Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

خوابوں کی تعبیر

نہ کوئی دنیاکی حقیقتوں کوجانتاہے اورنہ ہی اپنے اردگردبکھرتی قوموں اورتباہ ہوتی ہوئی قوتوں کودیکھتاہے۔عذاب کے فیصلوں اوراللہ کی جانب سے نصرت کے مظاہروں کودیکھنے کیلئے کسی تاریخ کی کتاب کھولنے یاعادوثمودکی بستیوں کا مطالعہ کرنے کی ضرورت نہیں۔یہ ابھی کل کی باتیں ہیں۔ میرے اللہ کافرمان ہے کہ جب ہم کسی قوم پرکوئی آفت نازل کرتے ہیں تووہ اس کی مادی توجیہات کرنے لگ جاتاہے۔کوئی سوچ سکتا تھا کہ دنیاکی ایک ایٹمی سپرطاقت جس کے پاس اس ساری دنیاکوکئی مرتبہ تباہ کرنے کاسامان موجود ہو، جس کی تسخیرخلائوں تک ہو،جودنیامیں پچاس سے زیادہ کیمونسٹ تحریکوں کی برملا مدد کرتا ہو،بے خانماں،بے سروساماں افغان مجاہدوں نے صرف اپنے رب کے بتائے ہوئے حکم جہاد کے ذریعے اس کے چھ ٹکڑے کردیئے۔
کسی ایک محاذ پرشکست کے بعدقومیں متحد ہو جایاکرتیں ہیں،انتقام کیلئے،اپنے آپ کو مزید طاقتورکرنے کیلئے،لیکن جومسلمان قوم جہادسے منہ موڑ لے توقدرت اس قوم کیلئے زوال ورسوائی کا فیصلہ صادرکردیتی ہے۔ان کو نفرت، تعصب، بھوک، افلاس اور ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہونے کامزاچکھادیاجاتاہے۔یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ امریکا 1901 ء سے چین، فلپائن، کوریا ، ویت نام،جنوبی امریکادنیاکے دیگر 39 ممالک سے ذلیل ورسواہوکرنکلاہے لیکن وہ طاقت کے پجاری جن کادل ہی نہیں مانتا کہ اس کائنا ت پر ایک اورحکمران طاقت ہے جس کایہ وعدہ ہے کہ اگرتم مجھ پریقین کروتوتم قلیل بھی ہوگے تو زیادہ طاقت پرغالب آؤگے۔یہ لوگ پھربھی توجیہات کرتے ہیں لیکن آخرمیں انگشت بدنداں رہ جاتے ہیں۔
قدرت نے ہرانسان کے سینے میں ایک چھوٹا ساایٹم بم’’دل‘‘کی شکل میں نصب کر رکھا ہے۔یہ چھوٹاسالوتھڑاپہاڑوں سے ٹکراجانے کی ہمت رکھتاہے اگراس میں صرف ایک رب کا خوف موجودہو،سارا باطل اس سے لرزاں اور خوفزدہ رہتاہے،لیکن اگراس میں دنیاکاخوف بٹھالیں توہردن رسوائی کی موت آپ کی منتظررہتی ہے۔ جومسلمان قوم جہادسے منہ موڑتی ہے تو ہردن رسوائی کی موت اوردیگرمصائب اس کے منتظر رہتے ہیں۔ہم ایک جوہری قوت ہوتے ہوئے بھی لوگوں سے اپنے امن کی بھیک مانگ رہے ہیں اور دوسری طرف دنیانے خوداپنی آنکھوں سے یہ مشاہدہ کیاکہ تمام جوہری طاقتوں نے افغان طالبان سے مذاکرات کیلئے کس بے بسی کے ساتھ راستہ ڈھونڈا، اورپھرافغان مجاہدین جنہوں نے صرف جہاد کا سہارالے کر اپنے وجود کو منوایا اور سپر طاقتوں کا سر پر تاج سجائے کس طرح ان بے خانماں مجاہدین کی شرائط پراپنی تذلیل اورشکست وریخت کاسفرباندھا۔
دہشت گردی،شرپسندی اور تخریب کاری پرقابوپانے کے دعوے بھی عجیب ہیں، ہر روز میڈیا پران دہشت گردوں،شرپسندوں اورتخریب کاروں کوکچل دینے کے تبصرے اورتجزئیے سنتا ہوں توحیرت میں گم ہوجاتاہوں۔اس دنیاکے نقشے میں کوئی اقتدارکی کرسی پر بیٹھاہواشخص کسی ایک ملک کی بھی نشاندہی کرسکتاہے جوفخرکے ساتھ یہ دعویٰ کرسکتاہوکہ وہ دہشت گردی پر قابو پانے کی اہلیت رکھتاہے۔امریکاسے برطانیہ، پورا یورپ،عراق سے لے کر سری لنکا تک، بھارت سے لے کر افغانستان تک،سب حکومتیں بے بس ہیں، مجبور ہیں،لا چارہیں لیکن کوئی اس بے بسی اورکمزوری کوقبول نہیں کررہابلکہ ایسے ہی تجزیوں اورتبصروں پرعملدرآمد کی بناپراس دلدل میں پھنستے جارہے ہیں لیکن ضربِ عضب اور ردالفساد آپریشنزنے اپنی جانوں کی قربانیوں سے سرکرکے دکھا دیالیکن دشمنوں کویہ گوارہ نہ ہوسکا اوراب وہ نئی چالوں سے ملک کے امن کوسبوتاژکرنے کیلئے سازشوں میں مصروف ہیں جس کاہرروزمنہ توڑ جواب بھی دیاجارہاہے۔کوئی یہ ماننے کیلئے تیارنہیں کہ مقلب القلوب صرف ایک ذات پروردگارہے جودلوں کو بدلتاہے،ان کومحبت سے بھردیتاہے لیکن امریکا، اسرائیل اور بھارت نے تونفرت سیکھی ہے لیکن دنیاکی تاریخ شاہدہے کہ جس قوم میں یہ بلانازل ہوئی وہ اپنی پوری صلاحیت کے باوجوداس سے نہیں لڑسکی۔
امریکااورمغربی ممالک(جن کے گھٹنوں کو چھوکر ہمارے حکمران دن رات بھیک مانگ رہے ہیں) جوجدیدٹیکنالوجی رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں،جہاں ہزاروں افراداپنی اس ٹیکنالوجی کی بدولت دہشت گردوں کی بوسونگھتے رہتے ہیں جہاں کوئی شہری اپنے پڑوسی میں کسی لمبی داڑھی والے کودیکھ لیں توفوراً پولیس کوآگاہ کرتے ہیں، باہرسے آنے والوں کو گھنٹوں ائیرپورٹ پر سیکورٹی کے نام پرذلیل کیاجاتاہے،کیاوہاں یہ سب ختم ہوگیا؟یاان کے شہران خطروں سے محفوظ ہوگئے ہیں؟یاان کاخوف کم ہو گیا؟ ہرگز نہیں، ہم توایک آتش فشاں کے دہانے پربیٹھے ہوئے ہیں۔ کیا دنیا کے کسی خطے میں ایساہواہے؟ویت نام، لاؤس،فلسطین، سری لنکا، چلی، نکاراگوا، کمبوڈیا، کہاں کسی نے میڈیاپرایسی دوکانداری چمکائی ہے؟لیکن شایدیہ خودکوبہت طاقتور اور دانشور سمجھتے ہیں۔درپردہ ہمارے کچھ سیاسی لیڈر اوردشمن تویہی چاہتے ہیں کہ بلوچستان اور خیبر پختونخواہ (فاٹا)میں جاری آپریشن ناکام ہوں، عوام کاخون اوربہے،اورگھرانے ماتم کدہ بن جائیں، اورلوگ اس آگ میں جھلس جائیں اور پھر مجبور ہوکر سرجھکاکران کی ہربات،ہرمطالبہ مان لیں۔ جوہری اثاثوں اورکشمیرسے مکمل دستبرداری اوربھارت کی غلامی اختیارکرلیں لیکن وقت نے یہ ثابت کیاہے کہ ایسانہ کبھی پہلے ہوا تھا اورنہ ہی آئندہ ہوگا۔
کشمیریوں کے جہادنے بھارت کی نیندیں حرام کررکھی تھیں لیکن عالمی طاقتوں نے چین کے خلاف گھیراتنگ کرنے کیلئے بھارت کو استعمال کرنے کیلئے ایک گہری سازش کے تحت مسئلہ کشمیرکوختم کرنے کیلئے ہمارے حریص مقتدر افرادکواستعمال کیا۔سابقہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ہی وقت میں اس وقت کے ہمارے آرمی چیف قمرباجوہ اوروزیراعظم عمران خان کو قصر سفید میں طلب کرکے اپنافیصلہ صادرکردیا۔جس کے فوری چند دنوں کے بعدمودی نے خوداپنے آئین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے کشمیرکی خصوصی حیثیت کوختم کرتے ہوئے اسے بھارت میں شامل کرنے کااعلان کردیا۔
عمران خان نے اپنے دورہ امریکاکی واپسی پر اسلام آبادائیرپورٹ پرہی خودکوکشمیرکاوکیل بتاتے ہوئے اپنی جماعت کامیلہ سجالیا اورکسی بھی قسم کے مظاہروں کوسختی سے کچلنے کاعندیہ دے دیا اورقمرباجوہ نے درجن بھرملکی صحافیوں کو بلا کر بھارت کیمقابلے میں اپنی کمزوریوں کاذلت آمیز اعتراف کرکے قوم کاسرشرم سے جھکادیا۔لیکن کیا اس تمام سازش کے بعد کشمیریوں نے ہارمانی ہے؟ بالکل نہیں۔گزشتہ دنوں جنرل(ر)غلام مصطفی اورمیں مسجدنبوی میں بیٹھے تھے کہ ہمارے ساتھ بیٹھے ایک بھارتی مسلمان نے بڑے دکھ کے ساتھ یہ کہا : میراتعلق راجستھان انڈیا سے ہے، آپ نے پاکستان توبنالیالیکن تمام پاکستانی انڈیامیں چھوڑ آئے۔ہم آپ سے کچھ نہیں مانگتے لیکن خودکواتنامضبوط کرلیں کہ انڈیامیں رہنے والے مسلمانوں کاتحفظ ہوسکے۔آپ کے کمزورہونے کی بناپر ہندو مہاسبھائیوں کے ہاتھوں اب ہماری عزت بھی محفوط نہیں رہی۔مجھ سے چندمقبوضہ کشمیرکے مسلمانوں کی بھی ملاقاتیں رہیں اوران کے جذبات توتحریربھی نہیں کئے جاسکتے تاہم ان کا پاکستان کے ساتھ محبت کاجذبہ اب بھی اس قدرجوان ہے کہ حیرت ہوتی ہے۔
اہل نظرپچھلے کئی ماہ سے خبردارکرتے چلے آرہے ہیں۔رب کریم کے سامنے اپنی عاجزی، بے بسی کی دعائیں اورجہادسے منہ موڑنے پر استغفارکی ضرورت ہے۔جن کے دلوں میں امریکاکاخوف اور ہاتھوں میں کشکول ہے،ان کے تکبر ٹوٹنے کاوقت آ پہنچاہے۔کیا ٹائی ٹینک کے ڈوبنے کا وقت آن پہنچا ہے؟سناہے جب جہازڈوبنے کا وقت ہوتاہے توچوہے سب سے پہلے جہاز چھوڑتے ہیں لیکن اب توشایدان چوہوں کا مقدر بھی ہمیشہ کیلئے غرق ہوناٹھہر گیا ہے۔کیاخوابوں کی تعبیرکاوقت آن پہنچاہے؟
جب تک نہ جلے دیپ شہیدوں کے لہوسے
سنتے ہیں کہ جنت میں چراغاں نہیں ہوتا

یہ بھی پڑھیں