Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

مسلمان کب بیدارہوں گے ؟

امریکہ میں چنددہائیاں پیشتر،گوروں کے ہوٹلز اورکلبزکے باہربورڈآویزاں ہوتاتھاجس پرلکھا ہوتا تھا’’کتوں اورکالے لوگوں کاداخلہ ممنوع ہے‘‘ لیکن مکافاتِ عمل نے وہ دن بھی دکھایاجب ایک سیاہ فام وائٹ ہائوس میں داخل ہوا،اورآٹھ سال تک قصرسفیدمیں ملک کے سیاہ وسفیدکامالک بن گیا۔ امریکہ میں کالوں اورگوروں کاتعصب اتنا وسیع رہاہے کہ سیاہ فام کولن پاول سابق وزیرخارجہ امریکہ اورسیاہ فام وزیرخارجہ کنڈولیزارائس گوروں کیلئے مخصوص گرجاؤں میں عبادت کیلئے داخل نہیں ہوسکتے تھے۔
2008ء کے کالے اورگورے امریکی عوام نے اس الیکشن میں ثابت کیاکہ انہوں نے رنگ ونسل کے تعصب کومٹاڈالا،قصرسفیدکے فرعون بش کی ظالمانہ وحشیانہ قتل وغارت گری سے بھرپور تعصب اوربڑ ے سرمایہ داروں کوتحفظ فراہم کرنے والی،عوام کو کچل دینے والی پالیسیوں کوامریکی عوام کی اکثریت نے مستردکرتے ہوئے بش کے خاص ساتھی جان میک لین کے مقابلے میں بارک اوباما کے حق میں ووٹ دیئے۔امریکہ کے 89 فیصد مسلمانوں نے اوباماکواور2 فیصد نے جان میک لین کوووٹ دیئے۔اوباما کو ووٹ دینے والوں میں اکثریت ان عیسائی ووٹرزکی تھی جوانسان ہیں،انسانی شکل میں وحشی درندے نہیں جوظلم کے خلاف تھے، جودین اسلام اورمسلمانوں کے خلاف امریکی جارحانہ جنگ کے خلاف تھے ۔آج بھی اوباماکے ووٹرزکے بارے میں یقین کے ساتھ کہاجاسکتاہے کہ ان میں کوئی متعصب عیسائی نہیں ہوگا۔
چودہ صدیاں قبل قرآن مجید کی آیات میں رنگ ونسل کے امتیازکا خاتمہ کیا جا چکا ہے،اے انسانو! ہم نے تم کوایک مرداورایک عورت سے پیداکیاہے اورتم کومختلف قومیں اورمختلف خاندان بنائے تاکہ ایک دوسرے کوشناخت کرسکو۔اللہ کے نزدیک تم سب میں بڑاعزت والاوہی ہے جوسب سے متقی ہو۔اللہ خوب جاننے والاپوراخبردار ہے۔ (حجرات:13)
رسول للہ ﷺ کے خطبہ حجتہ الوداع میں بھی یہ یاد دہانی موجودہے۔آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:تم سب اولادِآدم ہو،اس لئے کسی گورے کو کالے پراورعربی کوعجمی پرکوئی فوقیت نہیں ہے کیونکہ اللہ کے نزدیک وہی باعزت ہے جوزیادہ متقی ہو۔ متقین وہ لوگ ہیں جو اللہ کی ناراضگی اوراس کے دنیاوی اورآخرت کے عذابوں سے ڈرتے ہیں، ایمان اورعمل میں پکے مسلمان ہیں۔اسی خطبہ میں رسول اللہ ﷺ نے ارشادفرمایا ’’میں تمہارے پاس دومرکزثقل چھوڑے جارہاہوں۔ اگرتم انہیں مضبوطی کے ساتھ تھامے رہوگے توکبھی گمراہ نہ ہوگے، ایک کتاب اللہ اوردوسری میری سنت‘‘۔
اوباما کے لئے صدارت پاکستان کے حکمرانوں کی طرح آسان،عیاشیوں،فضول خرچیوں،اورقوم سے غداریوں کی مانندنہیں تھی۔ امریکی صدارتی کرسی اوباما کے لئے ایک امتحان ثابت ہوئی کیونکہ اوباماکواپنے ووٹرزکی توقعات پرپورااترناتھا جنہوں نے پہلی بار ایک کالے فردکوبطورامریکی صدرکے لئے منتخب کیا۔ایسانہیں ہواکہ بش کی طرح اوبامانے خودکوامریکہ اور دنیا بھرکاشہنشا ہ سمجھنا شروع کردیااورکانگرس اورامریکی عوام کو اپنی انگلیوں پرنچانے لگ گیا۔اوبامانے اپنی عوام اور دنیابھرکے پرامن لوگوں سے یہ وعدہ کیاکہ زمین پر جگہ جگہ انسانوں کاقتل عام بندکرکے،جھوٹ سے گریزکرتے ہوئے زمین پرامن قائم کرے گا لیکن صد افسوس کہ اوبامابھی اپنے ہاں کی نمک کی کان میں داخل ہوتے ہی نمک بن گئے اورانہیں قصر سفیدمیں پہلی روایتی بریفنگ میں اداروں نے اپنی ترجیحات سے مطلع کردیا کہ اوباماکوبھی بش کی پالیسیوں کی پیروی کرناہوگی جبکہ امریکی عوام نے ’’تبدیلی کے بینر‘‘ہاتھوںمیں لئے امریکی الیکشن میں بھرپورحصہ لیاتھا،معیشت کوتباہ کردینے والی وحشیانہ خونی جنگی پالیسیوں میں تبدیلی کے لئے اوباما کوکرسی صدارت پربٹھایاتھا۔2008ء کاامریکی الیکشن دراصل عوامی ریفرنڈم کی حیثیت رکھتاتھاجس میں امریکی عوام نے بش کی تمام پالیسیوں کوٹھوکر ماردی تھی لیکن اس کے باوجوددرپردہ قصرسفیدکے سرکش گھوڑے کاچابک انہی اداروں کے پاس رہاجو پچھلی کئی دہائیوں سے اپناکام کررہے ہیں ۔
یہ درست ہے کہ دنیاکے اکثرلوگ،درندہ صفت شیطان بش اوراس کے ساتھیوں کی شکست اور امریکی عوام کی فتح پرخوش تھے لیکن سوال ہے کیا اوباماامریکامیں متعصب یہودیوں کے مضبوط جال سے باہرنکل کرامریکی عوام کی توقعات پر پورااتر سکے؟ اس کاجواب نفی میں ہے۔پینٹاگون اور وائٹ ہائوس کے اندریہودی ایک مضبوط سازشی زمین پرفتنہ وفساد پھیلا نے والی ایسی قوت ہیں جن کی مرضی کے بغیرامریکی حکومت کوئی ایسی پالیسی بھی وضع نہیں کرسکتی۔خودامریکہ کے مشہور زمانہ سینیٹر ’’پال فنڈلے’‘‘جنہوں نے اپنی ساری عمر امریکی اقتدارکی غلام گردشوں میں گزاری،امریکی حساس اداروں کے اعلیٰ عہدوں پربراجمان رہے لیکن بالآخر1985ء میں اپنی کتاب’’دے ڈئیرٹواسپیک آؤٹ‘‘میں اس یہودی لابی کاسارا کچاچٹھاکھول کررکھ دیا۔کئی برس تک ان کی کتاب کوشائع نہیں ہونے دیاگیااوراس ساری صورتحال کابھی اسی کتاب کے آغازمیں تفصیلاً ذکرموجودہے۔
صدارتی فتح حاصل کرنے کے بعداوباماکی طرف سے پہلااعلان وائٹ ہاؤس کے نئے چیف آف اسٹاف کی تقرری کاسامنے آیااور انہوں نے ’’ریم ایمانوئیل‘‘اسرائیلی نژاد یہودی کووائٹ ہاؤس کانیاچیف آف اسٹاف بناکرطاقتورحلقوں کے ہاتھوں شکستِ فاش اوراپنی اطاعت کااعلان کردیا۔الیکشن رزلٹ کے بعد9نومبر2008ء کویہ اعلان بھی سامنے آگیاکہ اوبامانے شرپسند، فتنہ انگیزہندوتنظیموں کی پشت پناہی کرنے والے متعصب بھارتی ہندو’’سونل شا‘‘ کو اپنا اقتصادی مشیرمقررکردیاہے۔دنیاکے لوگوں بالخصوص مسلمانوں کواس صورتحال کودیکھ کریہ اندازہ توہوگیا کہ اوباما الیکشن رزلٹ کے فورابعدیہودوہنود، اسرائیل وبھارت کے جادوکاشکارہوچکا ہے اور اب اوباماانتخابات میں کئے گئے وعدوں کی پاسداری کرنے کی بجائے اس کرہ ارض پرامن کا راستہ اختیارکرنے سے قاصرہے اوروہ بھی بش کی شروع کی گئی کروسیڈ(صلیبی جنگ)کوجاری رکھے گابلکہ اوباماکے ہاتھوں اس جنگ میں مزیدشدت پیداکی جائے گی۔وہ جنگ جو2001 ء سے جاری ہے،وہ اب اک نئے اندازسے جاری رہے گی جہاں مسلم حکمرانوں کے سامنے امریکی امن کی خواہش اورمسلمانوں سے مزید قربت کااظہاراور درپردہ اس خطے میں اپنی جارحیت پرپردہ ڈال کراپنی کامیابی کاحصول ہوگا۔پھروقت نے یہ ثابت کردیاکہ اوبامانے تمام مسلم دنیا کوخطاب کرنے کے لئے اپنے پٹھومصری حکمران حسنی مبارک کی میزبانی میں قاہرہ مصرکاانتخاب کیااور اپنی چکنی چپڑی باتوں سے مسلم امہ کویقین دہانی کروانے کی کوششیں کیں لیکن تاریخ نے یہ ثابت کردیاکہ اوباما کاکردارکسی طورپربھی بش سے کم خوفناک نہیں رہااوراوباماکی تقریرپرمیراتجزیہ صدفی صددرست رہا۔
ہمارے ہاں بیشتراس غلط فہمی میں رہے کہ امریکامیں جنگی جنون میں مبتلاحملہ آورکر وسیڈیوں کے خلاف مزاحمتی جنگ اس وقت تک جاری رکھنی ہوگی جب تک صلیبی افواج افغانستان اورعراق سے اپنے مما لک میں واپس نہیں چلی جاتیں لیکن میرا اس وقت بھی یہ کہناتھاکہ امریکہ یہودی نژاد’’ہنری کسینجر‘‘کے مرتب کردہ خوفناک پلان’’ون ورلڈ آرڈر‘‘ پراس وقت تک پیچھے نہیں ہٹے گاجب تک خودامریکااپنی غلط پالیسیوں کی بناپرٹوٹ نہیں جاتاجس طرح سوویت یونین بالآخرچھ ٹکڑوں میں تقسیم ہوکرروس بن گیاہے۔یہ بات سب لوگوں کے علم میں ہے کہ2001ء میں امریکی صدر بش نے اعلان جنگ کرتے ہوئے اس جنگ کانام کروسیڈ (صلیبی جنگ)پکاراتھا۔ماضی میں تما م صلیبی جنگیں صرف دین اسلام کوختم کرنے، مسلمانوں کوہلاک کرنے اوران کے ممالک پرقبضہ کرنے کے لئے لڑی جاتی رہی ہیں ۔ امریکہ نے زیادہ چالبازی سے کام لیتے ہوئے کروسیڈکے کئی دیگرنام بھی رکھے مثلاً ’’وارآن ٹیررازم کے خلاف جنگ،دہشت گردی کے خلاف جنگ، انتہا پسندی کے خلاف جنگ،شدت پسندوں کے خلاف جنگ، عسکریت پسندوں کے خلاف جنگ‘‘ وغیرہ ۔ 2001ء سے آج تک بنائے گئے اہداف میں کسی عیسائی،یہودی،ہندوسکھ کونشانہ نہیں بنا یاگیا،کسی مندر، گرجاگھر،آتش کدہ کوزمین دوزنہیں کیاگیا۔ کسی کرسچن ملک یالادین (سیکولر)ملک پرحملہ نہیں کیاگیا۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں