Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

گستاخی کی سزاموت

خروشچیف جب سوویت یونین کے صدربنا توانہوں نے پارلیمنٹ میں اپنے پہلے خطاب میں اسٹالن اوراس کی پالیسیوں پرتنقید شروع کردی۔ان کا کہنا تھاکہ اسٹالن میں برداشت نہیں تھی،وہ ایک آمرتھا،ظالم تھا،اختلاف کرنیوالے ساتھیوں تک کودشمن سمجھ لیتاتھا۔اس کے خوشحالی اور معاشی استحکام کےدعوے بھی جھوٹے تھے اور سوویت یونین کو جتنا نقصان اسٹالن نے پہنچایا، اتنا ساراسرمایہ داردنیامل کرنہیں پہنچاسکی۔خروشچیف جب ان خیالات کااظہارکررہاتھاتومعززارکان میں سے کسی نے چٹ پرکچھ لکھااوران تک پہنچا دیا۔ خروشچیف نے ایک لمحے کے لئے رک کرچٹ پڑھی،لکھاتھا’’آپ کواسٹالن کے قریب رہنے کا موقع ملا، جب وہ سوویت یونین کونقصان پہنچارہا تھا توآپ نے اس کوروکاکیوں نہیں؟‘‘ ۔خروشچیف کاچہرہ سرخ ہوگیا،اس نے وہ چٹ ایوان کی طرف لہرائی اورسخت غصے میں چیخا’’یہ کس گستاخ نے لکھا؟‘‘ایوان میں پن ڈراپ سائی لینس ہوگیا۔تمام ارکان بغلیں جھانکنے لگے،خروشچیف دوبارہ چلایا’’میں پوچھ رہاہوں یہ کس گستاخ نے لکھاہے؟‘‘ ایوان میں خاموشی رہی توخروشچیف نے قہقہہ لگایا،چٹ پھاڑی اوراس کے پرزے ہوا میں اچھال کربولا’’جب اسٹالن سوویت یونین کو نقصان پہنچارہاتھا توہم بھی اس وقت ایسی ہی چٹیں لکھاکرتے تھے اورخاموش رہتے تھے۔‘‘
یہ اقتدارکی ٹریجڈی ہے،شاہوں کی قربت میں بڑے سے بڑاعالم ،بڑے سے بڑا فلاسفر،بڑے سے بڑا دانشورجب حلقہ بگوش شاہ ہوجاتاہے تو پھروہ اختلاف کی طاقت کھوبیٹھتا ہے۔بادشاہوں کی صحبت میں توکلمہ حق کہنے کے لئے بھی شاہ کی اجازت درکار ہوتی ہے،لہٰذاجب تک اقتدارکا سورج سوانیزے پر رہتاہے، بڑے سے بڑاحق گو بھی فقط چٹیں لکھنے اورجلالِ شاہی کے وقت سر جھکاکرچپ چاپ بیٹھے رہنے پر اکتفاکرتاہے، کیونکہ وہ جانتاہے اِس وقت سراٹھانے کی جرات کی توجان سے جائے گا،اگرجان بچ گئی توقربتِ شاہی سے ضرورہاتھ دھوناپڑیں گے اورظاہرہے ایوانِ اقتدارسے باہرکھڑے سیاستدانوں اوردریاکے خشک کناروں پرپڑی مچھلیوں میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔قربتِ شاہی میں زندگی بسر کرنے والے لوگ اس ماحول اوراس ماحول کے پروٹوکول سے اتنے آشناہوتے ہیں کہ اگرکبھی بادشاہ سلامت انہیں خودبھی اختلاف کاحق عنائت کردیں توبھی وہ چٹ لکھنے تک ہی محدود رہتے ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اختلاف کایہ حق کسی وقت بھی گستاخی میں تبدیل ہوسکتاہے اوراقتدارکے ایوانوں میں گستاخی کی سزاموت ہوتی ہے،جسمانی یاسیاسی موت!
وہ کہتے ہیں ڈاکوئوں کے کسی سردارنے ڈاکے کاایک منصوبہ بنایا،اپنے ساتھیوں کے سامنے رکھا اور آخرمیں پوچھا،کسی کو اعتراض ہوتوکھڑاہوجائے، میں بڑالبرل سردارہوں،میں اختلافِ رائے کو ہمیشہ پسندکرتاہوں۔ سردارکااعلان سن کرایک نوجوان ڈاکو کھڑا ہوا اورجرات سے بولا’’یہ ایک بالکل خام منصوبہ ہے‘‘۔ سردارنے جیب سے اپنا پستول نکالا، نوجوان ڈاکوکے سرکانشانہ لیااورساری گولیاں اس کے بھیجے میں اتاردیں، نوجوان پیچھے کی طرف گرا، سردارنے پستول کی نالی میں پھونک ماری اور پسینہ پونچھتے ہوئے ساتھیوں کی طرف دیکھ کربولا’’ کسی اورکواعتراض ہوتووہ بھی کھڑاہوجائے‘‘۔
یوں توجسٹس منیراورناظم الدین کے نام سنتے ہی پاکستانی عدلیہ کے موجودہ تنازع تک کاسفرقوم کے لئے کسی بھی تعجب کاباعث نہیں بلکہ مشرف جیسے ڈکٹیٹرکے ہاتھوں ڈوگرکورٹ کو ’’گوبرکورٹ‘‘ قرار دیکرقوم نے مستردکردیاتھا۔جسٹس افتخارکے ساتھ یکجہتی کا وکلا تنظیموں اورقوم نےجس دلیری کے ساتھ جوتاریخ سازمظاہرہ کیا،اورچوہدری افتخاراوران کے ساتھیوں نے جوقوم کو سہانے خواب دکھائے، اس کے بعدقوم اس خوش فہمی میں مبتلاہوگئی تھی کہ اگر خلفائے راشدین کانہیں تویقیناً عمربن عبدالعزیزکا دور دیکھنے کو ملے گالیکن’’اے بساآرزوکہ خاک شدہ‘‘خودچوہدری افتخارکے بیٹے اوردامادکے ہاتھوں ہی قوم کی ان تمام خواہشات کابڑی دھوم دھام سے جنازہ پڑھاگیا۔رہی سہی کسرپاناماکیس میں نکل گئی اور ابھی اس ندامت سے نجات نہیں ملی تھی کہ ثاقب نثار’’بابارحمتے‘‘ کا نقاب پہن کراسی عدلیہ کی دھجیاں اڑاتے چلے گئے اوراپنے بھائی کے ہم آوازبن کرملک کے ایک آرٹ ہسپتال کابیڑہ غرق کرکے بیرون ملک سے وطن کی محبت میں سرشارڈاکٹروں کاراستہ ہمیشہ کے لئے مسدودکر کے چلے گئے اورآج تک کسی کوتوفیق نہ ملی کہ ان تمام ججزکوعدالت میں کٹہرے میں کھڑاکرکے ان سے ملک کی بربادی کاحساب لیاجاتابلکہ اب بھی لاکھوں روپےکی ماہانہ مراعات کے ساتھ مزے لوٹ لے رہے ہیں۔خودقاضی فائزعیسی کاسارا معاملہ بھی قوم کے سامنے ہےلیکن شوکت صدیقی کی ثابت قدمی کے ساتھ بھی تویہ سلوک اسی عدالت نے کیاجس عدالت نے برسوں بعدسپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس نسیم حسن شاہ کے بیان کوتسلیم کرتے ہوئے ذوالفقارعلی بھٹوکو پھانسی کی سزادینے کےفیصلے میں ججزپردباؤکوتسلیم کیا۔اسی طرح سابق چیف جسٹس عطابندیال اوران کے خاندان کی خواتین کابھی ایک سیاسی جماعت کے ساتھ میڈیامیں جو چرچا رہا،اس سے بھی قوم واقف ہے کہ قوم کے فیصلے عدالتوں کی بجائے گھرکی خواتین کی مرضی سے انجام پانے لگے۔
پاکستان میں عدالتی امورمیں بیرونی مداخلت کی تاریخ نئی نہیں ہے۔شوکت عزیزصدیقی کی حال ہی میں بحالی کے فیصلے کو نظیربناکراسلام آبادہائیکورٹ کے چھ ججزنے آئی ایس آئی کے دباؤسے متعلق سپریم جوڈیشل کونسل کوتفصیلی خط لکھا،جس کے ذریعے آئی ایس آئی سمیت انٹیلی جنس ایجنسیوں اورانتظامیہ کی عدالتی امورمیں مداخلت سے متعلق تحقیقات کا دائرہ وسیع کرنے کی درخواست کرتے ہوئے جوڈیشنل کونسل کااجلاس طلب کرنے کوکہا ہے۔ججوں کی جانب سے تحریرکردہ اس خط میں عدالتی امورمیں آئی ایس آئی اوردیگر انٹیلی جنس اداروں کی طرف سے براہ راست مداخلت اور ججوں کوہراساں کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ اس خط نے ایک ایسی بحث کوجنم دیاہے کہ عدالتوں کے متنازع فیصلے کسی حدتک بیرونی یااسٹیبلشمنٹ کے دباؤ کے تحت سنائے جاتے ہیں۔
اس خط کے منظرعام پرآنے کے بعدپاکستان کے چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کافل کورٹ اجلاس بھی منعقد ہوا،جس کے بعدہنگامی طورپرجمعرات کو وزیراعظم شہبازشریف اپنے وزیرقانون کے ہمراہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسی سے سپریم کورٹ میں ملاقات کے لئے پہنچ گئے جہاں اس معاملے کی مزیدتحقیقات کااعلان کرتے ہوئے وزیراعظم نے انٹیلی جنس اداروں کی مداخلت پرقابوپانے کی یقین دہانی کروائی ہے۔اب دیکھتے ہیں کہ اس چائے کی پیالی میں آنے والے طوفان کاانجام کیاہوتاہے۔
حالیہ تاریخ میں سابق وزیراعظم نوازشریف اوران کی بیٹی اوراس وقت وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کے خلاف پانامہ کیس سے متعلق جسٹس ریٹائرڈشوکت عزیزصدیقی کے آئی ایس آئی پرمداخلت کے الزامات ہوں یا ’’واٹس ایپ‘‘کے ذریعے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کی خبریں،ٹرائل کورٹ کے جج سے ملاقات کرکے کیمروں کی نظرمیں آنے والے ایک’’کرنل صاحب‘‘ہوں یا پھرخودچیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی کے خلاف صدارتی ریفرنس یہ سب وہ واقعات ہیں جن سے عدالتی امورمیں غیر ضروری مداخلت کی بحث کوجنم دیا ہے جس میں نچلی عدالتوں اوراسلام آبادہائی کورٹ کے ججزپردباؤکے بارے میں چندواقعات کاذکر شامل کیاگیاہے۔اس خط میں نچلی عدالت کے ایک جج کی شکایت کابھی قصہ شامل ہے جس نے اسلام آبادہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے سامنے آئی ایس آئی اہلکاروں کی شکایت لگائی اورپھر بعد میں اس سیشن جج کواوسی ڈی بنادیاگیا۔اب دیکھنا یہ ہے کہ کیاملک کی دیگرہائیکورٹ کے ججزکوبھی اس صورتحال کاسامناہے۔ججزکے کوڈآف کنڈکٹ میں رہنمائی نہیں دی گئی ہے کہ ایسی صورتحال میں ججزکاکیاردعمل ہو؟اوراس کے علاوہ یہ بھی واضح نہیں کہ ججزاس طرح کی مداخلت کوکیسے ثابت کریں۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں