(گزشتہ سے پیوستہ)
عراقی رکنِ پارلیمان رئیس المالکی نے کہا کہ یحییٰ سنوارکی موت کامنظراتناہی تکلیف دہ تھاجتنی لاکھوں فلسطینیوں کی اموات اور ہزاروں بھوکے افرادکی نقل مکانی۔عراقی صحافی وبلاگراحمدالشیخ ماجدنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پرایک پوسٹ میں لکھاکہ’’یحییٰ سنوارنے وہ زندگی گزاری ہے جس کاوجودصرف شاعری میں ہی نظرآتاہے۔عراق میں موجود ہم سب جانتے ہیں کہ اس سب کی وجہ کیاہے اورہم بلیک میلرزاورشیروں میں فرق بھی جانتے ہیں۔ یحیی سنوارعربوں کاوہ شیرہے جس کی دھاڑاس کی شہادت کے بعدبھی دشمنوں کوکوفزدہ رکھے گی‘‘۔
مصر میں واقع جامع الاظہرنے یحیٰی سنوارکانام لیے بغیران کی موت کو’’فلسطینی مزاحمت میں ہیروکی شہادت‘‘قراردیا۔ایکس پرجاری ایک بیان میں جامع الاظہرکاکہناتھاکہ نوجوانوں کے ذہنوں میں’’فلسطینی مزاحمت کا نشان‘‘سمجھے جانے والے افرادکی ساکھ کومسخ کرنے کی کوشش کوناکام بناناہوگا۔بیان میں مزید کہا گیا کہ اس کو ’’دہشت گردی‘‘نہ قرار دیاجائے بلکہ ’’مزاحمت‘‘اپنی سرزمین کادفاع کرنااورمرجاناایک ایسارتبہ ہے جس کی برابری ممکن نہیں‘‘۔مصری سیاستدان اورسابق صدارتی امیدوارحمدین صباحی نے یحیٰی سنوارکی موت کے بعدایک تقریب میں شرکت کی اورکہاکہ: ’’آپ ہیروکی طرح جئے اورشہادت کے رتبے پرفائزہوگئے۔آپ غزہ کے دیگرلوگوں کی طرح کسی ہیروکی طرح شہید ہوئے ۔آپ کسی ٹنل میں نہیں چھپے،قیدیوں کے پاس پناہ نہیں لی بلکہ جب آپ کادشمن سے سامناہوا تو آپ اپنے ساتھیوں کے ساتھ ان کامقابلہ کر رہے تھے‘‘۔
مصری اخبار الاحرام الشروق کے سابق ایڈیٹراِن چیف عبدالعظیم حمادنے حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ کی موت پرافسوس کا اظہارکرتے ہوئے لکھاکہ’’ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اسرائیل مزاحمت کے تمام مراکز کوختم کرناچاہتاہے تاکہ خطے میں اسرائیل کی بالادستی کی راہ ہموارہوسکے‘‘۔مصری میڈیاکی ایک اورشخصیت محمودسعدنے یحیٰی سنوارکی موت پرفلسطینی شاعرکی شاعری ایکس پرشیئر کی جس کے اردومیں لفظی معنی یہ ہیں’’اگرمیں مرجاؤں تومیری ماں،تم رونامت۔ میں مروں گاتاکہ میراملک زندہ رہ سکے‘‘۔احمدموسیٰ نامی ایک اورمصری شخص نے سوشل میڈیاپراسرائیلی وزیرِاعظم کو’’جنگی مجرم‘‘قراردیا۔
کچھ بلاگرزاورسیاسی کارکنان کاکہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے یحیٰی سنوارکی لاش کی تصاویرنے چی گویراکی موت کے بعد کی تصاویرکوبھی پیچھے چھوڑدیا۔ چی گویراارجنٹینامیں پیدا ہونے والے انقلابی تھے جوگزشتہ صدی کے دوسرے حصے میں’’دنیا بھرمیں انقلابی تحریکوں کی علامت‘‘بن کرسامنے آئے۔انہیں جب1967 ء میں بولیویامیں ماراگیاتوان کی لاش کی تصویردنیابھرمیں پھیل گئی تھی لیکن یحٰیی سنوارکی شہادت کی تصاویرنے توایک ایسے نظریہ کونئی زندگی عطاکی ہے جس کوہرنوجوان اپنے لئے مشعل راہ سمجھے گا۔
دوسری جانب کچھ لوگوں نے حماس کے سیاسی بیوروکے سربراہ کی موت کاموازنہ صدام حسین کی موت سے کرنے کی کوشش کی کہ صدام حسین کوامریکی فوجیوں نے ایک’’ٹنل‘ ‘کے اندرپکڑاتھاجبکہ یحٰیی سنوارہاتھ میں اسلحہ پکڑے ہوئے،بہادری کے ساتھ دشمن کامقابلہ کرتے ہوئے شہیدہوگئے۔
یحیٰی سنوارکی شہادت کے بعد اب یہ قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ اس تنظیم کااگلاسربراہ کون ہوگا؟حماس کے ایک عہدیدار کا کہناہے کہ تنظیم سکیورٹی وجوہات کی بناپراپنے نئے سربراہ کی شناخت خفیہ رکھے گی۔2003ء میں حماس کے اس وقت کے سربراہ شیخ احمدیاسین اوران کے جانشین عبدالعزیزالرنتیسی کواسرائیل نے شہیدکردیاتھا۔اس دورمیں بھی حماس نے اپنے سربراہ کانام ظاہرنہ کرنے کافیصلہ کیاتھا۔ امکان ہے کہ حماس کے نئے سربراہ کاانتخاب مارچ2025میں کیاجائے گااورتب تک یہ تنظیم پانچ رکنی کمیٹی چلائے گی ۔ اس کمیٹی میں خلیل الحیہ،خالد مشعل،زاہرجبارین اورشوری کونسل کے سربراہ محمددرویش شامل ہیں جبکہ پانچویں رکن کی شناخت خفیہ رکھی گئی ہے۔دوسری جانب متعددحلقوں میں یحیٰی سنوارکے نائب اورحماس کے سینیئر عہدیدار خلیل الحیہ کواس عہدے کے لئے ایک مضبوط امیدوار سمجھاجارہاہے۔
حماس کے اہلکارکے مطابق خلیل الحیہ نے سیاسی وخارجی امورکی ذمہ داری سنبھال لی ہے۔وہ غزہ کے معاملات کی براہِ راست نگرانی کررہے ہیں۔نتیجتاًوہ اس تنظیم کے قائم مقام سربراہ کی طرح کام کررہے ہیں۔یرغمالیوں کے معاملے پر انھوں نے کہا کہ حماس کے پاس یہ صلاحیت اور افرادی قوت ہے کہ وہ ان کا تحفظ یقینی بنا سکے۔ انہوں نے اس بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ جون سے بہت کم بات چیت ہوسکی ہے۔غزہ سے باہرموجود حماس کی قیادت میں خلیل الحیہ ایک انتہائی سینئر عہدیدارہیں۔ قطر میں مقیم خلیل الحیہ اِس وقت حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے لئے ہونے والے مذاکرات میں حماس کے وفدکی قیادت کررہے ہیں۔ خلیل الحیہ غزہ کی صورتحال کے بارے میں گہری معلومات،رابطے اورتفہیم رکھتے ہیں۔یحیٰی سنوارکی شہادت کے بعداب آئندہ آنے والے دنوں میں حماس کے رہنماایک بارپھراکٹھے ہوں گے تاکہ ان کے جانشین کاانتخاب کرسکیں۔یادرہے یحیٰی سنواررواں برس ہی تہران میں سابق حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کی ہلاکت کے بعدتنظیم کے سربراہ بنے تھے۔
جولائی2024ء کے بعدسے غزہ جنگ بندی سے متعلق مذاکرات تعطل کاشکارہیں۔اسرائیل اورمغربی میڈیادنیاکویہ تاثردینے میں کامیاب رہاہے کہ سنوار کی قیادت جنگ بندی معاہدے کی راہ میں ایک اہم رکاوٹ تھی۔گذشتہ دنوں عالمی میڈیانے رپورٹ کیاتھا کہ یحیٰی سنوارسفارتی ذرائع سے غزہ کے مسئلے کے حل کی بجائے عسکری حل پرزیادہ زوردیتے تھے۔حماس کے ایک سینئر عہدیدارنے متنبہ کیاہے کہ یحیٰی سنوارکی شہادت کے باوجودجنگ بندی کوقبول کرنے اوراسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لئے حماس کی شرائط میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔حماس جنگ بندی کے عوض غزہ سے اسرائیل کے مکمل انخلا،انسانی امدادکی بلا روک ٹوک غزہ آمد اور جنگ زدہ علاقوں کی تعمیر نو کا مطالبہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان شرائط کو اسرائیل نے یکسر مسترد کرتے ہوئے اصرار کیا ہے کہ حماس کو ہتھیار ڈال دینے چاہئیں۔
نیتن یاہوکی جانب سے حماس سے ہتھیار ڈالنے کے مطالبے کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں حماس کے عہدیدار نے کہاکہ’’ہمارے لیے ہتھیار ڈالنا ناممکن ہے۔ ہم اپنے لوگوں کی آزادی کے لئے لڑرہے ہیں اورہم ہتھیارڈالنے کوقبول نہیں کریں گے۔ ہم آخری گولی اورآخری سپاہی تک لڑیں گے،جیساکہ سنوارنے کیااورکہاتھا۔سنوارکی شہادت کئی دہائیوں میں تنظیم کوپہنچنے والے سب سے بڑے نقصانات میں سے ایک ہے۔اگرچہ ان کامتبادل لاناایک چیلنج ہے لیکن حماس کی1990ء کی دہائی سے قیادت کے نقصانات برداشت کرنے کی تاریخ رہی ہے۔
اگرچہ اسرائیل حماس کے زیادہ تررہنماں اوربانیوں کوشہیدکرنے میں کامیاب رہاہے لیکن تحریک نئے رہنماؤں کوتلاش کرنے کی اپنی صلاحیت میں لچکدارثابت ہوئی ہے۔اس بحران کے دوران غزہ میں قیداسرائیلی یرغمالیوں کی قسمت کے حوالے سے یہ سوال اب بھی موجودہیں کہ ان کی حفاظت اورسلامتی کاذمہ دارکون ہوگا۔اس تناظرمیں یحییٰ سنوارکے بھائی محمد سنوار ایک اہم شخصیت کے طورپرابھرے ہیں۔خیال کیا جاتا ہے کہ وہ حماس کے باقی ماندہ مسلح گروہوں کی قیادت کررہے ہیں اورغزہ میں تحریک کے مستقبل کی تشکیل میں اہم کرداراداکرسکتے ہیں۔
ایک طرف حماس کواس سخت لمحے کاسامناہے تودوسری طرف غزہ میں جنگ جاری ہے۔گزشتہ ہفتے شمالی غزہ کے جبالیہ پناہ گزین کیمپ میں اسرائیلی فوج کے حملوں میں درجنوں افراد شہید ہوگئے تھے۔اسرائیل کادعویٰ ہے کہ حماس یہاں دوبارہ منظم ہونے کی کوشش کررہی ہے۔بعض تجزیہ کاروں کاخیال ہے کہ یحٰیی سنورکی شہادت حماس کے لئے بڑا دھچکا ہے۔ اگست میں اسماعیل ہانیہ کی موت کے بعد حماس نے انھیں منتخب کرتے ہوئے یہ اشارہ دیاتھاکہ حماس اسرائیل کے سامنے جھکنے والی نہیں ہے اورحماس نے وقت کے ساتھ ساتھ اسرائیل اور اس کے تمام اتحادیوں کوگزشتہ ایک سال کے اندربھرپورمقابلہ کرکے نہ صرف حیران وپریشان کردیاہے بلکہ اپنے اس مضبوط عزم کااظہاربھی کیاہے کہ آئندہ آنے والے وقت میں ان تمام فراعین کوغزہ کے میدان میں ہی دفن کرکے رہیں گے۔ان شااللہ