(گزشتہ سے پیوستہ)
جنرل خلیفہ ہفتارکی سربراہی میں کئی ملیشیاز باضابطہ اورجائزحکومت کاتختہ الٹنے کی تیاری کررہی ہیں۔ کئی طاقتیں اس کام میں خلیفہ ہفتارکی مددکر رہی ہیں۔یہ سب کچھ بالکل غلط ہے مگرہورہا ہے۔ ایک طرف توکئی علاقائی اوریورپی ممالک لیبیامیں خلیفہ ہفتارکی مالی اورعسکری امدادکررہی ہیں اوردوسری طرف ترکی نے لیبیاکی باضابطہ حکومت سے دوبڑے معاہدے کیے ہیں۔
ایک طرف تولیبیامیں طاقت کاخلاموجود ہے۔ ساتھ ہی ساتھ خطےمیں طاقت کاتوازن بھی بگڑ چکا ہے۔رہی سہی کسرتیل اورگیس کے وسیع ذخائرکی موجودگی نے پوری کردی ہے۔ دسترخوان تیارہے تو سب کی رال ٹپک رہی ہے۔ایک عشرے سے بھی زائد مدت سے مشرقی بحیرہ روم کاخطہ بیرونی قوتوں کی توجہ اورکشمکش کامرکزرہاہے۔یہ صورتِ حال اب شدیدترنوعیت کی ہوگئی ہے۔بڑی طاقتوں کی موجودگی سےخطے کے کسی ایک ملک کوتمام معاملات اپنے ہاتھ میں لینےسےگریزپا رہنے کی تحریک ملےگی مگردوسری طرف یہ خدشہ بھی تو ہے کہ یہ خطہ بڑی طاقتوں کے درمیان زورآزمائی کا میدان بنارہے گا۔
اب ان حالات کے بعداس خطے کی اہمیت کااندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ لیبیاسے شام تک جنگ کاگورکھ دھنداایک سازش ہے، مفادات کیلئے رچایاجانے والا ڈرامہ ہے۔ 1930 کے عشرےمیں مشہورامریکی میرین میجر جنرل اسمیڈلے بٹلرنے کہاتھا کہ وہ اس امرکی تحقیق کررہے تھے کہ دنیابھرمیں وہ کون سے گروہ ہیں جو اپنے مفادات کوتحفظ فراہم کرنے کیلئے امریکی عسکری قوت کواستعمال کرتےہیں۔ہیٹی میں نیشنل سٹی بینک کے مفادات سے ہونڈراس کے یونائٹیڈ فروٹ پلانٹیشنز تک،چین کے اسٹینڈرڈآئل ایکسیس سے نکاراگواکے بران برادرزتک بیشتر امور کاجائزہ لے کرمیجرجنرل اسمیڈلے بٹلر نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ امریکی فوج چند بڑےکاروباری اداروں کےمفادات کوتحفظ فراہم کرنےکی غرض سے کام کرتی ہے اورجس قدربھی نقصان ہوتاہےاس کاازالہ امریکی عوام کی جیب سے کیاجاتاہے۔ان کی محنت کی کمائی پربڑے کاروباری ادارےسیاسی سیٹ اپ کے ساتھ مل کرڈاکے ڈالتے ہیں۔ وقت اورحالات بدل چکے ہیں مگرپرانی کہاوت اب بھی مؤثرہے کہ چیزیں جتنی زیادہ بدلتی ہیں اسی قدروہ یکساں رہتی ہیں۔
یادرہے کہ معمرقذافی کے آخری برسوں میں چین اورلیبیاکے تعلقات غیرمعمولی حد تک پروان چڑھ گئے تھے۔2010 میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت کاحجم 6.6ارب ڈالر سے زائدرہا تھا۔2007میں جب امریکانے افریقاپرتوجہ دیناشروع کی تب معمرقذافی نے آکسفورڈیونیورسٹی میں طلباسے خطاب کرتےہوئےبتایاکہ چین سے تعلقات بہتررکھنا بہت سود مندثابت ہواہے۔ انہوں نے افریقامیں چین کی سرمایہ کاری کوکھل کرسراہا۔ساتھ ہی ساتھ انہوں نے یہ بھی کہاکہ علاقائی سیاست سے دوررہ کر چینیوں نے افریقا میں کروڑوں افرادکے دل جیت لیے ہیں۔ اب صورت حال بدل چکی ہے۔ عبوری سیٹ اپ نے اپنے ابتدائی دورمیں چین سے تعلقات کو سردخانے میں رکھ دیاتھا جس کی وجہ قومی عبوری کونسل کے عہدیداروں نے یہ بتائی تھی کہ لیبیامیں تعمیر نوکے ٹھیکوں کی تقسیم میں چین کواس بات کی سزادی گئی تھی کہ اس نے انقلابی قوتوں کوتسلیم کرنےمیں دیرلگائی۔بعدمیں اس بیان کی تردید بھی کی گئی مگرساتھ ہی یہ بات بھی سامنے آئی کہ بہت سی چینی کمپنیاں لیبیا میں منجمداورپھنسے ہوئے 18.8 ارب ڈالرسے زائد کے اثاثوں کی بحالی اوروصولی کا انتظار کررہی تھیں مگر خیرایسانہیں ہے،اب عبوری قومی کونسل نے چینی کمپنیوں سے بات چیت کے کئی کامیاب دورمکمل کرنے کے بعدکافی حدتک معاملات کودرست سمت کی طرف موڑدیاہے۔
دراصل حقیقت یہ ہےکہ لیبیامیں شامل عظیم اوردرمیانی طاقتوں کےدرمیان، چین کو اکثر اس لئے نظراندازکیاگیاکہ یہ کرائے کے فوجی یا فضائی حملے کرنے والوں متحدہ عرب امارات ، ترکی اور روس کی مخالفت کررہاتھا لیکن چین اب ان تمام واقعات کے بعدمستقل طورپران طریقوں سے سرمایہ کاری اوراثر ورسوخ استعمال کر رہا ہےجو چین کےعالمی عزائم میں لیبیا کےحتمی انضمام کوفروغ دیتے ہیں۔یادرہے کہ2011ء میں معمر قذافی کے خلاف چین نے فوجی مداخلت کی اجازت دینے کیلئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ووٹ سے پرہیز کیااورنیٹوکی قیادت میں نو فلائی زون اور سرکاری افواج پرفضائی حملوں کے ردعمل کو فوری طورپرمسترد کر دیاتھا۔’’انسانی تباہی‘‘کے خوف اور ممکنہ طورپرامریکی اثرورسوخ کا مقابلہ کرنے کے خوف میں،چین کی شدیدمزاحمت لیبیااوراس وقت کے وسیع ترخطے میں اس کی غیرجانبداری کی یہ پالیسی اس کے بعدسے اب تک اوربھی نمایاں ہو گئی ہے۔
قذافی کی حکومت کےخاتمے کے بعدسے ،لیبیامیں چین کی شمولیت،اور پس پردہ سفارت کاری اس کے اثرو رسوخ کی سب سے مضبوط لائن نے اقتصادی دخول پرتوجہ مرکوزکی ہے – چین نے فوجی الجھنوں سے گریزکرتے ہوئے اپنے تجارتی عزائم کوبڑی دانشمندی کے ساتھ آگے بڑھایاہے۔بیجنگ کی محتاط اورمحدود مصروفیت نے اپنے اصولوں پرسختی سے عمل پیرا ہونے کے باوجودمقامی حقائق کےبارےمیں شدید آگاہی کامظاہرہ کیاہے،بدلتے ہوئےحالات کے مطابق ڈھالنےکیلئےاپنےنقطہ نظر کی تشکیل نوکرتے ہوئے تنازع کے نامعلوم نتائج کیلئے اپنے فوائد کو زیادہ سے زیادہ بڑھایاہے۔
جب2011ء میں مظاہروں کے پھیلنے کا سامنا کرناپڑاتوچین نے نیٹوکی قیادت میں فوجی مداخلت کومستردکرتے ہوئے لیبیا کے ساتھ اپنے اقتصادی تعلقات کوبرقراررکھتے ہوئے یہ ثابت کیاکہ چین اب بھی طویل عرصے سے اپنی عدم مداخلت کی پالیسی پرکاربند ہے اوراپنے اس مؤقف پرچین کوعرب لیگ اورافریقی یونین جنہوں نے لیبیامیں فوجی مداخلت کی حمائت کی تھی،کے ساتھ اپنے تعلقات پربھی جھگڑاکرناپڑاجبکہ بیجنگ کو مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے ممالک کے ساتھ حال ہی میں مضبوط ہوئے اپنے سفارتی اور اقتصادی تعلقات کو برقرار رکھنے میں بھی دلچسپی تھی۔اس سے بھی بڑھ کر،بیجنگ نے اپنی ملکی سلامتی کاتحفظ کرنے کی کوشش کی اورنام نہاد’’ریسپانسیبلٹی ٹوپروٹیکٹ‘‘ نظریے کی توثیق سے گریزکیا،جوکہ انسانی حقوق کےتحفظ کی بنیادپرخودمختارممالک میں مداخلت کاعالمی معیار ہے۔یہ نقطہ نظرروس کی طرف سےبھی شیئرکیاگیا،جس کےنتیجےمیں نہ صرف لیبیا بلکہ شام اورایران کےحوالے سے چین-روس کی پالیسیوں میں ہم آہنگی پیدا ہوئی جبکہ چین اکثرماسکوکی قیادت کی پیروی کرتاہے۔
یادرہےکہ 2011 ء میں لیبیامیں تنازع شروع ہونےسےقبل چین مختلف بنیادی ڈھانچے کی سرگرمیوں میں مصروف تھا،اورلیبیا نےبدلے میں چین کوکافی سرمایہ بھیجاتھا۔2011 تک، چین کے پاس لیبیامیں تقریبا 8.18بلین ڈالر مالیت کاکاروبارکرنے والی75 کمپنیاں تھیں۔ ان سرگرمیوں میں36,000چینی مزدور 50منصوبوں پرکام کررہے تھے، جن میں رہائشی اورریلوے کی تعمیرسے لےکرٹیلی کمیونیکیشن اور ہائیڈرو پاورکے منصوبے شامل تھے۔خاص طورپر لیبیاکے انقلاب سے پہلےسال میں،لیبیاچین کےخام تیل کی سپلائی کا3فیصد فراہم کررہاتھایعنی دنیاکے دوسرے سب سے بڑےصارف کیلئے سپلائی کا3فیصد،تقریباً 150,000بیرل یومیہ،یااس کادسواں حصہ،لیبیاکی خام برآمدات، لیبیا کی تیل کی صنعت میں درآمدات سے ہٹ کرگہرے طورپرچینی کمپنیاں ملوث تھیں اورچین کی تمام اعلی سرکاری تیل فرموں’’سی این پی سی، سنوپیک گروپ اورسی این اواوسی‘‘ کے لیبیامیں بنیادی ڈھانچے کے منصوبے کھڑے تھے۔یہی وہ تمام وجوہات تھیں جس کی بناپرامریکااورمغرب کویہ خدشہ پیداہو گیا کہ لیبیامیں چین کے موجودہ تجارتی اثرورسوخ سےیہ ساراخطہ ان کےہاتھ سے نکل جائے گاجس کی معمرقذافی کوبھرپورسزادی گئی لیکن مکافاتِ عمل یہ ہےکہ چین نے اس تمام عرصے میں جنگی بنیادوں پراپنادوبارہ تجارتی اعتماد بحال کرلیاہے جس سے یہ بات پایہ یقین تک پہنچ گئی ہے کہ بحیرہ روم کے ممکنہ میدان جنگ میں اب چین خاموش نہیں بیٹھے گا۔سوال یہ ہے کہ کیاامریکا اورمغرب چین کےبڑھتے ہوئے اثرورسوخ کوروکنے کیلئے بحیرہ روم کے سمندروں میں آگ لگانے کیلئے تیارہے جبکہ حالات پہلے سے کہیں زیادہ خطرناک اور تشویش ناک ہیں؟