Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

بحیرہ روم کا آتشین مستقبل: تنازعات کی سمت

بحیرہ روم کامحلِ وقوع بھی خوب ہے۔یہ ایشیا،یورپ اورافریقہ کاسنگم ہے۔ان میں سے ہربراعظم بحیرہ روم سے اس طورجڑاہوا ہے کہ اس سے ہٹ کراہمیت گھٹ سی جاتی ہے۔ قدیم زمانوں ہی سے یہ سمندردنیاکی بڑی طاقتوں کے درمیان زورآزمائی کامرکز رہاہے۔طاقت میں اضافے کیلئے بڑی ریاستیں اس خطے کواپنے حق میں بروئے کارلاتی رہی ہیں ۔ غیرمعمولی اہمیت کے حامل محلِ وقوع نے بحیرہ روم کوایشیااوریورپ کیمتعددممالک کیلئے سیاسی اورجغرافیائی اعتبارسے انتہائی اہم بنادیاہے اوراس حوالے سے خانہ جنگی اوراغیارکی بپاکی ہوئی تباہی کے باوجودلیبیااب بھی ایک اہم ریاست ہے۔سردجنگ کے شروع ہوتے ہی امریکانے ٹرومین ڈاکٹرائن کے تحت یونان اورترکی کوغیرمعمولی تناسب سے امداد دیناشروع کی۔اس کابنیادی مقصدبحیرہ روم کے خطے میں امریکی مفادات کوزیادہ سے زیادہ تقویت بہم پہنچاناتھا،ساتھ ہی ساتھ امریکایہ بھی چاہتاتھاکہ سردجنگ میں کمیونسٹ بلاک کے مقابل یونان اورترکی ہراعتبارسے امریکی اتحادی کی حیثیت سے ابھریں۔
سردجنگ کے دورمیں بحیرہ روم سیاسی اورسفارتی سطح پرغیرمعمولی اہمیت کاحامل ہونے کے ساتھ ساتھ امریکاوسابق سوویت یونین کے پہلوبہ پہلویونان اورترکی کیلئے بھی غیرمعمولی اسٹریٹجک اہمیت کاحامل تھا۔یونان اورترکی معاہدہ نیٹوکے اہم ارکان کی حیثیت بھی ایسے نہ تھے کہ نظراندازکردیے جاتے۔دوسری طرف اسی دورمیں شام اورمصرکاسابق سوویت یونین کے اتحادیوں کی حیثیت سے ابھرنااورشام کی بندرگاہ طرطوس کے علاوہ مصرکے علاقے سیدی برانی میں فوجی اڈوں کاقیام بھی اسی تناظر میں دیکھاجاناچاہیے۔
سابق سوویت یونین نے1972تک سیدی برانی کے فوجی اڈے کونیٹوکی سرگرمیوں پرکڑی نظررکھنے کیلئیاستعمال کیا۔سرد جنگ کے خاتمے اورسوویت یونین کے تحلیل ہوجانے کے بعدیہ خطہ امریکااوریورپ کیلئے زیادہ اہم نہ رہا۔وہ ان اتحادیوں پر مزیدکچھ خرچ کرنے کیلئے تیارنہ تھے۔سردجنگ کے دورمیں مخصوص سیاسی حالات نے امریکاکومشرقِ وسطیٰ اورافغانستان پرتوجہ مرکوزکرنے پرمجبورکیا۔امریکا کیلئے ایک بڑامسئلہ چین بھی تھاجوتیزی سے ابھررہاتھا۔بحیرہ روم کونظراندازکرنے کی پالیسی نے معاملات کی نوعیت بدل دی۔ خاص طورپرچین کی حوصلہ افزائی ہوئی۔پھریوں ہواکہ تیل اورگیس کے نئے ذخائر دریافت ہوئے اورخطے نے دوبارہ اہمیت حاصل کرلی۔اب قدرتی وسائل پرزیادہ سے زیادہ کنٹرول کیلئے امریکا،یورپ،روس اور علاقائی طاقتیں میدان میں ہیں۔
یہ بات تواب بالکل واضح ہے کہ گیس کے ذخائرکی دریافت نے خطے کے ممالک کوزیادہ سرمایہ کاری کی تحریک دی ہے تاکہ سیاسی طورپربھی پوزیشن غیرمعمولی حدتک مستحکم رکھنا ناممکن نہ ہو۔یہ سرمایہ کاری اس لیے بھی ناگزیرتھی کہ ایساکرنے ہی سے ایک طرف توخطے کے ممالک کواپنی اندرونی ضرورت پوری کرنے میں مددملتی تھی اوردوسری طرف وہ عالمی منڈی میں مسابقت کے قابل نہ ہوسکیں۔کسی بھی ملک میں گیس کی بڑھتی ہوئی ضرورت ہی اس امرکاتعین کرتی ہے کہ سب سے زیادہ گیس کون فراہم کرے گا۔آج بہت سے ممالک توانائی کیلئے صرف گیس پرانحصارکرتے ہیں۔ایسے میں طاقت بڑھانے والے عوامل میں تیل سے کہیں بڑھ کرگیس ہے۔اس کے نتیجے میں اب سیاسی حقائق بھی تبدیل ہو چکے ہیں۔توانائی کے معاملے میں کسی ایک ذریعے پرانحصارمتعلقہ ممالک کیلئے اسٹریٹجک حقائق بھی تبدیل کردیتے ہیں۔لیبیااس کی ایک واضح مثال ہے جہاں معاملات اب نظم ونسق قائم کرنے والے نظام کے ہاتھ سے باہرنکل چکے ہیں جس کیلئے امریکااورمغرب پوری طرح ذمہ دارہے۔
تکنیکی ماہرین بتاچکے ہیں کہ بحیرہ کے خطے میں گیس کے غیرمعمولی ذخائرموجودہیں۔گیس کے ذخائرپرزیادہ سے زیادہ کنٹرول پانے کی خواہش نے ایک بار پھربحیرہ روم کو اکھاڑے کی سی شکل دے دی ہے۔تمام بڑی طاقتیں بحیرہ روم پرزیادہ سے زیادہ متوجہ رہنے کی پالیسی پرکاربند ہیں۔مسابقت بڑھتی ہی جارہی ہے۔دی یوایس جیولوجیکل کے ایک سروے کے مطابق لبنان سے قبرص اورمصرتک کے چند ایک علاقوں میں گیس کے340کھرب مکعب فٹ کے ذخائرکی موجودگی نے اختلافات اور تنازعات کوہوادی ہے۔کئی ممالک گیس کے ذخائرسے مالامال علاقوں پراپناحق جتانے کھڑے ہوگئے ہیں۔تنازعات شدت اختیار کرتے جارہے ہیں،ایسے معاملات کوبڑے پیمانے کے مسلح تصادم تک پہنچنے سے روکناتمام معاملات میں ممکن نہیں ہوتا۔
یونان نے بڑے پیمانے پرتیل اورگیس محض تلاش ہی نہیں کیابلکہ نکالنے کاعمل بھی شروع کردیاہے۔ترکی اورقبرص کے ترک نظم ونسق والے علاقے کی سمندری حدودبھی بحیرہ روم کے خاصے وسیع علاقے تک ہیں مگرجب وہ تیل اورگیس نکالنے کی کوشش کرتے ہیں تویونان اوراس کیزیرانتظام قبرص کاعلاقہ معترض ہوتاہے۔اس کے نتیجے میں تنازع شدت اختیارکرتاجارہا ہے۔قبرص مشترکہ طورپرترکی اوریونان کے زیرانتظام ہے اوردونوں کی مشترکہ ملکیت کادرجہ رکھتاہے۔بحیرہ روم میں قبرص کی سمندری حدودمیں جتنے بھی قدرتی وسائل ہیں ان پرترکی اوریونان کابرابری کادعویٰ ہے۔ترکی چاہتاہے کہ قبرص کے زیر انتظام حصے میں تیل اورگیس تلاش کرے اورنکالے مگریونان معترض ہے کہ وہ ایک چھوٹے جزیرے کی ملکیت کے تنازع کے باعث اس کی اجازت نہیں دے سکتا۔اس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان اختلافات ایک بارپھرغیرمعمولی سطح پرشدت اختیارکرگئے ہیں ۔مشرقی بحیرہ روم میں ماحول گرم ترہوتاجارہاہے۔ترکی اوریونان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی علاقے کے دیگرممالک کیلئے بھی خطرے کی گھنٹی ہے۔یہ تنازع اگرشدت اختیارکر گیاتواس کے شدیدمنفی اثرات پورے خطے پرمرتب ہوں گے۔
ٹرکش نیشنل آئل کمپنی نے تین سال قبل یہ کہاتھاکہ جدیدترکی کے قیام کی سوویں سالگرہ(2023)تک وہ تیل اورگیس کی طلب ملکی وسائل ہی سے پوری کرنے کی منزل تک پہنچنے کی تیاری کررہی ہے۔ترک وزارتِ توانائی نے بھی کہہ دیاہے کہ تیل اور گیس کی طلب اندرونی ذرائع سے پوری کرنے کے معاملے میں پورے خطے میں اولین مقام تک پہنچناچاہتی ہے۔اب بنیادی سوال یہ ہے کہ یہ کیسے ہوگااوراس کے نتیجے میں خطے میں سلامتی کی صورتِ حال کیارخ اختیارکرے گی۔مشرقی بحیرہ روم میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اس امرکی متقاضی ہے کہ معاملات کوخوش اسلوبی سے نمٹانے کی کوششوں کاآغازکیاجائے مگراب تک ایسی کوئی بھی کوشش دکھائی نہیں دی ہے۔
خطے میں تیل اورگیس کی تلاش کے کام کانئے سِرے سے جائزہ لیناہوگا۔لیبیاایک اہم ملک ہے کیونکہ اس کے تیل اورگیس کے ذخائرسب سے بڑھ کرہیں.اس کی سیاسی اورمعاشی حالت نے خطے کے بہت سے ممالک کوپریشان کررکھاہے۔ لیبیااب تک افریقا کیلئے سب سے بڑے گیٹ وے کادرجہ رکھتاہے۔وہ بحیرہ روم کے ایسے حصے میں واقع ہے جہاں سمندرمیں تیل اورگیس کے وسیع ذخائراس کی دسترس میں ہیں اورسب سے بڑھ کر یہ کہ خود لیبیائی سرزمین پربھی تیل اورگیس کے وسیع ذخائرموجودہیں۔ جسے بھی لیبیاپرتصرف حاصل ہے وہ پورے خطے پرنظررکھ سکتاہے اور سب سے بڑھ کریہ کہ تیل اورگیس کے وسیع ذخائر اس کی دسترس میں ہیں۔خطے کی اورخطے سے باہرکی تمام طاقتیں اچھی طرح جانتی ہیں کہ وہ پورے بحیرہ روم پراپناتصرف قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتیں مگروہ اس خطے میں موجوداورمتحرک رہ کراس بات کویقینی بنانے کی کوشش ضرورکر رہی ہیں کہ خطے کاکوئی بھی ملک تمام وسائل پرتنہاقابض ومتصرف ہوکراجارہ داری قائم نہ کرلے۔
لیبیاکس قدراہم ہے اس کااندازہ اس امرسے لگایاجاسکتاہے کہ اس کی داخلی صورتِ حال اورقضیئے میں امریکا،روس،یورپ، سعودی عرب،متحدہ عرب امارات،مصر،قطر،یونان ، الجزائراوریونان کے زیرانتظام قبرص بھی ملوث رہے ہیں۔روس،سعودی عرب،یونان،متحدہ عرب امارات اورمغربی ممالک لیبیاکے قضیے میں جنرل خلیفہ ہفتارکے حامی ہیں۔
ترکی اورقطرنے اقوام متحدہ کے متعین کیے ہوئے وزیراعظم فیض سراج کی بھرپورحمایت کی ہے۔لیبیاکی صورتحال سے واضح ہے کہ خطے میں تیل اورگیس کے وسیع ذخائرکی موجودگی نے کل کے دشمنوں کوایک کردیاہے اورجوابھی کل تک اتحادی تھے وہ اب ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کربات کررہے ہیں۔یہ سب کچھ وسائل کی بندربانٹ کیلئے ہے ۔ہرفریق چاہتاہے کہ قدرتی وسائل سے مالامال علاقے کے سب سے بڑے حصے پراس کاتصرف قائم ہوجائے۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں