Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

ایرانی میزائل پروگرام: تاریخ، ترقی اور موجودہ چیلنجز

(گزشتہ سے پیوستہ)
’’نازعات‘‘اور’’مجتمع‘‘راکٹ ایران میں بنائے گئے راکٹوں کی پہلی نسل تھے،اوراس کے فوراً بعد ’’تھنڈر-6‘‘میزائل سامنے آیاجوبنیادی طور پرمختصرفاصلے تک مارکرنے والا چینیB610 بیلسٹک میزائل ہے، جسے ایرانی مسلح افواج نئے سرے سے ڈیزائن کرلیا ہے۔ ایران کے میزائل پروگرام کی ترقی،پاسداران انقلاب کے ایروسپیس میزائل یونٹ میں حسن تہرانی مقدم کی نگرانی میں اوراس وقت آئی آرجی سی ایئرفورس کے کمانڈر احمد کاظمی کی مددسے2000کی دہائی کے اوائل میں شروع ہوئی تھی تاکہ مزیدجدید ٹیکنالوجیز جیسے بیلسٹکس اورسیٹلائٹ انجن کی تعمیرمیں کامیابی حاصل کی جاسکے۔ تاہم ایران کے میزائل پروگرام کے دوسرے اور سنجیدہ مرحلے کاآغاز’’فتح 110 میزائل‘‘ کی تیاری سے ہوا۔ ایران کے میزائل پروگرام کی ترقی میں حسن مقدم سب سے اہم شخصیت تھے۔ 2009میں انہوں نے ایک پروگرام کے دوران پہلی بار ’’ایکسٹراہیوی سیٹلائٹ انجن ‘‘سیریزکا تجربہ کیا۔ایرانی اہم ذرائع کے مطابق12 نومبر 2011کوفوجی اڈے پرتخریب کاری کے نتیجے میں ہونے والے دہماکے میں 16 افرادسمیت حسن تہرانی مقدم اس وقت مارے گئے جب وہ ایک نئے میزائل تجربے کی تیاری کررہے تھے۔ دھماکے کی اصل وجہ کا کبھی تعین نہیں ہوسکا لیکن حسن مقدم ہی تھے جن کی قبرپرلکھا گیاتھا کہ ’’یہاں وہ شخص دفن ہے جو اسرائیل کوتباہ کرنا چاہتا تھا‘‘۔اس وقت امیر علی حاجی زادہ کی سربراہی میں پاسداران انقلاب کی ایروسپیس فورس،ایران کی مسلح افواج کیلئے میزائل اورڈرونز بنانے والاسب سے بڑاادارہ ہے اورگزشتہ برسوں میں،یہ دراصل ایرانی فوج کی جگہ اسلامی جمہوریہ کی بیرون ملک کارروائیوں کی ذمہ داررہی ہے۔
ایران ہمیشہ اپنے میزائلوں کی نمائش کرتاہے اورانہیں فوجی ہتھیاروں کی تیاری کے میدان میں ایک اہم کامیابی کے طورپرپیش کرتاہے تاہم اس کے میزائل پروگرام اور میزائل اڈوں کی ترقی اوران پرہونے والی پیشرفت اب تک کوئی نہیں جان سکا۔پاسدارانِ انقلاب کے مطابق ان کے پاس سنگلاخ پہاڑوں میں سرنگوں کی شکل میں خصوصی انجینئرنگ اورڈرلنگ کے ساتھ بنائے گئے کئی میزائل اڈے ہیں۔پہلی مرتبہ 2004 ء میں آئی آرجی سی فضائیہ کے کمانڈرامیر علی حاجی زادہ نے ایسے میزائل اڈوں کے بارے میں بات کی تھی جو ایران کے مختلف صوبوں میں زمین سے 500 میٹرنیچے تک کی گہرائی میں بنائے گئے ہیں۔
اِن زیرِزمین میزائل اڈوں کی تعمیر کب ہوئی اس بارے میں باوثوق معلومات دستیاب نہیں ہیں لیکن مہدی بختیاری نے الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ مغربی ایران میں 1984 میں میزائل پروگرام کے آغازمیں پہلازیرِ زمین اڈہ بنالیاگیاتھا۔ایرانی میڈیا اور پاسدارانِ انقلاب نے اب تک کئی زیرزمین میزائل اڈوں کی مختلف تصاویرشائع کی ہیں ،جنہیں وہ’’میزائل سٹی‘‘کہتے ہیں۔ان میزائل اڈوں کاصحیح مقام معلوم نہیں اورنہ ہی سرکاری طورپراس کے بارے میں کوئی اطلاعات فراہم کی جاتی ہیں۔ان خفیہ زیرزمین اڈوں کی شائع ہونے والی تصاویرکے مطابق ان میں سے ایک میں،جودیگراڈوں سے بڑامعلوم ہوتا ہے،پاسدارانِ انقلاب کے سب سے اہم میزائل اورڈرون ہتھیاررکھے گئے ہیں اورساتھ ہی میزائلوں کی تیاری اورانہیں داغنے کی جگہ (لانچرز) ہے۔جاری کی گئی ویڈیوزمیں سے ایک میں میزائل اوران کے لانچروں سے بھری راہداری دکھائی گئی ہے اورساتھ ہی وہ جگہ بھی جہاں میزائل فائر کیے جانے کیلئے تیاررہتے ہیں۔
مارچ 2019میں پاسدارانِ انقلاب نے خلیج فارس کے ساحل پرایک’’سمندری میزائل شہر‘‘کی نقاب کشائی کی۔اس اڈے کے اصل مقام کو ماضی کی طرح ظاہرنہیں کیا گیالیکن صوبہ ہرمزگان کے مقامی میڈیانے اس اڈے کے بارے میں خبریں دیں۔ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈر انچیف حسین سلامی نے خلیج فارس کے ساحلوں پر اس ’’میرین میزائل سٹی‘‘کے بارے میں کہاتھاکہ ’’یہ کمپلیکس پاسداران انقلاب اسلامی کی بحریہ کی سٹریٹجک میزائلوں کے ذخیرہ کرنے کی متعدد تنصیبات میں سے ایک ہے،جہاں میزائل اور لانچر سسٹم نصب ہیں‘‘۔
ایران کے زیرزمین میزائل اڈوں کی صحیح تعدادمعلوم نہیں ہے لیکن ایران کی زمینی افواج کے کمانڈر،احمدرضاپوردستان نے جنوری 2014میں اعلان کیاتھاکہ میزائلوں والے زیرِ زمین شہرصرف پاسداران انقلاب کیلئے مخصوص نہیں ہیں اورایرانی فوج بھی ان میں سے کئی کی مالک ہے۔امیرعلی حاجی زادہ،آئی آرجی سی کی جانب سیایران میں میزائل بنانے والے تین زیرزمین کارخانوں کی موجودگی موجودگی کااعلان بھی کرچکے ہیں۔ ایران کی مسلح افواج،خاص طورپرپاسدارانِ انقلاب کی ایروسپیس فورس،راکٹ،کروزاوربیلیسٹک میزائلوں کی ایک وسیع رینج تیار کرتی ہے۔
بیلسٹک میزائل ایران میں تیارکیے جانے والے میزائلوں کی سب سے اہم قسم ہے۔بیلسٹک میزائل اونچائی پراورایک قوس میں پرواز کرتا ہے۔ اس کی فائرنگ کے تین مراحل ہوتے ہیں، دوسرے مرحلے میں اس کی رفتارتقریباً 24 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک ہوجاتی ہے۔ طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل داغے جانے کے بعدزمین کی فضاسے باہرنکل جاتے ہیں اورفضامیں دوبارہ داخل ہونے پرآواز کی رفتارسے زیادہ تیزرفتارتک پہنچ جاتے ہیں۔ کروزمیزائل مکمل طورپر گائیڈڈ ہوتے ہیں اورکم اونچائی پرپرواز کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جس کی وجہ سے وہ ریڈارکامقابلہ کرنے کی صلاحیت فراہم کرتے ہیں۔کروزمیزائل کی رفتار800 کلومیٹر فی گھنٹہ سے شروع ہوتی ہے۔
ایران کے پاس راکٹ،کروزمیزائل، بیلیسٹک میزائل اورہائپرسونک میزائل ہیں۔ان چار گروپوں میں بنیادی طورپرسطح سے سطح اورسطح سے سمندرمیں مارکرنے والے میزائل شامل ہیں۔البتہ دفاعی نظام کے میزائل بھی ایران کے ہتھیاروں میں شامل ہیں جن میں سے کچھ روس اورچین کے بنائے ہوئے ہیں اورکچھ ایرانی مسلح افواج کی اپنی ایجادہیں۔
اپریل2024میں اسرائیل پراپنے میزائل حملے میں ایران نے’’عمادتھری”بیلسٹک میزائل ’’پاوہ‘‘ کروز میزائل اور’’شاہد136‘‘ ڈرون کا استعمال کیاتھاتاہم ایران کی سرکاری خبرایجنسی نے’’خیبرشِکن‘‘بیلسٹک میزائل داغنے کابھی دعویٰ کیاتھا۔عماد میزائل القدر بیلسٹک میزائل کی بہتر شکل ہے۔2015میں درمیانے فاصلے 1700 کلو میٹرتک مارکرنے والے عماد بیلسٹک میزائل کی لمبائی 15میٹرہے اوراس کے وارہیڈ کاوزن 750 کلو گرام ہے۔پاوہ میزائل کی فروری 2023میں نقاب کشائی ہوئی جس کی رینج 1650کلومیٹر ہے اورکہاجاتاہے کہ یہ میزائلوں کی ایک نسل ہے جو ہدف تک پہنچنے کیلئے مختلف راستے اختیار کرسکتا ہے۔پاوہ میزائل گروپ میں حملہ کرنے اورحملے کے دوران ایک دوسرے سے رابطے کی صلاحیت رکھتاہے اورایران نے دعویٰ کیاتھاکہ یہ میزائل اسرائیل تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، شاید اسی وجہ سے اسے اسرائیل پرحملے کیلئے چناگیاتھااور جو 13 اپریل کوہونے والے حملے میں ثابت بھی ہوا۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں