اسرائیل میں یحییٰ سنوارکو7اکتوبر 2023ء کواسرائیل پرہونے والے حملوں کا’’ماسٹر مائنڈ‘‘ قرار دیا جاتاتھااورماہرین کے مطابق اسمعیل ہانیہ کی شہادت کے بعد ان کی تقرری اسرائیل کے خلاف بغاوت کاایک جرات مندانہ پیغام تھا۔اسرائیلی استعماری فوج نے حماس کی دیگرشخصیات کے ساتھ ان کانام بھی اپنی انتہائی مطلوب افرادکی فہرست میں شامل کررکھاتھا۔ گذشتہ دنوں غیرتصدیق شدہ ذرائع سے سوشل میڈیا پرشدیدزخمی حالت میں زمین پر لیٹے ہوئے ایک شخص کی تصویرگردش کر رہی تھی اوراسرائیلی حکام اس کی شناخت کی تصدیق کرتے ہوئے تذبذب کاشکارتھے۔ بعد میں اسرائیلی فوج نے ڈورن کی مدد سے بنائی گئی ایک ویڈیوشیئرکی جس میں اس کے مطابق حماس کے سربراہ کی زندگی کے آخری لمحات دکھائے گئے تھے۔اس ویڈیومیں ایک شخص کاچہرہ نقاب سے ڈھکاہواتھااوروہ اپنے اطراف سے ڈرون کوہٹانے کی کوشش کررہے تھے۔جونہی اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیئل ہگاری نے یحٰیی سنوارکی رفح شہرمیں شہادت کی تصدیق کی توجہاں اسرائیل میں جشن کاسماں شروع ہوگیاوہاں غزہ کے علاوہ دنیابھرکے مسلمانوں میں دکھ کی ایک لہردوڑگئی کہ ایک اورشہادتِ حق کی گواہی دینے کیلئے یحییٰ سنوارجیسامردِ مجاہدبھی سرخروہوگیا۔کچھ ہی گھنٹوں کے بعداسرائیلی وزیرِ دفاع یوآف گیلنٹ اورنیتن یاہونے بھی یحیٰی سنوارکی ہلاکت کاباقاعدہ اعلان کردیا۔
حماس کے سیاسی بیوروکے رکن خلیل الحیانے یحییٰ سنوارکی شہادت کی تصدیق کرتے ہوئے کہاکہ یحییٰ سنوارکی تحریک فلسطینی مٹی پرفلسطینی ریاست کے قیام تک جاری رہے گی اور اس کا دارالحکومت یروشلم ہوگا۔یحییٰ سنواراورحماس کے دیگر رہنماں کاخون ہمیں روشنی دیتارہے گا۔‘‘انہوں نے یرغمال بنائے گئے اسرائیلیوں کاحوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ ’’قابضین‘‘کے یرغمالیوں کواس وقت تک رہانہیں کیاجائے گاجب تک غزہ پر جارحیت ختم نہیں ہوتی،اسرائیل کامکمل انخلانہیں ہوجاتا اورہمارے قیدیوں کورہانہیں کردیاجاتا۔
یحییٰ سنوارکی موت پرغزہ میں صدمے کی سی صورتحال نظرآتی ہے۔ام محمد کوشمالی غزہ میں اپناگھر چھوڑنا پڑاتھااوراب وہ الاقصیٰ ہسپتال میں رہتی ہیں۔ام محمدنے عالمی میڈیاسے اپنے صدمے کااظہارکرتے ہوئے کہا ’’کچھ دنوں پہلے میں نے خیموں میں لگی آگ کودیکھاتھااوراس کی تکلیف اپنے دل میں محسوس کی تھی اورآج پھرہم یحییٰ سنوارکی شہادت کی خبرکے سبب اس تکلیف سے گزررہے ہیں‘‘۔غزہ کے ایک اوررہائشی کے مطابق یحییٰ سنوارغزہ میں تنازع شروع ہونے کے ایک برس بعد مارے گئے ہیں ان کی شخصیت کے حوالے سے لوگوں کی رائے مختلف ہوسکتی ہے لیکن یہ تسلیم کرناضروری ہے کہ جس وقت انہیں شہیدکیا گیاوہ پوری طرح مسلح تھے اورانہوں نے اسرائیلی فورسزسے بہادری کے ساتھ مقابلہ بھی کیا۔وہ کسی انٹیلی جنس آپریشن میں نہیں مارے گئے جیساکہ اسرائیلی فوج دعوی کررہی ہے‘‘۔
انس الجمال نامی سماجی و سیاسی کارکن یحیٰی سنوار کی موت پر لکھتے ہیں کہ’’یہ وہ اختتام نہیں ہے جو نیتن یاہو چاہتے تھے۔ نیتن یاہو نہیں چاہتے تھے کہ یحییٰ سنوار اپنا عسکری لباس پہنے ہوئے اور رفح میں اگلے مورچوں پر قابض فوجیوں کے ساتھ لڑتے ہوئے کسی ہیرو کی طرح نظر آئیں۔نیتن یاہو نہیں چاہتاتھاکہ یحییٰ سنوارکسی جھڑپ میں اچانک مارے جائیں ۔ وہ توچاہتاتھاکہ یحییٰ سنوار کو ماراجائے اورتصویرمیں وہ خودیحییٰ سنوارکومارنے کاحکم دیتے ہوئے نظرآئیں۔نیتن یاہو ان فوجیوں کا احتساب کریں گے جنھوں نے یحیٰی سنوار کی تصویر لیک کی اور اب یہ تصویر فلسطینی افراد کیلئے فخر کا ذریعے بنے گی۔
ان کامزیدکہناتھاکہ اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کوعلم ہوناچاہئے کہ فلسطینی موت سے بالکل نہیں ڈرتے کہ ہم نے ہرلمحے موت کواپنی جیتی جاگتی زندگی میں نہ صرف دیکھاہے بلکہ اپنے پیاروں کوبڑی بہادری کے ساتھ مسکراتے ہوئے موت سے بغل گیر ہوتے دیکھا ہے تاہم ہم نارمل زندگی کی طرف لوٹناچاہتے ہیں تاکہ ہمیں کچھ سکھ مل سکے۔ہم اس جنگ سے اب تھک چکے ہیں۔عمرنامی غزہ کے ایک اوررہائشی کہتے ہیں کہ’’ہراس فلسطینی کی طرح جس نے اپنی زندگی قربان کی ہے،غزہ یاغربِ اردن میں،ہم خداسے یہی دعاکرتے ہیں کہ یہ جنگ اب ختم ہوجائے‘‘۔
اس حوالے سے بیداع الاولاکی سوشل میڈیا پر لکھتے ہیں کہ: وہ جنگ کے دوران رفح میں تکے میں شہید ہوئے، نہ کہ کسی آپریشن میں۔ وہ لڑے اور فرار نہیں ہوئے، ان کے گردن میں کوفیہ لپٹا ہوا تھا اور ہاتھ میں بارود تھا۔انہوں نے ماتھے اورسرپر گولیاں کھائیں،نہ کہ پیٹھ پریاہاتھوں پر،وہ آگے بڑھتے ہوئے شہید ہوئے۔ دوسری جانب سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی اورمقامی میڈیا پر نشرکی گئی ویڈیوزمیں اسرائیل کے شہرکریات بیالیک کی سڑکوں پرلوگوں کویحییٰ سنوارکی موت کاجشن مناتے ہوئے دیکھاجاسکتاہے۔اسرائیل میں جشن منانے والے کچھ افرادنے اپنے گھروں کی بالکونی میں لاؤڈسپیکرزپراسرائیل کاقومی ترانہ لگایاہواتھااور کچھ لوگ اپنی کاروں کاہارن بجاکریحییٰ سنوارکی موت کی خوشی منارہے تھے ۔ ایک اورویڈیومیں اسرائیلی فوج کے اہلکاروں کوسڑکوں پرموجود ڈرائیورزکومٹھائی کھلاتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ اسرائیلی علاقے اشدودمیں ایک رہائشی علاقے میں لوگوں کوحماس کے سیاسی بیوروکے سربراہ کی موت پرتالیاں اور سیٹیاں بجاتے ہوئے دیکھا گیا۔ شمالی اسرائیل میں گلیل کے ساحل کے قریب سڑکیں بلاک دیکھی گئیں کیونکہ وہاں سینکڑوں لوگ یحیٰی سنوارکی موت کی خبرسن کرناچ رہے تھے اوراسرائیلی جھنڈے لہرارہے تھے۔وہاں موجود ایک یہودی اپنی نفرت کااظہارکرتے ہوئے کہہ رہاتھاکہ یحییٰ سنوار ایک برے آدمی تھے اوران کا آخری وقت آن پہنچاتھا۔ان کی موت ہم سب یہودیوں کیلئے ایک تحفہ ہے۔حماس کی قید میں موجود یرغمالیوں کے خاندانوں نے یحیٰی سنوارکی موت کاخیرمقدم توکیا لیکن ان کاکہناتھاکہ ان کے یرغمال بنائے گئے اہلخانہ کوواپس لانے کیلئے کوششوں کوتیزکیاجاناچاہیے۔اینیوزنگواکرنامی شخص نے اسرائیل کے مقامی میڈیاکوبتایاکہ’’ہم نے قاتل یحییٰ سنوارسے حساب برابرکرلیاہے لیکن ہمیں مکمل فتح اس وقت تک نہیں ملے گی جب تک ہم اپنے پیاروں کی زندگیاں نہیں بچاتے اورانھیں گھرواپس نہیں لے آتے‘‘۔
مقبوضہ غرب اردن کے شہررام اللہ میں مرادعمر نامی شخص نے خبررساں ادارے رائٹرزکوبتایاکہ: یحٰیی سنوارکی شہادت سے صورتحال مزید پیچیدہ ہوجائے گی۔اس کے بعدغزہ میں لوگوں کے پاس زیادہ آپشن نہیں بچیں گے اوراس سبب جنگ اورطول اختیار کر جائے گی۔ادھرامریکی اوراسرائیلی کہتے ہیں کہ جویہ سمجھتے ہیں کہ یحیٰی سنواراورحماس کے بغیرغزہ میں آج ایک نئے دن کاآغازہواہے،یہ ان کی غلط فہمی ہے اوریہ صرف سیاسی نعرے ہیں،جنگ جاری رہے گی اورایسے نہیں لگتاکہ یہ کبھی ختم بھی ہوگی۔حبرون سے کچھ میل فاصلے پرمقیم اعلی الہشلامون کہتے ہیں کہ: میرے خیال میں جب بھی کوئی مرتاہے تواس کی جگہ کوئی اورلے لیتاہے جوپچھلے شخص سے زیادہ ضدی ہوتاہے۔یحیٰی سنوارایک ضدی شخص تھے اور ہمیں امیدہے کہ ان کی جگہ بھی کوئی ان کے جیساہی شخص یاپھران سے زیادہ ضدی شخص لے گا۔
اردن کی سرحداسرائیل سے ملتی ہے اوراس کے دارالحکومت عمان میں ہزاروں افراد یحیٰی سنوار کی موت کی مذمت کرنے اورحماس سے یکجہتی کااظہارکرنے کیلئے سڑکوں پرنکل آئے تھے۔ ایک احتجاج کرنے والے شخص نے عالمی میڈیاسے بات کرتے ہوئے متنبہ کیاکہ’’یحیی سنواراورمزاحمت نظریات کانام ہے اورایک نظریہ کبھی مرتانہیں۔لاشیں گرتی ہیں، نظریات نہیں مٹتے۔اس لئے یحیٰی سنوارکی شہادت سے صورتحال مزیدخراب ہی ہوگی۔
جمعے کی صبح اسرائیل کے مقامی میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اردن کی طرف سے اسرائیل میں دراندازی کی کوشش کی گئی تھی اور اس واقعے میں دو فوجی اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔ اردن کی فوج نے اس معاملے پر جاری ایک بیان میں کہا کہ: میڈیا میں چلنے والے اطلاعات میں کوئی صداقت نہیں جن میں کہا گیا ہے کہ اردن کی فوج نے اردن کی مغربی سرحد عبور کی۔ادھر دوسری طرف عراق میں اسماعیل ہنیہ کی موت پربھی احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے لیکن یحیٰی سنوارکی موت کے بعدجومظاہرے یہاں ہوئے وہ ماضی کے مقابلے میں کافی بڑے تھے۔
(جاری ہے)