Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

جرمِ عظیم

(گزشتہ سے پیوستہ)
یہ تبدیلی وہ نہیں ہے جس کالوگوں کوسردجنگ کے فوراً بعدانتظارتھا،لیکن یہ حیران کن بھی نہیں۔ طاقتورہونے کی بجائے دنیاکی بڑی اوراہم جمہوریتوں کوگزشتہ پچیس سال کے دوران بڑے نقصانات سے دوچارہوناپڑاہے۔امریکہ نے عراق اورافغانستان پر غلط وجوہ کی بنیادپرحملہ کیا۔معاملات کوالجھایا اور انتظامی صورت حال کی خرابی کے باعث بڑے پیمانے پر نقصان بھی اٹھایا۔اس کے نتیجے میں امریکہ کاسیاسی نظام بگڑتاچلاگیا۔
سیاست دانوں کے بارے میں عوام کی رائے دن بہ دن خراب سے خراب ترہوتی چلی گئی۔اس سے بھی بدتریہ کہ کسی ذمہ دارسے جواب طلبی نہ کی گئی اورعوام کے عروج پاتے غم وغصے کوٹرمپ کے اقدامات نے مزیدجلا بخشی۔ یورپ میں یوروکاقیام ایک مہلک غلطی ثابت ہوا،جس کے نتائج بہت دورتک جاتے ہیں۔ برطانیہ کے یورپی یونین سے الگ ہونے کے فیصلے نے برطانوی حکمرانوں کی نااہلی کاپردہ چاک کیاکہ ان کی بصیرت بروقت اس منصوبے کی کامیابی اور ناکامی کے ادراک میں بری طرح ناکام ہوئی ۔
ٹرمپ جنہیں قابل رشک سمجھتے ہیں ایسے بہت سے آمرذرابھی شاندارریکارڈنہیں رکھتے۔پیوٹن نے چندایک معاملات میں بہتر کارکردگی کامظاہرہ ضرور کیا ہے تاہم وہ روسی معیشت کی کمزوریاں دور کرنے میں ابھی تک کامیاب نہیں ہوسکے۔ساتھ ہی ساتھ وہ معاشرتی مسائل کابہترحل تلاش کرنے میں بھی ناکام رہے ہیں۔امریکااورکچھ دوسری جمہوریتوں نے دو دہائیوں سے بری کارکردگی دکھانے کے باوجودخودکو کامیابی سے قائم رکھاہے لیکن افغانستان اورعراق کے معاملات پرمجرمانہ غفلت کے بھی مرتکب ہوئی ہیں اور بالخصوص اپنے مفادات کے حصول کے لئے اپنے پالتواسرائیل کوغزہ میں اورمودی کوکشمیرمیں کھلے عام انسانیت کے بہیمانہ قتل کالائسنس مہیاکررکھاہے۔
یہ یاد رکھنے والی بات ہے کہ2008ء کے بحران سے امریکہ نے خودکوتیزی سے باہرنکالنے کی کوشش کی لیکن چین کی بڑھتی ہوئی معاشی واقتصادی ترقی کوروکنے کے لئے غیردانشمندی کا ثبوت دیتے ہوئے انڈیاکوعلاقے کا تھانے دار بنانے کی حماقت کاسہرابھی پچھلی دونوں حکومتوں بالخصوص جونئیربش کے سرپرہے جس کوعروج پر پہنچانے کے لئے ٹرمپ کی ہٹ دھرمی خود امریکہ کی تباہی کاسبب بن کررہے گی اوررہی سہی کسرموجودہ امریکی صدرکے ہاتھوں پوری ہوکررہے گی۔شمالی کوریاکے ہاتھوں امریکہ کی درگت نے ٹرمپ کو ندامت کے گھڑوں پانی نے اس قدر شرابورکیاہے کہ امریکاکی رہی سہی عزت بھی خاک میں مل گئی ہے۔ اگریادہوتونئے سال کے آغازمیں پاکستان کو خوفزدہ کرنے کے لئے ایک بہیودہ ٹویٹ جاری کرنے کے بعدخودامریکامیں سیاسی حلقوں اور تجزیہ نگاروں نے اس کی دماغی حیثیت پرشک کا اظہارکرناشروع کردیاتھا۔ ٹرمپ نے اپنی یکسرغلط پالیسیوں اورہٹ دھرمی سے امریکہ کوجونقصان پہنچایا،خودامریکاکے اندرسیاسی تجزیہ نگارٹرمپ کی برطرفی کامطالبہ کرناشروع کردیاتھا۔ سابقہ صدررونالڈ ریگن کے بیٹے نے ٹرمپ کوایک بیوقوف، پاگل اورامریکی تاریخ میں سب سے زیادہ نالائق فرد قراردیتے ہوئے اس کے خلاف مواخذہ کامطالبہ کیاتھا۔
ٹرمپ کے’’یروشلم کواسرائیل کا جائز دارالحکومت ‘‘ قراردینے پردنیابھرمیں ایک بھونچال پیدا کردیا تھاجس کے نتیجے میں اقوام متحدہ میں اس معاملے پرٹرمپ کومنہ کی کھانی پڑی لیکن ٹرمپ اب ان ممالک کی تعریف وتوصیف میں مگن رہے جنہوں نے اس قراردادکی رائے شماری میں حصہ نہیں لیا تھا۔اسرائیل بہرحال اپنے صہیونی منصوبوں کو مرحلہ وارآگے برھاتاچلاجارہاہے۔مسلم دنیا، باہمی چپقلش اور استعماری قوتوں کی خوشامدمیں لگی ہے۔اس میں کوئی تبدیلی آسکے گی؟یہ دیکھناابھی باقی ہے۔
اسرائیل کاہمیشہ اصراررہاہے کہ بیت المقدس اس کے زیرِانتظام رہے گااورفلسطینیوں کا مطالبہ ہے کہ کم ازکم اس کے مشرقی حصہ پر(جو1967ء کی عرب اسرائیل جنگ میں، اردن کے ہاتھوں سے نکل کراسرائیل کے قبضے میں چلاگیاتھا)فلسطینی کنٹرول ہوناچاہیے۔اسی مشرقی بیت المقدس میں تقریباً 35 ایکڑرقبہ پرمشتمل وہ خطہ زمین ہے جوحرم الشریف کے نام سے موسوم ہے اور جس کی حدود میں مسجد الاقصی اورقب الصخر(پتھروالا گنبد)واقع ہیں۔یہ وہ جگہ ہے جہاں سے نبی آخرالزماں ﷺ نے معراجِ سماوات کاعظیم سفرکیاتھااورجس کی طرف رخ کرکے تقریباً 15 سال تک خودنبی اکرمﷺاوران کے صحابہؓ نمازادا کرتے رہے۔ اسی لیے اس کوقبلہ اول کہاجاتاہے۔دنیاکی صرف تین مسجدوں کے بارے میں ارشادِ نبویﷺہے کہ وہاں نماز پڑھنے کے لئے خصوصی طورپرجانا اور انہیں دوسری تمام مساجدپرفوقیت دیناجائزہے۔یہ تین مسجدیں کعبتہ اللہ،مسجدِ نبوی اورمسجدِ اقصیٰ ہیں۔
28ستمبر2000ء کواسرائیلی انتہا پسند جماعت لیکوڈپارٹی کے سربراہ (بعدمیں اسرائیلی وزیراعظم بھی) ایریل شیرون نے حرم الشریف (مسجدِ اقصی)کادورہ کیا، جس پرفلسطینی مسلمانوں نے پرامن احتجاجی مظاہرے کیے۔اسرائیلی فوجیوں نے مظاہرین کوگولیوں سے بھون دیا۔اس کے بعدسے پورافلسطین ایک بھٹی کی مانندسلگ رہاہے۔اہلِ فلسطین، تین بارانتفاضہ کے نام سے غیرمعمولی تحریکِ آزادی چلاچکے ہیں۔اس طرح محاصرہ کاشکارغزہ بھی بارباراسرائیلی عسکری جارحیت کاشکارہوتارہاہے اور اب پچھلے کئی ماہ سے غزہ کے شب وروزساری دنیاکے سامنے ہیں۔مجھے بڑے دکھ سے یہ تحریرکرناپڑرہاہے کہ 57اسلامی ممالک بزدلوں کی طرح اپنے اقتدار کو بچانے کی فکرمیں اخروری فکرسے غافل ہو چکے ہیں۔
اسرائیلی اس بات پربضدہیں کہ مسجدِ اقصیٰ کی حدودمیں ہیکل سلیمانی ضرورتعمیرکریں گے۔متحدہ یروشلم (بیت المقدس)کواپنا دارالحکومت بنائے رکھیں گے اور امریکہ سمیت ساری دنیا کے سفارت خانوں کو،تل ابیب سے یروشلم منتقل کروائیں گے۔ دوسری طرف یہودیوں کواس بلاجواز کارروائی سے روکنے کے لئے صرف فلسطینی مسلمان بالخصوص غزہ میں سات اکتوبرسے اب تک اسرائیلی بمباری سے مجموعی طورپرکم ازکم 31553فلسطینی شہیدہوچکے ہیں۔ان ہلاک ہونے والوں میں دوتہائی تعداد فلسطینیوں بچوں اورعورتوں کی ہے۔ اب تک زخمیوں کی تعداد73546بتائی گئی ہے۔ تاہم یہ معلوم نہیں کہ ان میں سے کتنے زخمی علاج کی سہولت میسرہوسکی ہے کیونکہ غزہ میں ہسپتال کی بڑی تعداد بمباری اورحملوں سے تباہ کی جاچکی ہے جبکہ باقی تھوڑے بہت بچ جانے والوں میں علاج کی سہولیات ناکہ بندی کے باعث ختم ہوچکی ہیں اور تقریباسبھی ہسپتال ناکارہ ہوچکے ہیں۔پوری دنیا کی نگاہیں بیت المقدس میں جاری کشمکش پر مرتکز ہیں۔
دوسری طرف عالمی میڈیامیں امریکی صدر جوبائیڈن کاایک منافقانہ بیان گردش کررہاہے کہ ’’عرب ریاستیں اسرائیل کوتسلیم کرنے کیلئے تیار ہیں اورمیں سعودی عرب،مصر،اردن اورقطرسمیت دیگرتمام ممالک کے ساتھ کام کررہاہوں‘‘۔کون نہیں جانتاکہ ناجائز اسرائیلی ریاست کوامریکاکی کس قدرپشت پناہی حاصل ہے۔جوبائیڈن آئندہ امریکی انتخابات میں اپنی فتح کویقینی بنانے کے لئے ہاتھ پاؤں ماررہے ہیں۔وہ ایک طرف مسلمان ممالک کودوریاستی حل کاچکمہ دے رہے ہیں اوردوسری طرف اسرائیل کے جنگی اور خونی ہاتھوں کو چوم کردوبارہ قصرسفیدمیں براجمان رہنے کے خواہش مندہیں۔یہ واضح رہے کہ ان حالات میں جوبھی اسرائیل کوتسلیم کرنے کاارادہ بھی کرے گا،خودوہاں کی عوام ہی ان کاایسا احتساب کریں گے کہ جس اقتدارکی خاطریہ جرمِ عظیم کرنے پر آمادہ ہوں گے،اسی اقتدارکی غلام گردشیں ان کومزیدپناہ دینے سے انکارکردیں گی۔
ادھرہمارے ہاں درپردہ امریکی اشارے پرطاقتور حلقوں کی آشیروادسے یہ بحث چھیڑی جاتی رہی ہے کہ اسرائیل کوتسلیم کرلینے میں کیاحرج ہے۔ہمارا اسرائیل سے کیاجھگڑاہے؟ اب توبہت سی عرب حکومتوں نے بھی اسرائیل کوتسلیم کرلیاہے یاکرنے والی ہیں۔یہ بھی کہاجارہاہے کہ عربوں نے کب ہماراساتھ دیاکہ اب بھی ہم ان کی وجہ سے اسرائیل سے دشمنی مول لیتے رہیں۔اس سے ہماری دشمنی کانقصان یہ ہورہاہے کہ اسرائیل اوربھارت دوست بنے ہوئے ہیں۔اگرہم اسرائیل کوتسلیم کرلیں توہم بھی اس کے دوست بن سکتے ہیں اوربھارت سے اس کی قربت کوکم کرسکتے ہیں لیکن ہم نجانے یہ کیوں بھول رہے ہیں کہ اس وقت سینکڑوں بھارتی اسرائیل کی فوج میں بھرتی ہوکرغزہ کے مسلمانوں کے خون کی ہولی کھیلنے میں میدان جنگ میں موجودہیں۔
یہ دلائل سادہ دل اورمعاملے کے تاریخی، واقعاتی،ایمانی،اخلاقی اورنفسیاتی پہلوئوں سے ناواقف لوگوں پراثراندازہوسکتے ہیں لیکن یادرکھیں کہ اسرائیل کوتسلیم کرنے کامعاملہ محض ایک ملک کوماننے یانہ ماننے کانہیں۔اسرائیل یہودیوں کا جبری طورپرحاصل کردہ نسلی وطن اورعالمگیرصہیونی تسلط کانقطہ پرکارہے۔حق وباطل کی ازلی کشمکش میں سے پچھلے ہزاروں سال کے سینکڑوں خم دارپہلو اس سے وابستہ ہیں،جنہیں ہوش وحواس میں رہنے والاکوئی باغیرت مسلمان نظراندازنہیں کرسکتا۔بیت المقدس کی اہمیت اوراس کاتاریخی پس منظرکیا ہے؟اس پراسرائیلی اورعرب دعوؤں میں حقیقت کتنی ہے؟اور اس حوالے سے صہیونی عزائم اورمنصوبے کیاکیاہیں؟ مسئلہ فلسطین کی نزاکت اوراس کے ایمانی پہلوئوں سے ہی نہیں ، واقعاتی اورتاریخی حقائق سے بھی روشناس ہوناضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیں