Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

دعائے آخرِ شب

زندگی کی متاعِ عزیز کیا ہے؟ روپیہ پیسہ زر و جواہر، زمینیں اورجائداد، منصب جاہ وجلال، ناموری، واہ واہ، داد و تحسین، صلہ وستائش، بیوی بچے عزیز و اقربا، یار دوست ،یہی ہے زندگی کی متاعِ عزیز!تو پھر نظریہ کیا ہے، اصول کیا ہے ،حق و صداقت کیا ہے، دار و رسن کیا ہے، شہادت کیا ہے،عشق کیا ہے، محبت کیا ہے،بے غرضی کیا ہے، جاں نثاری کیا ہے، مر مٹنا کیا ہے؟؟؟ بتایئے پھر یہ سب کیا ہیں؟ کسے کہتے ہیں متاع عزیز؟ کیا انکار متاعِ عزیز نہیں ہے؟ جبر کے سامنے انکار، فرعونیت کا انکار، صلہ کا انکار، سودے بازی سے انکار، دولت ِبے بہا کا انکار، باطل کا انکار، سر جھکانے سے انکار ، ظلم و جبر کا انکار، رب کی حاکمیت کے سوا سب کا انکار،یہ انکار متاعِ عزیزنہیں ہے تو پھر کیا ہے؟ انکار؟ انکار اور یکسر انکار، پورے شعور کے ساتھ انکار۔ کوئی مصالحت نہیں بالکل بھی نہیں،جسم انکار،باطل کے سامنے، طاغوت کے سامنے،رب کے باغیوں کے سامنے، نفس پرستوں کے سامنے، دنیائے حرص و تحریص کے سامنے، دھوکے کے سامنے، بے وفائی کے سامنے، خدائی لہجے میں بات کرنے والوں کے سامنے،انکاراور یکسر انکار، پورے شعور اور پورے وجود کے ساتھ انکار۔ بس انکار۔
دلیل چاہے کتنی بھی مضبوط ہو، رب کے سامنے کیا حیثیت رکھتی ہے!بس انکار، لیکن انکار اپنے نفس کو خوش کرنے کے لئے نہیں، نفس کو خوش کرنے کے لئے انکار تو انکارِ ابلیس ہے۔ اپنے رب کے لئے انکار،یہی ہے اصل اور کچھ نہیں۔ نہیں مانیں گے کسی کی بھی۔ کسی طاقت کی، کسی بھی نظام باطل کی،نہیں مانیں گے چاہے لاکھ دلیلیں دو۔ بس مانیں گے تو صرف رب اعلیٰ کی، بس اسی کی اور کسی کی بھی نہیں۔ یہی توحید ہے اور ہے کیا توحید؟ میرا دین تو شروع ہی انکار سے ہوتا ہے یعنی ’’لا‘‘سے۔ پہلے انکار کی منزل ہے پھر تسلیم کی۔ میں انکار کئے بغیر تسلیم کیسے کر سکتا ہوں!اگر میں انکار نہ کروں اور تسلیم بھی کروں تو یہ منافقت ہے جو قابلِ قبول نہیں ہے۔ ملاوٹ نہیں خالص درکار ہے، بالکل خالص، چاہے ذرہ ہی ہو ۔ ملاوٹ شدہ پہاڑ درکار نہیں ہے۔ یہی ہے اخلاص اور کیا ہے!
انکار روحِ اسلام ہے۔انکار روحِ حسینیت ہے۔ انکار،۔جا، نہیں مانیں گے۔ تمہارے دھوکے تمہیں مبارک، ہمارا سچ ہمیں۔ انکار لکھنے میں بہت آسان ہے۔ پنج حرفی لفظ، بہت آسان ہے لکھنا، کرنا بہت مشکل ہے۔ جان لیوا ہے، بہت نقصان دہ، بہت قربانی چاہتا ہے۔ خود سے بھی لڑنا پڑتا ہے ۔ اپنا انکار بھی، نہیں اپنی بھی نہیں مانوں گا۔ بہت مشکل ہے یہ بہت کٹھن منزل۔ معرکہ خیر و شر کیا ہے؟ معرکہ حق و باطل کیا ہے؟یہی تو ہے حق کا ساتھ دینا خیر، باطل کا ساتھ دینا شر۔ رب کے سامنے تسلیم خیر اور ابلیس کا پیروکار بننا شر۔ معرکہ خیر و شر یہی ہے۔ بس یہی ہے۔ پورے عالم میں یہی کچھ ہوتا ہے ۔ ہوتا رہے گا ۔ نہیں رکے گا یہ معرکہ۔ کربلا کا درس کیا ہے؟ جنگِ بدر کیا ہے؟ جہاد کیا ہے؟ یہی ہے بس۔ سب کا درس ایک ہے: بس انکار۔ انکارکرو تو جان سے گزرنا پڑتا ہے۔ خاندان نثار کرنا پڑتا ہے۔ سب کچھ قربان کرنا پڑتا ہے۔ آگ و خون میں نہانا پڑتا ہے۔ خا ک آلود ہونا پڑتا ہے۔ اپنی خواہشات کو ذبح کرنا پڑتا ہے۔ تیز دھار پر سے گزرنا پڑتا ہے۔ لاشے اٹھانے پڑتے ہیں۔ جب شعور کے ساتھ انکار ہو تو ہر لاشہ اٹھاتے ہوئے یقین بڑھتا ہے۔ پختگی آتی ہے۔ رب اعلیٰ کے لئے سب کچھ قربان کرنے کا حوصلہ پیدا ہوتا ہے۔
سرشاری اسے ہی کہتے ہیں۔ ہنستے کھیلتے لاشے اٹھانا اور پھر آواز ِبلند سے رب کی کبریائی بیان کرنا۔ یہی ہے دین، اور ہے ہی کیا!اسے کہتے ہیں اپنی نذر پوری کرنا۔ اپنے دعوے کی صداقت کو مجسم کر دینا۔ لیکن یہ ہے بہت مشکل، توفیق پر ہے یہ۔ جانوں کا نذرانہ پیش کرنا اور رب سے التجا کرنا کہ قبول کر لیجیے ہماری قربانی،اور پھر یقین کی منزل پر پہنچ کر پکارنا : ’’کہہ دو بے شک میری نمازاور میری قربانی اور میرا جینا اور میرا مرنا اللہ ہی کے لئے ہے جو سارے جہانوں کا پالنے والاہے‘‘۔ رب کے لئے خالص۔ باطل ہمیشہ سے گھمنڈی ہوتا ہے، دھوکے کا شکار ۔
آنکھیں کھول کر دیکھو کہ آج بھی یقین کی منزل پانے والے ہی دراصل کامیاب ہیں۔ غزہ میں کیا ہو رہا ہے؟ ڈاکٹر خالد جو پچھلے 40برسوں سے میرا غم خوار،ہمدرد اور سب سے بڑی بات کہ انکار کی دولت سے مالامال تھا، اس کی غزہ میں شہادت کی اطلاع ملی کہ وہ اپنے خاندان کے 45 افراد کو ظلم کے خلاف انکار پر خود بھی ان کے ساتھ جا ملا تھا اور آج اس کے غائبانہ نمازِ جنازہ پڑھانے کے لئے دوست احباب مجھے مجبور کر رہے تھے۔ میں ایمانداری سے سمجھتا ہوں کہ میرے رب کے حکم کے مطابق تو شہید تو زندہ ہوتے ہیں اور انہیں مردہ کہنے سے بھی منع کیا گیا ہے تو پھر ہم اپنی بے حسی کے ہاتھوں مردہ افراد کیسے زندہ افراد کا جنازہ پڑھ سکتے ہیں؟
نصف صدی قبل ملنے والا میرا یہ غم خوار اور مونس مجھے بہت یاد آرہا ہے۔ اس سے پہلی ملاقات امریکا میں زمانہ طالب علمی میں ہوئی جہاں محمد مرسی شہید بھی ہمارے اس انکار کے قافلے میں شریک ہو گئے۔ برسوں مل کر منزل کی اس تلاش میں رہے کہ آخر رب کی دنیا میں آنے کا مقصد کیا ہے اور اس کے حصول کا راستہ کیا ہے؟ رب کے بندوں کو بندوں کی غلامی سے نکال کر دوبارہ رب کی بندگی میں لانے کا طریقہ کیا ہے؟بالآخر یہی پنج حرفی انکار سامنے آن کھڑا ہوجاتا تھا کہ دنیا کے اس باطل نظام کا انکار ہی تو اس انکار کی منزل ہے۔ ہم ایک دوسرے کے ساتھ گھنٹوں اس بحث ومباحثہ میں گزارتے تھے کہ دیکھتے ہیں کہ ’’انکار‘‘کی منزل پر پہلے کون پہنچتا ہے۔
چشمِ فلک نے دیکھا کہ میرے رب نے انہیں قاہرہ کے ’’تحریر اسکوائر‘‘میں توحید کا یہ نعرہ بلند کرنے کی نہ صرف توفیق عطا فرمائی بلکہ مصر کی حکمرانی عطا فرما دی اور میرا وہی رب جو ہزاروں سال قبل ایک اندھے کنوئیں میں سے ایک بچے کو نکال کر نہ صرف مصر کی حکمرانی عطا کردیتا ہے بلکہ پیغمبر کے بڑے منصب پر بھی فائز کردیتا ہے اور پھر ’’قصص قرآنــ‘‘کی زینت بنا کرقیامت تک کے لئے ایک خصوصی باب ’’سورہ یوسف‘‘کے نام سے انہی انکار کرنے والوں کے حوصلے کو بڑھانے کے لئے گواہی کے طور پر رقم کر دیتا ہے۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں