(گزشتہ سے پیوستہ)
عیدالفطرکے موقع پرعیدکارڈکااپنے احباب کے ساتھ تبادلہ پراٹھنے والی رقم کئی مفلس گھروں میں یقیناعیدکی خوشیاں لا سکتی ہے جواپنے عزیزوں کوکاغذی گلدستے پیش کرنے پراٹھ رہی ہے حالانکہ خطوط میں لکھے ہوئے الفاظ میں بھی خلوص ومحبت کی خوشبومحسوس کی جاسکتی ہے اورپھران کانٹوں بھری زندگی کوجوایک غلط نظامِ حکومت کے تحت گزارنی پڑرہی ہے۔ اس میں خلوص ومحبت اور وفاکے پھول یقینابڑی چیزہیں اوراس زندگی کی مسافت آدمی بتدریج طے کرکے جب کچھ شعور حاصل کرتاہے تواس کوآگہی ہوتی ہے کہ اس دنیا میں سکون دینے والی چیزوں میں مقیدزندگی کاشعور اوربے غرض مہرومحبت بڑی چیزہے ۔مقید زندگی کاشعورانسان کوغم وآلام سے نجات دلاکر اطمینان سے بھردیتاہے۔
آدمی خالی ڈھول کی مانندنہیں رہ جاتاکہ معمولی ٹھوکرسے واویلاکرنے لگے بلکہ ایک ٹھوس وجودبن جاتاہے جسے حوادث کی آندھیاں بھی اپنی جگہ سے نہیں ہلاسکتیں اورمہرومحبت وہ قوت ہوتی ہے کہ جوصرف اپنے ہم مقصدساتھیوں کی رفاقت سے حاصل ہوتی ہے۔ساتھیوں کی باتیں،ان کے مصافحے، ان کے معانقے،ان کی محبت بھری گفتگوئیں ، ان کی بے غرض دوستیاں اوربے لوث ملاقاتیں ان سب چیزوں کے درمیان آدمی اپنے آپ کوایک لشکر کے درمیان سمجھتاہے۔پرامن اورپرسکون عزیز دوست اس مختصرسی زندگی میں متاع بے بہاہے جبکہ اس ملک میں مشینی اندازمیں کام کرتے کرتے اعضا اس قدربے جان ہوگئے ہیں کہ ہمیں صرف ایک کارڈمیں اس قدرجان معلوم ہوتی ہے کہ اس کوخودسے تواناسمجھ کراس کاسہارالینے پرمجبورہوگئے ہیں۔
ویسے توعیدکارڈماہِ رمضان کی جدائی کاپیغام لے کر آتاہے،اس جملے میں کسی تقویٰ کااظہارکرنا مقصود ہرگزنہیں،اس ماحول میں تواب ایسے ایسے اصحاب دیکھنے کومل رہے ہیں جن کے تقدس کی خودصاحب تقویٰ قسمیں کھاتے ہیں لیکن جب ان کوغورسے دیکھیں توان کی حیثیت کسی میلے میں بکنے والے رنگین غباروں سے زیادہ نہیں ہوتی جو اوپرسے بڑے رنگیں اور خیروخوبی کے مدعی ہوتے ہیں لیکن اندرسے حرص وہوس کی متعفن ہوا نکل رہی ہوتی ہے اورجب زندگی میں تندہوا کا جھونکا ان کی قلعی کھول کررکھ دیتاہے توپھٹ کر ایک چھیچھڑے کی طرح ایک کونے میں جاگرتاہے اور بالآخرپاؤں میں مسل کرباہرکسی کوڑے کرکٹ یاگندگی کے ڈبے میں اس کو جگہ ملتی ہے۔ اللہ ہرمسلمان کواس تقوی ٰسے محفوظ رکھے آمین! اور ایسے تقوے کی توفیق عطافرمائے جوہوائے نفس سے خالی ہو،جو مظاہر نمودونما ئش اورادعاسے پاک ہو،جس میں اتنی ہمت ہوکہ حق کی راستے میں مشکیں کسی جائیں اورالٹااونٹ سے باندھ کرمدینے کی گلیوں میں گھسیٹاجائے توبھی اٹھ کرصاف صاف یہی کہے کہ ’’لوگو!سن لومیں مالک بن انس ہوں،میں کہتاہوں کہ جبریہ طلاق شریعت میں واردنہیں ہوتی، جس میں اتنی ہمت ہوکہ جب اس پرکوڑوں کی بارش ہوتب بھی یہ بات کہے کہ اپنی بات منوانے کے لئے قرآن وحدیث سے کوئی دلیل لاؤ،جس میں اتناحوصلہ ہوکہ جیل میں موت قبول کرلے اور زنداں سے اس کاجنازہ نکلے(امام ابوحنیفہ) جس میں اتنی جرأت ہوکہ پھانسی کے تختہ پربھی مسکراتے ہوئے یہ کہہ کرچڑھ جائے کہ الٰہی تیرااحسان ہے کہ تونے مجھے شہادت کی موت نصیب فرمائی،نہ کہ چند مظاہرلباس وتراش کانام تقوی ٰرکھ کراس کا اعلان کرکے تقویٰ وپرہیزگاری کا اشتہارپیش کیا جائے۔ یہ طریقہ اب تک توچلاہے انشا اللہ کل نہ چلے گا۔
ایک صاحبِ نظرنے سچ کہاتھاکہ پہلے ایمان کواپنے اندرمستحکم کروپھراس پرعمل کرکے اورساری زندگی اطاعتِ رب میں دے کراپنے اسلام کا ثبوت پیش کرو،ساری زندگی کالمحہ بہ لمحہ محاسبہ کرتے ہوئے چلو،کسی موڑپرٹھوکرنہ کھاتے اورہمہ تن اپنے فرائض ِ بندگی کوٹھیک ٹھیک اداکرتے ہوئے تقویٰ پیدا کرو اورپھراپناسب کچھ اپنے مالک کی راہ میں لگا اور اس راہِ حق کے غباربن کراحسان کامقام حاصل کرو۔لیکن یہاں توثابت ذرابھی اسلام نہیں لیکن لباس تقویٰ کازیبِ تن کیاہواہے۔منبررسول پرکھڑے ہو کر لوگوں کوسود (مارگیج) سے منع کیاجارہاہے لیکن خود بینک میں سودی اکاؤنٹ رکھ کر بینک سے صدفیصد قرض لے کر مکان خریداجا رہا ہے، کاروبار میں وسعت کی جارہی ہے اور پوچھنے پرمحاسبہ سے بچنے کے لئے مغرب یاامریکاکو ’’دارلحرب‘‘کانام د ے کر جان بخشی کابہانہ ڈھونڈا جارہا ہے۔ سودجسے قرآن میں بڑی صراحت کے ساتھ اللہ اوررسول کے خلاف کھلی جنگ قرار دیا گیاہے،اسی کے سہارے اسلامی شعائرکامذاق اڑاکرداعی حق کاگراں بارفریضہ بھی سرانجام اداکیا جارہاہے۔
جس کارڈ یاپیغام سے عیدکی خوشی کاپیغام دینا مقصودہوتاہے اسی کودیکھ کربچے حیراں وپریشاں ہیں کہ آخرہم مسلمانوں کی عیدایک دن کیوں نہیں منائی جاتی؟کیاوجہ ہے کہ چاندکچھ مسلمانوں کو سعودی عرب میں نظرآتاہے توکچھ مراکش کے بادلوں میں اس کوڈھونڈرہے ہوتے ہیں؟ہم سارا سال اپنی نمازوں کاتعین یہاں برطانوی محکمہ موسمیات کے بتائے ہوئے اوقات سے ترتیب دیتے ہیں لیکن چاندکے بارے میں ان کی سائنسی گواہی ماننے کوتیارنہیں؟عیدجواتفاق ومحبت کا پیغام لیکر آتی ہے آخراس کے نام پرکیوں دنگا فساد کیا جاتا ہے حالانکہ رمضان کاچاندطلوع ہوتے ہی اس گئی گزری مسلمان قوم کے اندربھی زندگی کی ایک لہردوڑجاتی ہے ۔ایک اضطراب، ایک احتیاط ،ایک خداخوفی،ایک ذوقِ عبادت ابھر کرسامنے اس طرح آجاتاہے جس طرح صبح کی شمع سنبھالا دیتی ہے اورمحسوس ہونے لگتاہے کہ یہ قوم واقعی دوسری اقوام سے مختلف ہے۔
بس یہی ایک مہینہ ہے جب اس قوم کے اندرایک امتیازی نشان ابھرتاہے،ان کے دل خوف خداسے لبریزصدقہ وخیرات،غم گساری اوربھائی چارے کے علاوہ شب بیداری و عبادات میں مصروف نظرآتے ہیں لیکن اس مہینے کے آخری دن اور پھر ساراسال یہ شناخت کرنامشکل ہے کہ یہ لوگ کس ملت سے تعلق رکھتے ہیں۔روزوں کی احتیاط میں نماز تراویح کے لئے مساجد میں تل دھرنے کوجگہ نہیں ہوتی،سحری کی رونق، افطاری کی چہل پہل،یہ امتیازات اس قوم کودوسروں سے ممتازکر دیتے ہیں،یہی وہ برکات ہیں جواس مہینہ کو سال بھرمیں عزیزترمہینہ بنادیتی ہیں،اب توانہی کے دم قدم سے کچھ نشانِ امتیاز قائم ہے لیکن جونہی مغرب اور غیرمسلموں کی نقالی کرکے عیدکارڈاور پیغاما ت ارسال کرتے ہیں تو گویا خود فراموشی کے بقیہ گیارہ مہینوں کاپیغام دیتے ہیں جواس متنازعہ دن کے بعدشروع ہونے والے ہیں۔اس لئے رمضان المبارک کی مفارقت اورآئندہ گیارہ مہینوں کی منافقت آنکھوں میں نم آلود غبارپیداکردیتی ہے۔اگرسچ پوچھیں توعیدکیاہے جس کے ہم مسلمان منتظرہیں:
عیدآزاداں شکوہ ملک ودیں۔۔۔عیدمحکوماں ہجومِ مومنین
شکوہ مومنین توبڑی چیزہے،شکوہ ملک ہی سے محروم ہیں۔شکوہ ملک جس چیزکانام ہے وہ ہرقسم کے خارجی وداخلی اثرات سے آزاد اورپاک ملکی پالیسی ہے۔داخلی اطمینان اور سرحدوں کی قوت وشوکت ہے،دوسرے ممالک میں عزت و منزلت کامقام ہے،قوموں کی برادری میں سربلندی ہے،افرادِ قوم کااطمینان معاشی ومعاشرتی خوشحالی ہے لیکن خوردبین لگاکربھی آپ کویہ اوصاف کسی مسلمان ممالک میں نہیں ملتے بلکہ مسلمان مملکتیں اپنے اندرکئی گروہوں میں بٹ کرایک دوسرے کے گلے کاٹنے میں مصروف ہیں اوراغیاراس بات پرخوش ہیں کہ ہزاروں میل دوربیٹھ کروہ ان پراس طرح حکومت کر رہے ہیں کہ 57مسلم ریاستوں میں جرأت نہیں کہ غزہ کے مسلمانوں کو اسرائیل کی بربریت سے بچاسکتے۔اگر دنیاوی دولت سے اللہ نے کچھ اسلامی ممالک کومالامال فرمایاہے توان کی دولت سے فائدہ بھی اغیار اٹھارہے ہیں،ان مسلمانوں کے خزائن اغیارکے تصرف میں ہیں اوراسی سرمائے سے مسلمان ممالک کواسلحہ تیار کر کے فروخت محض اس لئے کیاجاتاہے کہ اس کاتجربہ بھی تم دوسرے مسلمان ممالک کی آبادی پرکرو۔
پھرشکوہ دیں یہ ہے کہ اللہ جس کے حاکم ہونے کااقرارہمارے ہاں کلمہ پڑھ کرایک جاگیردار وسرمایہ دارسے ہاری ومزدور تک کرتاہے تاکہ اسی کاحکم اورقانون چلے اورجس کو آقا مانا ہے اس سے انحراف نہ ہو۔یہ عجیب مذاق ہے کہ ایک نمبردار ہے توگاؤں کاہرفرداسے تسلیم بھی کرے اوراس کے حقوق ِنمبرداری ادابھی کرے ،ایک شخص ضلع افسرہے توضلع بھر میں اس کی افسری کاڈنکابھی بجے اورکوئی شخص ملک کاسربراہ ہوتواس کاہرلفظ سر آنکھوں پرہواور جوخود کہتاہے کہ (اناالحکم اللہ)اسی کے حکم کی ذرہ بھرپرواہ نہ ہو۔ادھر ہر طرف دین کے نشانات مٹ رہے ہوں ادھررقص وسرورکی مجالس سج رہی ہوں،گانابجاناکلچرکے نام پررواہو،پینے پلانے کی کھلی اجازت ہو،چوری چکاری ،بدعنوانی،رشوت خوری موجود ہو، رزقِ حلال کاحصول ناممکن کردیاہو،جوبچاکھچادین قوم میں صدیوں کے انحطاط کے باوجودباقی چلاآرہاہو اس کابھی صفایاکیاجا رہاہو،قوم باربارپکارے کہ ہمیں دین کی حکمرانی اور اسلام کاقانون چاہئے، اسی کے خلاف ساری قوت اورطاقت استعمال ہورہی ہواوردین سے ہرقدم دورجارہاہو، برسوں کاسفرزندگی مکہ مدینہ کی سمت چھوڑکرکسی اورہی سمت کیاگیا ہوتووہاں شکوہ دین کہاں سے آئے گا،پھر جب نہ شکوہ ملک ہونہ شکوہ دین توپھرآزادبندہ مومن کہاں ملے گااوریہی وجہ ہے کہ عیدکادن ہجوم ِ مومنین کے سواکچھ نہیں،اس لئے عیدکی خوشی کااظہارایک کارڈیافون پرپیغامات کی ترسیل میں وقت ضائع کرنے کے سواکچھ نہیں۔
ہاں البتہ اگرعید کی حقیقی خوشیوں کاحصول چاہتے ہیں تویہ بہترین موقع ہے کہ غزہ اورکشمیری شہداکے وہ ہزاروں خاندان جواس وقت غربت اورفاقہ کشی کی حالت میں کسی سے بھی اپنایہ دکھ بیان نہیں کرسکتے اورغیرانسانی حقوق کی پابندیوں کے وجہ سے دوسرے ملک کے افرادبھی ان تک امدادپہنچانے سے قاصرہیں،آپ کی فوری توجہ کے مستحق ہیں۔ جلدی کیجئے کہیں دیرنہ ہوجائے۔