1990ء میں افغانستان میں بری طرح شکست کھانے کے بعدجب سوویت یونین کا شیرازہ بکھر گیاجس سے امریکادنیاکی واحدسپر طاقت بن گیالیکن جن ملکوں(پاکستان و افغانستان) کے توسط سے اس کویہ مرتبہ ملا،اس نے اپنی سرشت کے مطابق سب سے پہلے انہی کواپنا ہدف بناتے ہوئے نقصان پہنچانے میں کوئی کسرنہیں چھوڑی اوراس نے یہ ثابت کر دیاکہ امریکاکی دوستی اس کی دشمنی سے بھی بدترہے۔جونہی واحد سپرطاقت کانشہ دوآتشہ ہواتواس نے فوری طور پر دنیاکی سیاست اورجغرافیے میں تبدیلیوں کیلئے متعصب یہودی نژادامریکی ہنری کسینجرکے مرتب کردہ ’’نیو ورلڈآرڈر‘‘ جیسے منحوس پروگرام کو بالجبر نافذکرنے کیلئے جارحیت کا آغازکردیاتاکہ کوئی بھی قوت اس کے مدمقابل نہ آسکے۔سب سے پہلے ایک منظم پروگرام کے مطابق اکتوبر2001ء میں نائن الیون کوجوازبناکرافغانستان پروحشیانہ جارحیت کاآغازکیااوران تمام عناصرکوختم کرنے کی کوشش کی گئی جن کوامریکااپنے مدمقابل سمجھ رہاتھا۔
اس کے بعدامریکانے اپنی خفیہ ایجنسیوں کی بے بنیادمعلومات کوبہانہ بناکرکہ عراق کے پاس دنیاکو تباہ کرنے کیلئے مہلک ہتھیار کی موجودگی کابے سروپاالزام لگاکرمشرقِ وسطیٰ کے ایک خوبصورت اورترقی یافتہ تہذیب یافتہ اورتیل سے مالامال ملک عراق پرحملہ کردیامگرآج تک امریکانہ صرف اس الزام کوثابت نہیں کرسکابلکہ اس کے سیکرٹری خارجہ کولن پاؤل کو اقوام متحدہ میں اپنے اس جھوٹ کے پلندے اورسابقہ بیان پرشرمندگی اورمعافی کااعتراف بھی کرناپڑالیکن عراق اورافغانستان کوکھنڈرات میں تبدیل اور لاکھوں افرادکوہلاک کرنے کے باوجودابھی تک وہاں مداخلت کاسلسلہ بندنہیں ہوسکااورآئے دن تشدد کے مختلف واقعات میں سینکڑوں افراد کا ہلاک ہوناایک معمول بن گیاہے اوردونوں ممالک کی معیشت آج مکمل طورپرانتہائی خستہ حال ہوچکی ہے جبکہ عراق کے تیل سے مالامال ہونے کے باوجوداس کے اپنے شہری زندگی کی بنیادی سہولتوں سے بھی محروم ہیں۔
دوسری جانب امریکی صدارت کی انتخابات کی تاریخ قریب ہونے پرامریکی صدر اور طاقتور ادارے میڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ آج امریکاپہلے سے کہیں زیادہ محفوظ ہے یعنی امریکانے اپنی سلامتی کویقینی بنانے کیلئے دنیا کی سلامتی کوغیر یقینی صورتحال سے دوچار کر رکھا ہے جس کااندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ امریکی صدرجوگزشتہ ماہ امریکا کے دیوالیہ ہونے پردہائی مچا رہاتھا،اس نے اسرائیل اور یوکرین کیلئے سینکڑوں ارب ڈالر کی امدادمختص کر دی ہے جس میں خطرناک قسم کے اسلحہ کی ترسیل کوتیزرفتاری کے ساتھ پہنچانے کاحکم بھی جاری ہوچکاہے جبکہ دوسری طرف پاکستان کے بیلیسٹک میزائل کے پروگرام کیلئے سامان فراہم کرنے کے الزام میں چین کی 3اوربیلاروس کی ایک کمپنی پرپابندی عائدکردی ہے جبکہ پاکستان نے ہمیشہ بیجاپابندیوں کے باوجوداپنے ایٹمی پروگرام کی ریکارڈحفاظت کاذمہ دارانہ ثبوت دیتے ہوئے متعلقہ عالمی اداروں کو بھی قائل کیاہے کہ پاکستان ہمیشہ’’اینڈیوزاور اینڈیوزر ویریفکیشن میکانزم‘‘ (End use and End User Verification Mechanism)کیلئے تیارہے لیکن ایکسپورٹ کنٹرول کے من مانے سیاسی مقاصد اوراطلاق کوہرگزقبول نہیں کیاجاسکتاجبکہ دوسری طرف جوہری عدم پھیلائو پرسخت کنٹرول کرنے کادعویٰ کرنے والوں کواپنے گریبان میں بھی جھانک کردیکھنے کی ضرورت ہے جنہوں نے ان کی ناک کے نیچے بعض ممالک کیلئے جدید فوجی ٹیکنالوجیزکیلئے لائنسنسنگ کی شرط کوبھی ختم کر رکھا ہے بلکہ بھارت کے ساتھ امریکااوراس کے اتحادیوں کے معاہدے خود ان کی دوغلی پالیسیوں کے منہ بولتے ثبوت ہیں اورماضی میں توکھلم کھلا پاکستان اورایران کواس کی بھاری قیمت بھی چکانی پڑی ہے جبکہ نائن الیون کے فوری بعدپاکستان ہی کی سرزمین کواستعمال کرتے ہوئے وہ دنیاکی واحدسپرپاور کہلانے کامستحق ٹھہراتھالیکن اپنی ہی بے وفائی کی تاریخ کودہراتے ہوئے اس نے اپنے انہی آزمودہ دوستوں کویہ کہہ کرغیرمستحکم کرنا شروع کردیاکہ اب سوویت یونین کے کیمونزم کو شکست دینے کے بعداسلام کی باری ہے جس کیلئے پاکستان کانقشہ تبدیل کرنابہت ضروری ہے۔
انہی دنوں جب یہ سازش چل رہی تھی تو معروف امریکی اخبارواشنگٹن پوسٹ کی شائع کردہ ایک رپورٹ سے اس بات کاانکشاف کیا گیا تھا کہ’’امریکانے پاکستان میں ڈرون حملوں، یمن،افغانستان اورافریقہ میں جاری سی آئی اے کے خفیہ آپریشنزاورایرانی ایٹمی پروگرام کوناکارہ بنانے کیلئے سواچھ ارب ڈالر خرچ کئے ہیں جبکہ پاکستان میں مبینہ بائیولوجیکل وکیمیکل لیبارٹریز اور ایٹمی ہتھیاروں کی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی کیلئے بھی سی آئی اے بھاری رقوم خرچ کررہاہے اوردیگر ممالک کے مقابلے میں پاکستان کوامریکی خفیہ نگرانی کی فہرست میں ترجیحی سطح پر رکھا گیا ہے‘‘۔ رپورٹ کے مطابق’’امریکاکوپاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کے متعلق انتہائی تشویش ہے اس لئے پاکستان سے متعلق خفیہ نگرانی کے نیٹ ورک کوپہلے سے کہیں زیادہ وسیع کیا گیاہیــ‘‘۔
اس کے جواب میں فوری طورپرپاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ پرردعمل ظاہرکرتے ہوئے کہا تھاکہ پاکستان ایٹمی ہتھیاروں کے عدم ِ پھیلاؤ کے مقصد پرسختی سے عمل پیراہے اوراس سلسلے میں پاکستان کی پالیسی ضبط اورذمہ داری کی ہے جس کیلئے عالمی اداروں سے ہونے والے مذاکرات کابھی حوالہ دیاگیاکہ انہوں نے بھی پاکستان کے حفاظتی انتظامات کی تعریف کی ہے۔مذکورہ رپورٹ امریکی اخبارنے امریکی ایجنسی سی آئی اے اوراین ایس اے کے سابق اہلکارایڈورڈ اسنوڈن سے حاصل کردہ سی آئی اے کے مفصل سیاہ بجٹ پر مشتمل 178صفحات کی دستاویزات کی بنیادپرشائع کی جس میں امریکی سلامتی سے متعلق پروگرام کی تفصیلات موجودہیں۔ رپورٹ کے مطابق 16 امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کاسالانہ بجٹ 52۔6 بلین ڈالرکے علاوہ 14-7بلین ڈالرسالانہ سی آئی اے پرخرچ ہوتاہے جس میں سے سی آئی اے کانصف بجٹ ہیومن انٹیلی جنس پر خرچ ہوتا ہے۔ یادرہے کہ اس وقت16امریکی انٹیلی ایجنسیوں میں ایک لاکھ7ہزار25ملازمین کام کررہے تھے جبکہ ایک رپورٹ کے مطابق افغانستان،عراق اور لیبیاکی دلدل نکلنے کے باوجودملازمین کی تعدادمیں 8فیصداضافہ ہوچکاہے۔
رپورٹ میں اس بات کابھی انکشاف کیاگیاتھا کہ سی آئی اے اوراین ایس اے دشمن ممالک کے کمپیوٹرنیٹ ورک کوناکارہ بنانے کیلئے ہیک کرتی ہیں،ان میں چین،روس، ایران، اسرائیل اورکیوباکے ممالک شامل ہیں۔رپورٹ کے مطابق2004کے بعدسی آئی اے کیسالانہ بجٹ میں3بلین ڈالر کے لگ بھگ اضافہ کر دیا گیا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکی کمانڈوز نے خلا میں موجودہ سیٹلائٹ کی مددسے پاکستان میں موجوداسامہ بن لادن کومارنے کادعوی بھی کیاتھا۔واضح رہے واشنگٹن پوسٹ کی شائع کردہ یہ رپورٹ ایڈورڈ سڈون کی فراہم کردہ معلومات کی بنیادپرتیارکی گئی تھی۔ ایڈور ڈسڈون امریکی خفیہ اداروں میں کمپیوٹراسپیشلسٹ تھاجوسی آئی اے اوراین ایس اے کیلئے کام کرتا تھا۔ ایڈورڈ سڈون نے مئی2013ء میں امریکی خفیہ ایجنسیوں کے متعلق بہت سے رازافشا کئے تھے اور دنیاکے لوگوں کی خفیہ نگرانی کوغیراخلاقی قرار دیاتھاجس کے بعدوہ امریکی ایجنسیوں کے خوف سے امریکاکوچھوڑکر ہانگ کانگ سے کئی دوسرے ملکوں میں چھپتارہاجس کے بعد اس نے کئی ممالک میں سیاسی پناہ کی درخواست دے دی جبکہ روس نے امریکی مخالفت مول لیتے ہوئے ایڈور ڈسڈون کی سیاسی پناہ کی درخواست قبول کرلی ۔
امریکی خفیہ برقی نگہداشت اورجاسوسی پروگرام میں ٹھیکے پرملازم سٹوڈن کی وجہ شہرت امریکی ادارے برائے قومی سلامتی کے طریقہ کار کا بھانڈہ پھوڑنے پرہواکہ کس طرح امریکااپنے دشمنوں سمیت دوستوں کی بھی کڑی جاسوسی کرتا ہے۔سٹون2003 ء میں امریکی خفیہ اداررے برقی نگہداری اورجاسوسی پروگرامنگ میں بطور محافظ بھرتی ہوا لیکن بعدازاں اپنی دونوں ٹانگیں تڑوا بیٹھا۔2013ء میں سنوڈن نے گارجین کے اخبارنویس گلن گرینوالڈکوپیغام بھیجاکہ اس کے پاس امریکی جاسوسی کے بارے میں اہم مصدقہ موادموجودہے لیکن وہ صرف پی جے پی طریقہ سے برقی رابطہ قائم کرناچاہتاہے۔گرینوالڈاس ٹیکنالوجی سے نابلدتھاچنانچہ اس کی جہالت کی بنا پررابطہ میں بہت تاخیرہوگئی۔
سنوڈن نے بالآخرتنگ آکریہ موادصحافی لارا پوئٹرس کوبھیجاجواس ٹیکنالوجی سے واقف تھی۔ لاراپوئٹرس نے یہ ساراموادگرینوالڈ کو بھیج دیا۔اسی اثنا میں سنوڈن نے یہ 41صفحات پرمبنی یہ موادواشنگٹن پوسٹ کوبھی بھیج دیا۔دونوں اخبارات نے فوری طورپرامریکی سرکارسے رابطہ کیااوراس موادکے صرف تین صفحات کوہی شائع کرنے کی جرأت کر سکے ۔ 14 جون2013 کووائرڈ نے’’پی جی پی‘‘کااستعمال کرتے ہوئے ’’انکرپٹڈ‘‘پیغام سنوڈن کے نام شائع کر ہوگیا اوربھانڈہ پھوٹنے پرسنوڈن فوری طورپراپنی جان بچانے کیلئے ہوائی سے ہانگ کانگ چلاگیاکہ اس وقت ہانگ کانگ چینی حکومت کی عملداری میں آچکاتھا۔
کرسمس2013ء پرسنوڈن نے برطانوی دورنما پراپنے پیغام میں کہاکہ امریکی اوربرطانوی جاسوسی ایک عالمی خطرہ ہے اوریہ ویلی دنیاکے نقشے سے بھی گھناؤنی ہے۔سنوڈن نے یہ بھی کہاکہ وہ جیت چکاہے۔گویایہ امریکااوربرطانوی جاسوسی نظام پرایک زوردارطمانچہ تھاجس کووہ کسی بھی صورت برداشت کرنے کوتیارنہیں تھے۔سنوڈن پران اداروں کاعتاب اب ضروری ہوگیا اور دنیا بھر میں اس کی گرفتاری کیلئے کام شروع ہوگیا۔ (جاری ہے)