Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

مسلمان کب بیدارہوں گے ؟

(گزشتہ سے پیوستہ)
کئی ناموں سے لڑی جانے والی صلیبی جنگ میں حملہ آوروں کاہد ف صرف اورصرف مسلمان، ان کے ممالک واحدمعبود اللہ تعالیٰ ،رسولﷺ قرآن مجید،مساجداورقرآن پڑھانے والے، نماز سکھانے والے دینی مدارس رہے۔پاکستان کے کروڑوں مسلمانوں کی بدقسمتی یاکمزوری یہ تھی کہ اس زمانے میں ہمارے ہاں اقتدارکے سیاہ وسفیدکے مالک ڈکٹیٹر پرویزمشرف اوراس کے تمام مشیراس صلیبی جنگ میں حملہ آورکفارکے خاص اتحادی اورمددگاربن گئے اورشاہ سے زیادہ شاہ کی وفاداری کاثبوت دینے لگ گئے۔ان صلیبی افواج نے ہمارے قبائلی علاقوں اورسوات میں فضائی بمباری کے ذریعے اورافغانستان کی سمت سے امریکی ونیٹو افواج اور جاسوس طیاروں کوسرزمین پاکستان پرحملہ آورہونے کے مواقع فراہم کرکے تقریباًہرروزمسلمانوں کاقتل عام کیا۔ستم ظریفی کی بات تویہ ہے کہ اس پرائی جنگ میں جان ومال کی قربانی دینے والے ملک پر430 ڈرون حملے کرکے 1750 افرادکے پرخچے اڑا دیئے گئے ۔
جونہی 18جون 2004ء کوواناوزیرستان میں نیک محمدسمیت5افرادکواپناہدف بناتے ہوئے پہلے’’ایم کیونائن ڈرون‘‘حملہ میں شہیدکردیا تو مشرف نے اس کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے قوم کے سامنے جھوٹ بولالیکن فوری طورپر پینٹاگون نے اپنے غلام کے جھوٹ کاپردہ چاک کرتے ہوئے اسے اپناکارنامہ قرار دے دیا۔ اپریل 2011 ء میں پاکستانی فوجی اور سیاسی حکام نے امریکا سے ڈرون حملے بند کرنے کے لیے کہا، زخمیوں کا علاج کرنے والے طبیبوں نے بتایا ہے کہ امریکی ڈرون کے ذریعہ کیمیائی ہتھیار استعمال کر رہے ہیں۔ حملہ کے بعد امدادی کارروائی کرنے والوں پر امریکی ڈرون دوبارہ حملہ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ مرنے والوں کے جنازہ پر بھی ڈرون پھر حملہ کرتے ہیں۔ ان ڈرون کو امریکی فوجی اور کارندے چلاتے ہیں۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق ہرہفتے قتل کے لئے افرادکاانتخاب خود امریکی صدربارک اوباما کرتاتھا۔ اوبامانے2012 ء میں دوبارہ صدارت جیتنے کے بعدبھی پاکستان پرڈرون حملے جاری رکھے اورامریکی تاریخ میں سب سے زیادہ ڈرون حملے اوباماکے حکم پرکئے گئے۔ پاکستان کے علاوہ دیگرمسلمان ممالک، افغانستان، یمن اورصومالیہ پربھی ڈرون حملوں کے ذریعے مسلمانوں کوتہہ تیغ کیاگیا۔
ٹاپ سیکرٹ دستاویزات اور سفارتی مراسلوں کے حوالے سے انکشاف کیا گیا ہے کہ سی آئی اے نے پاکستانی حکام سے ڈرون حملوں پر معلومات کا تبادلہ کرنے کے لئے خصوصی دستاویزات تیار کیں۔ پاکستانی حکام نے نہ صرف کئی برسوں سے امریکی ڈرون حملوں کی توثیق کی ہے بلکہ انھیں ان حملوں اور ہلاکتوں کے بارے میں بریفنگ بھی دی جاتی رہی ہے۔ امریکی اخبار نے سی آئی اے کی خفیہ دستاویزات جن میں پاکستان کے قبائلی علاقوں میں درجنوں ڈرون حملوں کا ذکر کیا گیا اور ان کے ساتھ نقشے اور حملے سے قبل اور بعد کی تصاویر بھی ہیں۔ امریکی اعداد و شمار کے مطابق 2006ء سے لے کر آخری ڈرون حملہ تک پاکستان میں 389ڈرون حملے کئے گئے جن میں2ہزار 797افرادکوٹارگٹ کرکے قتل کیاگیا جبکہ اس کے علاوہ200کے لگ بھگ عام شہریوں کوبھی شہیدکردیاگیاجبکہ مقامی افرادکے مطابق حقیقت میں صحیح اعدادوشماراس سے کئی گنازیادہ ہیں۔ قصرسفیدکے فراعین نے صرف مسلم ممالک پاکستان کے علاوہ افغانستان،صومالیہ،یمن اورلیبیا میں بھی ڈرون حملوں کے ذریعے ہزاروں مسلمانوں کوشہیدکیا۔سب سے زیادہ ڈرون حملوں کاحکم اوبامانے دیا۔
اس پرائی جنگ میں73ہزارافرادکی قربانی اور100بلین ڈالرکے نقصان کے باوجودہمارے سیاسی جمہوری حکمرانوں کی تائید اور سپہ سالا رکی کمان میں،پاکستانی قوم کی تنخواہ دار افواج نے نمک حلالی اورجوانمردی کی بے شمارمثالیں قائم کیں۔امریکہ نے ہزاروں بستیوں کورہائشیوں سمیت جلا ڈالا، ہزاروں مساجد اورلاکھوں قرآن مجیدکے نسخے شہید ہوئے ۔کئی لاکھ مسلمان ہلا ک کردیئے گئے،کئی لاکھ مفلوج اورکئی لاکھ بے گھرکردیئے گئے اورآج بھی پاکستان میں مختلف افغان مہاجرین کے کیمپ اس ظلم وستم کی گواہی کے لئے موجودہیں ۔
ابھی یہ ستم ختم نہیں ہواتھاکہ غزہ میں آگ وخون کاہولناک کھیل جاری ہوگیا۔درجنوں پڑوسی مسلم ممالک صرف زبانی احتجاج سے آگے نہ بڑھ سکے ۔پچھلے چھ مہینوں سے غزہ کے مسلمان اس جوانمردی سے مقابلہ کررہے ہیں کہ خوداسرائیل جوفرعونی طاقتوں کی زبان میں فلسطین کانام ونشان مٹانے کادعویٰ کررہاتھا،اب تک اپنے مغویوں کوبازیاب نہ کراسکا اوربالآخراپنی شکست کا اعتراف کرتے ہوئے مذاکرات کی میزپر بیٹھا التجا کر رہا ہے۔ یادرہے کہ نیتن یاہواپنی سیاسی مکاریوں اور داؤپیچ کی بنا پراسرائیل کا طویل ترین وزیراعظم کاریکارڈقائم کرچکاہے۔2017ء میں کرپشن کے سنگین الزامات کے بعداس کے مخالفین اس کی دائمی سیاسی موت کے لئے بڑے پریقین تھے کہ یہ2022ء میں انتہائی دائیں بازوکی جماعتوں کی مددسے چھٹی باروزارتِ عظمیٰ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔اقتدارمیں آتے ہی اپنی کرسی کومضبوط کرنے کے لئے کچھ اہم عدالتی اختیارات پارلیمنٹ کومنتقل کرنے کی کوشش کی جس پرحزبِ اختلاف اورسول سوسائٹی نے ایسی سخت مزاحمت کی کہ لگتاتھاکہ اب یقینانیتن یاہوکابستر گول ہوجائے گالیکن اچانک 7اکتوبرکوحماس کے ساتھ جنگ شروع ہونے پرسیاسی دلدل میں غرق ہونے سے صاف بچ گیا۔
یہی وجہ ہے کہ عالمی سیاسی تجزیہ نگاربھی غزہ میں طویل جنگ جاری رکھنے پریہ کہنے پرمجبورہوگئے ہیں کہ جنگ بندی کی صورت میں نیتن یاہوپردوبارہ استعفٰیٰ کے لئے دباؤبڑھ جائے گا اوراستعفٰیٰ کی صورت میں پرانے الزامات اورمقدمات ان کی راہ بے چینی سے تک رہے ہیں جن کے نتیجے میں نیتن یاہوکی بقیہ زندگی جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزرے گی۔نیتن یاہو کیمپ کانظریہ ہے کہ جب ملک حالتِ جنگ میں ہوتوانتخابات چے معنی دارد۔ویسے بھی رائے عامہ کے مختلف جائزوں کے مطابق اس وقت اوسطاً 70فیصدسے زائداسرائیلی شہری یرغمالیوں کے بے یقین مستقبل کے باوجود غزہ کی مہم کو منطقی انجام تک پہنچانے کے حق میں ہیں۔ادھرنیتن یاہوبھی یہ سمجھتاہے کہ اس کی سیاسی بقا بھی خطے میں ایسی جنگ میں مضمرہے جہاں اسرائیلی باشندوں کویہ یقین دلادیاجائے کہ اسرائیل کی سلامتی کے لئے نیتن یاہوکس قدرضروری ہے۔
یہی وجہ ہے کہ نیتن یاہونے انتہائی مکاری سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دمشق شام میں ایران کے سفارت خانے پرحملہ کرکے وہاںالقدس فورس کے دو اعلی عہدیداروں سمیت آٹھ افرادکوہلاک کردیاجس کاواضح مطلب یہ ہے کہ وہ اس علاقے میں جنگ کے شعلوں کوہوا دے کرایک بڑی جنگ کا آغاز کرناچاہتا ہے جہاں ایک مرتبہ پھرنئی صلیبی جنگ کاماحول پیداکیاجاسکے ۔ایران نے اپنے فوری اورشدیداحتجاج میں یہ واضح کردیاکہ وہ اس جارحیت کاجواب ضرور دے گااوراس نے اسرائیل کے مربی امریکاکوبھی آگاہ کردیاجس پرامریکی صدرجوبائیڈن نے چنددن قبل عالمی میڈیاپرایرانی حملے کے خدشات کااظہاربھی کردیاتھا۔
بالآخرایران نے اپنے سفارت خانے پرحملے کے جواب میں ہفتہ کی رات محدودجنگ کانام دیتے ہوئے اسرائیل پر170دھماکہ خیز ڈرون، 360مختلف خطرناک ہتھیاروں ، کروز میزائل، 120بیلیسٹک میزائل داغ دیئے جبکہ اسرائیلی فوج کادعویٰ ہے کہ 99فیصد میزائلوں اورڈرونزکوہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی’’ایرو‘‘ نامی فضائی دفاعی نظام اورخطے میں موجود اپنے دفاع میں مددکرنے والے ممالک میں امریکہ اوراردن سمیت اتحادیوں کی مددسے ناکام اورناکارہ بنادیاہے۔
امریکی وزیردفاع لائیڈآسٹن کے مطابق امریکی فوج نے درجنوں میزائلوں اورڈرونزکوناکام بنایاہے۔برطانوی لڑاکا طیارے بھی اس حملے میں شامل تھے اوراسرائیلی فوج کے ترجمان کا کہناتھا کہ فرانس نے فضائی حدود میں گشت کر کے اپنا حصہ ڈالا ہے۔ادھر جوبائیڈن نے اسرائیل پرایرانی حملے کے بعد اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہوکے ساتھ فون پربات چیت میں کہا کہ امریکاایران پر ممکنہ اسرائیلی جوابی حملے میں حصہ نہیں لے گا۔اس وقت عالمی سیاسی منظرپرعجیب کھچڑی پک رہی ہے۔اگر نیتن یاہواپنے اقتدارکی جنگ جیتنے کے لئے یہ اقدام کررہاہے تو کیاایران واقعی غزہ میں قتل وغارت کے چھ ماہ بعدہوش میں آیاہے کہ مٹھی بھر یہودیوں کوڈیڑھ ارب مسلمانوں کویرغمال بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ایسی صورتحال میں قرآن مجید مسلمانوں کی رہنمائی کرتاہے:جولوگ پکے ایمان والے ہیں وہ تواللہ کی راہ میں جہادکرتے ہیں اورجولوگ کافرہیں وہ شیطان کی راہ میں لڑتے ہیں توتم شیطان کے ساتھیوں سے جہاد کرو۔ واقعی شیطانی تدبیرلچرہوتی ہے(نسا: 76)۔ بلاشک جولوگ ہماری آیات کے منکرہوئے ہم ان کو عنقریب ایک سخت آگ میں داخل کریں گے جب ایک دفعہ ان کی کھال جل چکے گی توہم اس پہلی کھال کی جگہ فوراً دوسری کھال پیداکردیں گے تاکہ عذاب بھگتتے رہیں۔بلاشک اللہ تعالی زبردست حکمت والے ہیں(نساء :86)
سرے محل اورسوئس اکائونٹ والے زرداری اورشریف خاندان،وزرااورمشیران وغیرہ اوردیگر تمام مقتدرحلقے جو2001ء سے لے کر امریکی اوراتحادی افواج کے انخلاتک امریکی پرچم کے زیرسایہ لڑی جانے والی صلیبی جنگ میں کروسیڈکے اتحادی یا مددگار رہے، آیات مبارکہ سے ہرچیزواضح ہوجاتی ہے کہ وہ شیطان کے ساتھی رہے۔یہ فیصلہ اللہ تعالی کاہے جس کی سلطنت آسمانوں اورزمین میں ہے۔وقت کی یہ پکارہے کہ دنیاکے مسلمان سورہ توبہ کوبغورپڑھیں ۔
کچھ بھی نہیں،پہلے کون رہا ہے یہاں،جواب رہے گا۔کچھ بھی تونہیں رہے گا،بس نام رہے گامیرے رب کا۔

یہ بھی پڑھیں