکارروائیوں میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان(ٹی ٹی پی)اوربلوچ علیحدگی پسند ملوث ہیں۔ان سب کے پیچھے ایک ہی ہاتھ ہے اوروہ ہے ٹرائیکا(امریکا،اسرائیل اور بھارت)۔ دوسری جانب پینٹا گون خوداعتراف کرچکاہے کہ امریکانے افغان فوج کومجموعی طور پر4لاکھ27ہزار300جنگی ہتھیارفراہم کئے، اورامریکی فوج کے انخلاکے وقت مزید3لاکھ ہتھیارافغانستان میں ہی باقی رہ گئے۔سوال یہ ہے کہ ٹی ٹی پی کے دہشت گرپاکستان میں دہشتگردی کی کاروائیوں میں یہی اسلحہ استعمال کررہی ہے جس کے ثبوت ایک پھر سامنے آرہے ہیں۔
اب بھی افغانستان میں ٹی ٹی پی کے 5سے6ہزاردہشت گردسرگرم ہیں جن کو بھارت فنڈنگ کررہاہے۔ان کی فیملیزکو اکاؤنٹ کیاجائے تویہ تعداد70ہزارہے۔ان سب کی کفالت افغانستان میں نئی وجودمیں آنے والی عبوری طالبان حکومت نہیں کرسکتی۔پاکستان میں دہشت گردی کیلئے اتنے زیادہ اخراجات ’’ٹرائیکا‘‘ اٹھاتا ہے جس کی تصدیق گزشتہ دنوں کالعدم بلوچ نیشنل آرمی کے ایک علیحدگی پسند لیڈر سرفراز بنگلزئی نے ہتھیارڈالتے ہوئے قومی میڈیاکے سامنے اعتراف کیاکہ بھارت علیحدگی پسندوں کو فنڈنگ کرتاہے۔ پاکستان کی طرف سے کئی مرتبہ بھارت کے پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہونے کے ثبوت اقوام متحدہ اورامریکا سمیت دنیا کے بڑے بڑے فورمزپررکھے گئے مگرکہیں سے بھی سنجیدہ اور ٹھوس نوٹس نہیں لیا گیا۔ کیا اقوام عالم یہ سوچ رہی ہیں کہ پاکستان بھارت کو اسی کی زبان میں جواب دے؟دہشت گردجہاں سے بھی آتے ہیں ان کے پیچھے جوبھی ہے ان دہشت گردوں کوپاکستان کے اندر موجود سہولت کاروں کی خدمات بھی میسررہتی ہیں۔ان سہولت کاروں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹاجائے تو دہشت گردی میں کمی آسکتی ہے۔دہشت گردی کے مکمل خاتمے کیلئے قومی اتفاق رائے ضروری ہے۔ ماضی میں نیشنل ایکشن پلان بنایاگیاتھا،اس پربھی اس کی روح کے مطابق عمل اورجدید تقاضوں کے تحت اس میں تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے۔
ایک کہاوت ہے کہ جہازبندرگاہ میں زیادہ محفوظ رہتے ہیں مگرجہازاس لئے نہیں بنائے گئے کہ وہ بندرگاہ میں کھڑے رہیں۔انسان اگر اپنے ٹھکانے پربیٹھارہے،وہ نہ سفرکرے، نہ کوئی کام شروع کرے،نہ کسی سے معاملہ کرے، تو ایسا آدمی بظاہرمحفوظ اور پرسکون ہی ہوگامگرانسان کو پیدا کرنے والے نے اس لئے پیدانہیں کیاہے کہ وہ پرسکون طورپرایک جگہ رہے اورپھروہ قبر میں چلا جائے۔انسان کواس لئے پیداکیاگیاہے کہ وہ کام کرے،وہ دنیامیں ایک زندگی کی تعمیر کرے،اس مقصد کیلئے اس کو دنیا کے ہنگاموں میں داخل ہونا پڑے گا۔وہ ہارنے اورجیتنے کے تجربات اٹھائے گا۔اس کوکبھی نقصان ہوگااورکبھی فائدہ۔ اس قسم کے واقعات کاپیش آناعین فطری ہے،اور ایسے واقعات وحوادث کااندیشہ ہونے کے باوجودانسان کیلئے یہ مطلوب ہے کہ وہ زندگی کے سمندرمیں داخل ہواوراپنی جدوجہدمیں کمی نہ کرے۔
مزیدیہ کہ پرسکوں زندگی کوئی مطلوب زندگی نہیں،کیونکہ جوآدمی مستقل طورپرسکون کی حالت میں ہواس کاارتقارک جائے گا۔ ایسے آدمی کے امکانات بیدارنہیں ہوں گے۔ایسے آدمی کی فطرت میں چھپے ہوئے خزانے باہرآنے کاموقع نہ پاسکیں گے۔اس کے برعکس ایک آدمی جب زندگی کے طوفان میں داخل ہوتاہے تواس کی چھپی ہوئی صلاحیتیں جاگ اٹھتی ہیں۔وہ معمولی انسان سے اوپراٹھ کرغیرمعمولی انسان بن جاتا ہے۔ پہلے اگروہ چھوٹاسابیج تھاتواب وہ ایک عظیم الشان درخت بن جاتاہے۔زندگی جدوجہدکانام ہے، زندگی یہ ہے کہ آدمی مقابلہ کرکے آگے بڑھے۔ زندگی وہ ہے جوسیلاب بن جائے نہ کہ وہ جو ساحل پرٹھہری رہے ۔یادرکھیں کہ شیر اور شارک دونوں پیشہ ورشکاری ہیں لیکن شیر سمندر میں شکارنہیں کرسکتااورشارک خشکی پرشکارنہیں کرسکتی ۔شیرکو سمندرمیں شکارنہ کرپانے کی وجہ سے ناکارہ نہیں کہاجاسکتااورشارک کوجنگل میں شکار نہ کرپانے کی وجہ سے ناکارہ نہیں کہا جاسکتا۔ دونوں کی اپنی اپنی حدودہیں جہاں وہ بہترین ہیں۔ اگرگلاب کی خوشبوٹماٹرسے اچھی ہے تواس کایہ مطلب نہیں کہ اسے کھاناتیارکرنے میں بھی استعمال کیاجاسکتا ہے۔ایک کا موازنہ دوسرے کے ساتھ نہ کریں۔ آپ کی اپنی ایک طاقت ہے اسے تلاش کریں اوراس کے مطابق خود کو تیار کریں۔کبھی خودکو حقارت کی نظرسے نہ دیکھیں بلکہ ہمیشہ خودسے اچھی امیدیں وابستہ رکھیں۔ یاد رکھیں ٹوٹاہوارنگین قلم بھی رنگ بھرنے کے قابل ہوتاہے۔کریم ورحیم رب کے عطاکردہ تحفوں نعمتوں اورصلاحیتوں پرنظررکھیں اوران تحفوں سے حسدکرنے سے بازرہیں جو اللہ نے دوسروں کودیے ہیں۔
صاحب علم ہمیشہ اپنے طورطریقوں اور عادت واطوارسے پہچاناجاتاہے۔جس طرح سورج کبھی یہ اعلان نہیں کرتاکہ وہ آسمان پر آچکاہے اسی طرح ایک صاحبِ علم اورحقیقت کا ادراک کرنے والاکبھی شوراوربے تکے پن سے اپنی شناخت نہیں چاہتابلکہ اس کی گفتگواورعمل اس کی شخصیت اورعلم کی پہچان بن جاتے ہیں۔بونے کی احساس کمتری کایہ عالم ہے کہ وہ ہمیشہ خود کوبڑا کرکے پیش کرتاہے لیکن پست قامتی جسمانی ہوتوکوئی عیب نہیں لیکن عقلی ہوتوکبھی بھی روا نہیں رکھی جاتی۔اس لیے وہ گدھا جوخودکواونچی آواز کی بناپرشیر سمجھنا شروع کردے توعین وقت پر خاموش شیرکودیکھ کراس کی سٹی گم ہوجاتی ہے۔ رب کریم نے ہی اس عظیم مملکت خدادادکو معجزاتی طاقتوں سے نوازاہے جس کی حفاظت کرنے والوں کو رب نے اس ڈیوٹی پر مامور کر رکھاہے ۔
وطن کی پاسبانی جان وایماں سے بھی افضل ہے
میں اپنے ملک کی خاطرکفن بھی ساتھ رکھتاہوں

یہ بھی پڑھیں