Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

لیکن ایساہوگانہیں!

پچھلی سات دہائیوں سے زائد امت مسلمہ کے دودیرینہ زخموں مسئلہ کشمیراورفلسطین کوجس بیدردی کے ساتھ کھرچاگیاہے،ہماری تیسری نسل بھی انگشت بدنداں ہے کہ آخر مسلمان ہی ظلم وستم کاشکارکیوں ہیں؟آخرپوری مسلم امہ کی بے حسی کایہ عالم ہے کہ تمام مسلم حکمرانوں میں مکمل خاموشی، سکوت، صبراطمینان، ڈھٹائی،بےشرمی،کوئی عملی احتجاج،کوئی چیخ وپکاریاکسی یکجہتی کاکوئی اظہاردیکھنےمیں نہیں آیا،معاملہ صرف بیانات تک ہی محدودہے۔امت مسلمہ کی طرف مکمل خاموشی کے بعداوآئی سی کااجلاس بلاکراسرائیل اورامریکاکے بارےمیں صرف احتجاج ریکارڈکروانےکے بعد غزہ یا کشمیرمیں مسلمانوں کاقتل عام رکاہے؟
دنیابھرمیں پہلی مرتبہ عام غیورشہریوں کاسڑکوں پرآکراپنےدلی جذبات کاجس طرح اظہار جاری ہے لیکن کیایہ احتجاج کارگر ثابت بھی ہوگاکہ نہیں؟ ابھی کل کی بات ہے کہ امریکی صدر جوبائیڈن کے منافقانہ بیان نے ساری حقیقت واضح کردی ہے کہ ’’عرب ریاستیں اسرائیل کوتسلیم کرنے کے لئے تیارہیں اورمیں سعودی عرب،مصر،اردن اورقطر سمیت دیگر تمام ممالک کے ساتھ کام کر رہاہوں‘‘۔ غزہ میں قیامت صغریٰ برپاہےلیکن اسرائیلی مظالم کوروکنے کی بجائے اس کوتسلیم کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔غزہ اورکشمیردونوں جگہ پرنہتے مسلمانوں میں مماثلت ان کافقط یہ جرم ہے کہ وہ اپنے حق کے لئے مسلسل فریاد کرتے چلے آرہے ہیں۔چھ لاکھ قابض بھارتی فورسزکے لئےبھی اب نوجوانوں کی تیسری نسل دردِ سربنی ہوئی ہے جس نے مودی کی ظالم سپاہ کی نیندیں حرام کررکھی ہیں لیکن یہ الگ بات ہے کہ ایک سازش کے تحت کشمیرمیں ہونے والے بھارتی درندوں کے جرائم کی اشاعت پرمکمل پابندی عائدہےلیکن ہمارے زرخریدحکمرانوں کی مجرمانہ خاموشی توبدتر یہودوہنود درندوں سے بھی زیادہ بدترین ہے۔ غمزدہ فلسطین میں آج بھی چھوٹے چھوٹے بچے اپنے شہدا کی یادمیں مسلح ظالم اسرائیلی درندوں کے سامنے اپنے حقوق کے لئے صدابلندکررہے ہیں گویااب اپنے شہداکے لئے رونااوراحتجاج کرنابھی جرم ٹھہرگیاہے۔
اگربیت المقدس کی تاریخ پڑھیں تومعلوم ہوتاہے کہ اس شہرکودومرتبہ توصفحہ ہستی سے مٹادیا گیا تھا، 52مرتبہ بیت المقدس کو میدان جنگ بنایا گیا اور 44 مرتبہ اس پرقبضہ کیاگیاہے لیکن ہرمرتبہ فلسطینی مسلمان ہی فاتح ٹھہرے ہیں جواس سرزمین کے اصل مالک ہیں۔ حیرانی کی بات تویہ ہے کہ اسرائیلیوں کویہ حقیقت کب سمجھ میں آئے گی اوروہ کب نوشتہ دیوار پڑھیں گے؟کشمیراور فلسطین میں توباقاعدہ نظرآرہاہے کہ امریکہ اوراس کے اتحادی مغرب نے ہنودویہودکومسلمانوں کے قتل عام کی کھلی چھٹی دےرکھی ہےاوران دونوں ممالک کےدرندوں کی آنکھ میں انسانیت کےلئےکوئی شرم وحیاباقی نہیں رہی ۔ امریکہ نے تومسلمانوں کے زخموں پرنمک چھڑکنے کےلئےتل ابیب سے یروشلم میں اپنا سفارتخانہ تبدیل کرنے کے لئے 14 مئی کادن اس لئے تجویز کیا تھا کہ اسی دن14 مئی 1948ء کوارضِ فلسطین پر اسرائیل کاناسورخنجر گھونپا گیاتھا۔عالمی سطح پرمسلمانوں کومشتعل کرنے کے لئے ایک اوربڑا ظلم اسرائیل نے ارضِ فلسطین کے ساتھ یہ بھی کیاکہ اس نے بیت المقدس سے متصل مسلمانوں کی ایک متبرک قبرستان ’’الرحمہ‘‘ جہاں بہت سے جلیل القدرصحابہ کرام مدفون تھے،اس کو بلڈوزروں سے ملیامیٹ کرکے وہاں تفریحی پارک بنادیالیکن مسلم حکمران کی بے حسی کایہ عالم ہے کہ جبیں پرشکن تک نہیں آئی۔
1947ء کی مشرق وسطیٰ کی جنگ میں قبضہ اسرائیل نے فلسطینی مشرقی یروشلم پربزورطاقت اور دھونس سےقبضہ کرلیاتھااوراب یروشلم کواپناازلی اورغیرمنقسم دارالحکومت کہتاہےلیکن غزہ کے غیور مسلمانوں نےمحاصرہ کے باوجوداحتجاج میں سرپر کفن باندھ کرنکلے جس کےجواب میں اُس وقت بھی اسرائیلی درندوں نے 48 فلسطینیوں کوشہید اور3ہزارسے زائد افرادکو زخمی کردیا تھا، گویاغزہ کے غیورمسلمان اس وقت بھی اپنی جانیں قربان کرکےاللہ کے حضورگواہی دے کرسرخروہوگئے اوراب توغزہ نے ایک تاریخ رقم کردی ہےکہ پچھلے چھ ماہ سےاسرائیل اپنےمغویوں کی رہائی کے لئے اپنی ناکامی کااعتراف کرتے ہوئے انہی عرب پڑوسیوں کے سامنے التجا کر رہا ہے۔
یادرہےکہ یروشلم متعددبارتاخت وتاراج ہواہے،یہاں کی آبادیوں کوکئی بارزبردستی جلاوطن کیاگیاہے اوراس کی گلیوں میں ان گنت جنگیں لڑی جاچکی ہیں جن میں خون کے دریا بہہ چکے ہیں۔یہ دنیا کا وہ واحدشہرہے جسے یہودی،مسیحی اور مسلمان تینوں مقدس مانتے ہیں۔یہودیوں کاعقیدہ ہےکہ یہ وہ جگہ ہے جہاں سے کائنات کی تخلیق ہوئی اوریہیں پیغمبر حضرت ابراہیم نےاپنے بیٹےکی قربانی کی تیاری کی تھی۔مسیحی سمجھتےہیں کہ حضرت عیسٰی کویہیں مصلوب کیاگیاتھااوریہیں ان کاسب سےمقدس کلیساواقع ہے۔مسلمانوں کے اعتقاد کےمطابق پیغمبراسلام نےمعراج پرجانےسےقبل اسی شہرمیں مسجدِ اقصی میں تمام نبیوں کی امامت فرمائی۔یہی وجہ ہےکہ مسلمان اورمسیحی ایک ہزاربرس تک اس شہرپرقبضے کے لئےآپس میں برسرِپیکاررہے ہیں۔
مسلمانوں نےسب سےپہلے638ء میں دوسرےخلیفہ حضرت عمرکےدورمیں بازنطینیوں کو شکست دے کراس شہرپرقبضہ کیا تھا۔ مسیحی دنیامیں یہ واقعہ عظیم سانحےکی حیثیت رکھتاتھا۔ آخر 1095ء میں پوپ اربن دوم نےیورپ بھرمیں مہم چلا کرمسیحیوں سے اپیل کی کہ وہ یروشلم کو مسلمانوں سے آزادکروانے کےلئےفوجیں اکٹھی کریں۔نتیجتًا1099ء میں عوام ، امراء اور بادشاہوں کی مشترکہ فوج یروشلم کوآزادکروانےمیں کامیاب ہوگئی۔یہ پہلی صلیبی جنگ تھی۔تاہم اکثر فوجی جلدہی واپس اپنےاپنے وطن سدھار گئے اور بالآخرسلطان صلاح الدین ایوبی90برس بعدشہر کو آزاد کروانےمیں کامیاب ہوگئے۔ایک بارپھر یورپ میں بےچینی پھیل گئی اوریکے بعددیگرچار مزیدصلیبی جنگیں لڑی گئیں،لیکن وہ یروشلم سے مسلمانوں کوبیدخل کرنےمیں ناکام رہیں۔البتہ 1229 میں مملکوک حکمران الکامل نے بغیرلڑے یروشلم کوفریڈرک دوم کے حوالے کردیالیکن صرف 15برس بعدخوارزمیہ نے ایک بارپھرشہرپرقبضہ کرلیا،جس کے بعداگلے673برس تک یہ شہرمسلمانوں کے قبضےمیں رہا۔
1517ء سے1917ء تک یہ شہرعثمانی سلطنت کاحصہ رہا۔عثمانی سلاطین نےشہرکے انتظام وانصرام کی مضبوطی کےلئےشہرکے گرددیوارتعمیر کی ، سڑکیں بنائیں اورڈاک کانظام قائم کیا جبکہ 1892ء میں یہاں ریلوے لائن بچھائی گئی۔ اسرائیلی شاعر یہود اعمیحائی نے لکھاتھاکہ’’ یروشلم ابدیت کے ساحل پرواقع ساحلی شہرہے۔یہ الگ بات ہے کہ یہ سمندراکثرو بیشترمتلاطم ہی رہاہے‘‘۔ اس کااندازہ یروشلم کی اس مختصر ٹائم لائن سے لگایاجاسکتاہے۔
پانچ ہزارقبل مسیح:ماہرینِ آثارِقدیمہ کے مطابق سات ہزارسال قبل بھی یروشلم میں انسانی آبادی موجودتھی۔اس طرح یہ دنیاکے قدیم ترین شہروں میں سے ایک ہے۔
ہزارسال قبل مسیح:پیغمبرحضرت دادنے شہرفتح کرکےاسےاپنی سلطنت کادارالحکومت بنالیا۔ 960 سال قبل مسیح:حضرت داؤدکےبیٹےپیغمبر حضرت سلیمان نےیروشلم میں معبدتعمیرکروایاجسے ہیکلِ سلیمانی کہاجاتا ہے۔589قبل مسیح:بخت نصرنے شہرکوتاراج کرکے یہودیوں کوملک بدرکردیا ۔539قبل مسیح:ہخامنشی حکمران سائرس اعظم نے یروشلم پرقبضہ کرکے یہودیوں کوواپس آنےکی مشروط اجازت دی۔30عیسوی:رومی سپاہیوں نے یسوع مسیح کومصلوب کیا۔638عیسوی: مسلمانوں نےدوسرےخلیفہ حضرت عمرکے دور میں بازنطینیوں کوشکست دےکرشہرکواپنی تحویل میں لےلیا۔691 عیسوی،اموی حکمران عبدالملک نےقب الصخرا(ڈوم آف داراک) تعمیرکروایا۔
1099عیسوی:مسیحی صلیبیوں نے شہرپر قبضہ کرلیا۔1187عیسوی:صلاح الدین ایوبی نے صلیبیوں کوشکست دے کرشہرسے نکال دیا۔ 1229 عیسوی، فریڈرک دوم نے بغیرلڑے یروشلم حاصل کرلیا۔ 1244 عیسوی:دوبارہ مسلمانوں کاقبضہ ہوگیا۔1517 عیسوی، سلطان سلیم اول نےیروشلم کوعثمانی سلطنت میں شامل کرلیاجواگلے چارسوسال عثمانی سلطنت کاحصہ رہا۔
1917عیسوی:انگریزی جنرل ایلن بی عثمانیوں کوشکست دے کرشہرمیں داخل ہوگیا۔
1947عیسوی:اقوامِ متحدہ نےشہرکوفلسطینی اوریہودی حصوں میں تقسیم کردیا ۔ 1948عیسوی: اسرائیل کااعلانِ آزادی،شہراسرائیل اوراردن میں تقسیم ہوگیا۔ 1967عیسوی:عرب جنگ کے نتیجے میں دونوں حصوں پراسرائیل کاقبضہ ہوگیا۔
برطانوی مؤرخ کے مطابق برطانوی جنرل سرایڈمندایلن بی کویروشلم کے تقدس کااس قدرخیال تھاکہ جب وہ عثمانی فوجوں کو شکست دے کریروشلم پرقبضے کی غرض سے باب الخلیل کے راستے شہرمیں داخل ہواتواس نے گھوڑے یاگاڑی پرسوارہونے کی بجائے پیدل چلنے کوترجیح دی لیکن اس مقدس شہرکی حرمت اس وقت کہاں گئی جب اس کے لئے ہزاروں افراد کے سرتن سے جداکردیئے ۔برطانوی وزیرِاعظم ڈیوڈلوئڈجارج نے اس موقع پرلکھاکہ دنیاکے مشہورترین شہر پرقبضے کےبعد مسیحی دنیا نےمقدس مقامات کودوبارہ حاصل کرلیا ہے۔ تمام مغربی دنیاکے اخباروں نے اس فتح کاجشن منایا۔امریکی اخبارنیویارک ہیرالڈنے سرخی جمائی، برطانیہ نے673برس کے اقتدارکے بعدیروشلم کوآزاد کروا لیاہے اورآج مسیحی دنیامیں زبردست خوشی کی لہردوڑ گئی ہے۔(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں