(گزشتہ سے پیوستہ)
حضرت سیدنامنصورؒبن عمارفرماتے ہیں کہ جب بندہ مرجاتاہے تووہ پانچ حالتوں سے گزرتاہے:
اس کامال وارثوں کا،اس کی روح ملک الموت کیلئے،اس کاگوشت کیڑوں کیلئے،اس کی ہڈیاں مٹی کیلئےاورپانچویں حالت اس کی نیکیاں ’’حصوم‘‘یعنی قیامت کے دن اپنے حق کامطالبہ کرنے والوں کیلئے ہوتی ہیں۔مزیدفرمایا:وارث مال پرقبضہ کرلیں تودرست،ملک الموت روح قبض کرلیں توباکل درست لیکن ہم اس سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں کہ موت کے وقت شیطان ایمان لے جائے اوراللہ سے جدائی ہوجائے۔اللہ کافراق تو بربادکرکے رکھ دیتاہے جوناقابل برداشت ہے۔
حضرت سیدنامحمدبن نعیم سے رسول کریمﷺ کافرمان مبارک مروی ہے کہ: جبرئیل علیہ السلام جب بھی میرے پاس تشریف لاتے تواللہ عزوجل کے خوف سے کانپ رہے ہوتے ۔ جب شیطان کوقرب وبلندمرتبہ کے بعداس کی نافرمانی کی بناپردھتکارا گیاتوجبرئیل ومیکائیل علیہ السلام دونوں رونے لگے تودلوں کے حال تک جاننے والے رب ذوالجلال نے استفسارفرمایا:تمہیں کیا ہوا، کیوں روتے ہو،حالانکہ میں کسی پرظلم نہیں کرتا۔ تودونوں مقرب ملائکہ نے عرض کی:اے ہمارے علیم وخبیررب!ہم آپ کی خفیہ تدبیریعنی قضا، تیرے قرب کی دوری اورسعادت مندی کے بعد شقاوت سے خوفزدہ ہیں۔تواللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا’’اسی طرح میری خفیہ تدبیرسے ڈرتے رہو‘‘۔
چلئے ایک اورواقعہ’’احیا العلوم ازامام الغزالی‘‘سے آپ سے شیئر کرلیتا ہوں:
ایک روزشیخ شقیق بلخی ؒنے اپنے شاگردحاتم ؒسے پوچھا”حاتم!تم کتنے دنوں سے میرے ساتھ ہو؟توانہوں نے جواب میں کہاکہ گزشتہ 32برس سے آپ کی شاگردی میں ہوں تو شیخ نے پوچھا:بتااتنے طویل عرصے میں تم نے مجھ سے کیاسیکھا؟توحاتم جیسے شاگرد نے جواب دیا ’’صرف آٹھ مسائل‘‘۔توشیخ نے ردعمل میں ’’انااللہ واناالیہ راجعون‘‘ کا ورد کرتے ہوئے فرمایاکہ میرے اوقات تیرے اوپرضائع ہوگئے، تونے صرف آٹھ مسائل سیکھے۔شاگردنے سر جھکا کر کہاکہ استادمحترم!زیادہ نہیں سیکھ سکا، اور جھوٹ بھی نہیں بول سکتا۔شیخ نے کہا ’’اچھا بتا کیا سیکھاہے؟حاتم نے کہا:
٭میں نے مخلوق کودیکھاتومعلوم ہوا، ہر ایک کامحبوب ہوتاہے قبرمیں جانے تک،جب بندہ قبر میں پہنچ جاتاہے تواپنے محبوب سے جدا ہو جاتا ہے۔اس لئے میں نے اپنامحبوب ’’نیکیوں‘‘ کوبنالیاہے کہ جب میں قبرمیں جاؤں گاتویہ میرا محبوب میرے ساتھ قبر میں رہے گا۔
٭لوگوں کودیکھاکہ کسی کے پاس قیمتی چیز ہے تواسے سنبھال کررکھتاہے اوراس کی حفاظت کرتاہے،پھرفرمانِ الہی پڑھا: جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ خرچ ہوجانے والاہے،جوکچھ اللہ کے پاس ہے وہی باقی رہنے والا ہے۔(النحل:96)۔توجوچیزمجھے قیمتی ہاتھ آئی اسے اللہ کی طرف پھیردیاتاکہ اس کے پاس محفوظ ہو جائے جوکبھی ضائع نہ ہو۔
٭میں نے خداکے فرمان پر غور کیا اور جس نے اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف کیااورنفس کوبری خواہشات سے باز رکھا ’’جنت اسی کاٹھکانہ ہوگا(النازعات:(40 تواپنے نفس کوبرائیوں سے لگام دی،خواہشاتِ نفسانی سے بچنے کی محنت کی،یہاں تک کہ میرانفس اطاعتِ الہی پرجم گیا .
٭لوگوں کودیکھا،ہرایک کارجحان دنیاوی مال،حسب نسب،دنیاوی جاہ ومنصب میں پایا، ان امورمیں غورکرنے سے یہ چیزیں ہیچ دکھائی دیں،ادھر فرمان الہی دیکھا::درحقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تمہارے اندرسب سے زیادہ پرہیز گار ہے (الحجرات:13)۔تومیں نے تقویٰ اختیارکیاتاکہ اللہ کے ہاں عزت پاؤں۔
٭لوگوں میں یہ بھی دیکھا کہ آپس میں گمانِ بدرکھتے ہیں،ایک دوسرے کوبراکہتے ہیں دوسری طرف اللہ کا فرمان دیکھا:دنیاکی زندگی میں ان کی بسراوقات کے ذرائع توہم نے ان کے درمیان تقسیم کیے ہیں(الزخرف:32)اس لئے میں نےحسدکوچھوڑکرخلق سے کنارہ کرلیا اور یقین ہواکہ قسمت صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے خلق کی عداوت سے بازآگیا۔
٭لوگوں کودیکھاکہ ایک دوسرے سےسرکشی اورکشت وخون کرتےہیں،اللہ کی طرف رجوع کیاتواس کافرمان نظرآیا:درحقیقت شیطان تمہارادشمن ہے،اس لیے تم بھی اسے اپنا دشمن سمجھو۔(فاطر:6)اس بناپرمیں نے صرف اس اکیلے شیطان کواپنادشمن ٹھہرا لیااوراس بات کی کوشش کی کہ اس سے بچتارہوں۔
٭لوگوں کودیکھاپارہ نان(روٹی کے ٹکرے)پراپنے نفس کوذلیل کررہے ہیں، ناجائز امور میں قدم رکھتے ہیں،توارشادِ باری تعالی دیکھا: زمین پرچلنے والاکوئی جاندارایسانہیں ہے جس کارزق اللہ کے ذمے نہ ہو(ہود:6 )پھرمیں ان باتوں میں مشغول ہواکہ جواللہ کے حقوق میرے ذمے ہیں،اس رزق کی طلب ترک کی جو اللہ کے ذمے ہے۔
٭میں نے خلق کودیکھا،ہرایک کسی عارضی چیزپربھروسہ کرتاہے،کوئی زمین پر بھروسہ کرتاہے،کوئی اپنی تجارت پر،کوئی اپنے پیشے پر، کوئی بدن پر،کوئی ذہنی اورعلمی صلاحیتوں پر بھروسہ کیے ہوئے ہے،میں نے اللہ کی طرف رجوع کیاتویہ ارشاد دیکھا: جواللہ پربھروسہ کرے اس کیلئے وہ کافی ہے (طلاق:3)تومیں نے اپنے اللہ پرتوکل کیا،وہی مجھے کافی ہے۔
شیخ بلخی ؒبے ساختہ پکاراٹھے:اے میرے پیارے شاگردحاتمؒ!اللہ تمہیں ان کی توفیق نصیب کرے،میں نے قرآن کے علوم پرمطالعہ کیاتوان سب کی اصل جڑانہی آٹھ مسائل کو پایا،ان پرعمل کرنے والا گویاچاروں آسمانی کتب کاعامل ہوا۔
نصیحت کرنے والوں کا،ڈرانے والوں کاانجام ہمارےہاں کیایہی ہے؟دنیاوالے کبھی صلیب پرچڑھادیتے ہیں،کبھی دارپر،کبھی اس پرکربلائیں نافذکردیتے ہیں،کبھی وادی طائف سے گزاردیتے ہیں،کبھی کوئی صعوبت،کبھی کوئی،لیکن سلام ودرودہونصیحت کرنے والوں پر جن کے حوصلے بلنداورعزائم پختہ ہوتے ہیں۔ جو گالیاں سن کردعائیں دیتے ہیں اورجوغافلوں سے غفلت کی چادریں اتاردیتے ہیں، اورانہیں بے حسی کی نیندسے جگاتےرہتے ہیں، اس سے پہلے کہ کوئی نصیحتوں سے بھری ہوئی باتیں آپ تک پہنچائیں، اپنے اردگردکے ماحول کی صفائی میں خود کو تیار کریں۔کیاکتابیں پڑھ لیناہی کافی ہے؟نہیں اس کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے،بہت کچھ ۔دنیاوقت کا عبرت کدہ ہے، آنکھیں کھول کر چلناچاہئے۔ اپنی من مانی نہیں کرنی چاہئے پہلے من مانیاں کرنےوالےکہاں گئے؟عشرت کدے، عبرت کدے کیوں بن گئے؟محلات کھنڈرات کیوں ہوگئے؟ دنیامیں جھوٹ بولنے والے کیاکیانشانیاں چھوڑ گئے۔ویرانیاں ہی نشانیاں ہیں۔ پہلے کون رہاہے یہاں،جواب رہے گا۔کچھ بھی تونہیں رہے گا،بس نام رہے گامیرے رب کا!
جہاں میں ہم بھلاکب تک رہیں گے
تماشا ختم ہوگا، چل پڑیں گے
کسی کی آگ میں زندہ رہے تو
ہم اپنی آگ کب روشن کریں گے