(گزشتہ سے پیوستہ)
تقسیم ہندکے اس پہلوپربھی ذراغورکیجئے کہ برطانوی حکومت نے ہندوستان کوجون1948 میں تقسیم کرنے کااعلان کیاتھا ۔ ماؤنٹ بیٹن کو11 فروری 1947کووائسرائے مقررکیاگیا اور بعدازاں مائونٹ بیٹن20مارچ1947میں وائسرائے بن کرآیاتو حالات کاجائزہ لے کراس نتیجے پرپہنچاکہ تقسیم کوزیادہ عرصے تک لٹکائے رکھنانہایت خطرناک ہوگاچنانچہ اس نے برطانوی حکومت کوقائل کیاکہ ہندوستان کوجلدازجلد تقسیم کرکے آزادی دے دی جائے۔یوں اعلان آزادی اورقیام پاکستان کیلئے14 اور 15 اگست کی نصف شب کاانتخاب کیاگیاجومسلمانان پاکستان کیلئے نہایت نیک شگون،مبارک اور صاحبانِ نظروباطن کیلئے مشیت ایزدی کاواضح اشارہ تھاکیونکہ رات’’شب قدر‘‘کی تھی،یہ مہینہ رمضان المبارک کاتھااور 15 اگست ہماراپہلایوم پاکستان جمعتہ الوداع کے روزمنایاجاناتھا۔یہ رمزیں صرف رمزشناس ہی سمجھ سکتے ہیں،اوریہ اشارے صرف ان کیلئے ہوتے ہیں جن کے باطن منوراوردل شفاف ہوتے ہیں۔آپ چاہیں تو مجھے توہم پرستی،رجعت پسندی اورضعیف الاعتقادی کاطعنہ دے دیں لیکن مجھے تویہ اشارے غوروفکر کا سامان لگتے ہیں۔میں ایک ایسے شخص کوجودنیاوی معیارکے مطابق نہایت پڑھالکھا تھا، یہ سمجھا نے کی کوششیں کررہاتھاکہ پاکستان ایک منفرد قسم کاملک ہے اوراگرآپ اس کے خمیر اورضمیرمیں جھانکیں تو غوروفکرکابے پناہ ساماں ملتاہے کہ اسے کس طرح مشیت ایزدی نے صدیوں تک تاریخ کے سانچے میں ڈھالااور پھر دنیائے اسلام کاسب سے بڑااسلامی ملک بناکر دنیاکے نقشے پرابھارا۔اس تناظرمیں ان کایہ سوال ایک فطری ردعمل تھاکہ پھر1971 میں پاکستان کیوں ٹوٹ گیا؟اقبال کے الفاظ میں تواس سوال کاجواب کچھ یوں ہے ۔
فطرت افراد سے اغماض تو کر لیتی ہے
نہیں کرتی کبھی ملت کے گناہوں کو معاف
اگرآپ کوقدرت کی جانب سے ایک تحفہ یاانعام عظیم ملے تواس کے کچھ تقاضے بھی ہوتے ہیں اوراگرآپ وہ تقاضے پورے نہ کریں توپھروارننگ ملتی ہے اورکبھی کبھی سزابھی، مختصر یہ کہ اللہ تعالیٰ نے پا کستان کی صورت میں ہمیں ایک انعام عظیم بخشاجوہماری کوتاہیوں،کم نظری،سیاسی ہوس اورنالائقی سے نصف رہ گیاالبتہ یہ ایک الگ مسئلہ ہے کہ مشرقی پاکستان آج بھی مشرقی پاکستان ہے صرف ان کانام بدلاہے،وہ اپنے مزاج، ہندودشمنی،اسلامی پس منظراورفکرونگاہ کے حوالے سے اب بھی مشرقی پاکستان ہی ہے اوراسے قدرت کا کرشمہ ہی کہہ سکتے ہیں کہ اسی مبارک مہینے کی5اگست 2024کوایک ایساانقلاب دیکھنے کوملاکہ خونی حسینہ ڈائن بھاگ کرواپس اپنیانہی ہندوآقائوں کے جوتے چاٹنے کیلئے پہنچ گئی اوراس کے بنائے ہوئے باپ کے بتوں کوسرعام لوگوں نے پاش پاش کردیا اور جوتوں کی بارش کردی۔آج اسی ڈائن کو امریکا اوربرطانیہ نے بھی پناہ دینے سے انکارکردیاہے اوراقوام متحدہ نے اس کوہونے والے تمام قتل وغارت کاذمہ دار ٹھہراتے ہوئے عالمی طورپرتحقیق کامطالبہ کیا ہے۔مودی سرکار کے ہاتھوں کے طوطے اڑگئے ہیں اورہنگامی اجلاس بلاکر بالآخرآئی ایس آئی کوموردِالزام ٹھہرایاجارہا ہے لیکن اس سانحے میں بھی ایک ایسانقطہ پنہاں ہے جس پرغورکریں توحیران کن اشارے ملتے ہیں اورفہم وفراست کے نئے دروازے کھلتے ہیں ۔
ذراغورکیجئے کہ بظاہرپاکستان توڑنے کی ذمہ داری تین سیاسی کرداروں پرعائدکی جاتی ہے جبکہ چوتھاکردارفوجی تھا۔ ذراقدرت کے انتقام پرغور کریں کہ وہ تینوں سیاسی کرداریعنی اندراگاندھی، شیخ مجیب الرحمن اورذوالفقارعلی بھٹوغیرفطری موت کانشانہ بن کر عبرت کی داستانیں چھوڑگئے، رہا چوتھافوجی کرداریحییٰ خان تووہ بھی گھرکی قیدمیں ایڑیاں رگڑرگڑکر مرا ، اوراپنے پیچھے عبرت کی کہانیاں چھوڑگیا۔عالمی تاریخ گواہ ہے کہ ملک بنتے اورٹوٹتے رہتے ہیں،سکڑتے اورپھیلتے رہتے ہیں اور قوموں کے جغرافئے بھی بدلتے رہتے ہیں،ابھی کل کی بات ہے کہ ہماری نگاہوں کے سامنے’’یوایس ایس آر‘‘ روس نامی ایک سپرپاورٹوٹ کرکئی آزادمسلم ممالک کوجنم دیا،پولینڈ،بوسنیااورسربیاوغیرہ کی تاریخ ہمارے ذہنوں میں تازہ ہے لیکن مجھے عالمی تاریخ میں کوئی ایسی مثال نہیں ملی جہاں ملک ٹوٹنے پرکسی گورباچوف کوپھانسی چڑھایاگیاہویاکسی ذمہ دارکردارکوسبق آموزسزاملی ہو جبکہ پاکستان میں قدرت کایہ انتقام صرف ایک نسل تک محدودنہیں رہااوراب اس کی تازہ ترین مثال اس کی بیٹی حسینہ واجدکافراراورمجیب الرحمان کے بت کاجوحشرہوا ہے،وہ سب کیلئے باعثِ عبرت ہے۔
میں نے عرض کیاکہ غورکرنے والوں کیلئے اس میں عبرت کابے پناہ ساماں موجودہے،کبھی آپ نے غورکیاکہ پاکستان توڑنے والے تین کرداروں(مجیب الرحمان،اندارگاندھی اور ذوالفقارعلی بھٹو)کی غیرفطری اورعبرت ناک اموات کے بعدان کی آئندہ نسل میں سے بھی کسی مردکوفطری موت نصیب نہیں ہوئی،کیایہ سب کچھ محض اتفاقیہ ہیِ؟سوال یہ ہے کہ یہ اتفاق صرف سقوط مشرقی پاکستان کے تین کرداروں کے ساتھ ہی کیوں ہوا؟پھرسبھی کرداروں کے ساتھ کیوں ہوا؟میں خلوص نیت سے سمجھتا ہوں کہ قیام پاکستان کی تاریخ میں مشیت ایزدی کے واضح اشارے ملتے ہیں اوراس کی بشارت ہمارے نبی کریم ﷺنے کئی باردی تھی،اس لئے جوبھی اس ملک کی صحیح معنوں میں خدمت کرے گاوہ اس دنیامیں اوراگلے جہان میں بھی عزت پائے گا اور جواسے کسی بھی طرح نقصان پہنچائے گاوہ یہاں اور وہاں بھی ذلیل وخوارہوگا۔