(گزشتہ سے پیوستہ)
ایران کے پاس اس وقت میزائلوں کی زیادہ سے زیادہ مؤثررینج دوسے ڈھائی ہزارکلومیٹرکے درمیان ہے اوروہ فی الحال یورپی ممالک کونشانہ بنانے کے قابل نہیں ہے۔ایران کی مسلح افواج نے دعویٰ کیاہے کہ ایساعلی خامنہ ای کی ہدایت پرہے کہ فی الحال ایرانی میزائلوں کی رینج دوہزارکلومیٹرسے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔اس ہدایت کے بعدطویل فاصلے تک مارکرنے والے میزائلوں کی تیاری کاسلسلہ روک دیاگیاہے۔ آیت اللہ خامنہ ای کے مطابق اس فیصلے کی وجہ بیان نہیں کی۔
’’ذوالفقار‘‘ ایک اورمختصر فاصلے 700 کلومیٹر تک مارکرنے والابیلسٹک میزائل ہے جسے2017 اور2018میں داعش کے ٹھکانوں پر حملہ کرنے کیلئے استعمال کیاگیاتھا۔اس میزائل کی لمبائی10 میٹرہے،اس میں ایک موبائل لانچ پلیٹ فارم ہے اوراس کے ریڈارپرنظرنہ آنے کی صلاحیت سے لیس ہونے کادعویٰ کیاجاتاہے۔ایک اور ’’ذوالفقار10‘‘ میزائل کی بہتر شکل ہے اوراس کے وارہیڈکاوزن450کلو بتایاجاتاہے۔
عالمی سلامتی کے ماہرولیم کے مطابق ایران کے پاس میزائلوں کی تیاری کی بہت اچھی صلاحیت ہے اورایران کے میزائل پروگرام کی ترقی دوسرے ممالک سے میزائلوں کوادھارلینے اوران کی نقل بنانے سے ہوئی ہے:وہ مائع ایندھن سے ٹھوس ایندھن والے راکٹوں اورمیزائلوں کی جانب بڑھے ہیں۔میزائلوں کی درست طریقے سے ہدف کونشانہ بنانے کی صلاحیت میں ڈرامائی طورپر اضافہ ہواہے،اس لیے ایران نے اس معاملے میں بہت ترقی کی ہے اوراس وقت اس کاپروگرام مختصر اور درمیانے فاصلے تک مارکرنے والے بیلسٹک اور کروزمیزائلوں کیلئے جدیدترین میزائل پروگراموں میں سے ایک ہے۔حالیہ برسوں میں ایران اور روس کے درمیان قریبی فوجی تعاون سے ایران کوروسیوں سے سیکھنے کا موقع ملاہے اوراس تعاون کے بدلے میں ایران کومزیدجدیدمیزائلوں کے ڈیزائن، ٹیکنالوجی اور صلاحیتیں حاصل ہوئی ہیں۔
لیکن ایران نے دعویٰ کیاہے کہ اس کے میزائلوں کی نئی نسل ہائپرسونک ہتھیاروں کی نسل سے ہے۔ہائپرسونک سے مرادوہ ہتھیارہیں جن کی رفتارعام طورپرآوازکی رفتارسے پانچ سے پچیس گنا تک ہوتی ہے۔ایران نے پہلی بار’’فتح‘‘ میزائل کوبیلسٹک اور کروزدونوں زمروں میں ہائپرسونک میزائل کے طور پر متعارف کرایا۔”الفتح”کے ہائپرسونک میزائل کی رینج 1400کلومیٹرہے اورآئی آرجی سی نے دعوی کیاہے کہ وہ میزائل کوتباہ کرنے والے تمام دفاعی نظاموں کو چکمہ دے کر انہیں تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ’’الفتح‘‘ ٹھوس ایندھن کے میزائلوں کی ایک نسل ہے جس کی رفتارہدف کونشانہ بنانے سے پہلے 13 سے 15میک تک ہے۔میک15کا مطلب پانچ کلومیٹرفی سیکنڈکی رفتارہے۔
پاسدارانِ انقلاب ایرو سپیس آرگنائزیشن کے کمانڈرامیرعلی حاجی زادہ نے الفتح میزائل کی نقاب کشائی کی تقریب میں کہاتھاکہ یہ میزائل تیزرفتار اورفضاکے اندراورباہرجاسکتاہے ۔ساتھ ہی حاجی زادہ نے یہ دعویٰ بھی کیاتھاکہ’’فتح کوکسی میزائل سے تباہ نہیں کیا جاسکتا‘‘۔الفتح بیلسٹک میزائل کی نقاب کشائی کے بعد تہران کے فسلطین سکوائرمیں اسرائیل کودھمکی دینے کیلئے ایک اشتہارنصب کیا گیاجس پر ’’400 سیکنڈزمیں تل ابیب‘‘تحریرتھا۔اس ہائپرسونک میزائل بنانے کی دھمکی کے جواب میں اسرائیل کے وزیردفاع یووگیلنٹ نے کہا ’’ہمارے دشمن اپنے بنائے ہوئے ہتھیاروں پرشیخی بگھا ر رہے ہیں۔ہمارے پاس کسی بھی ٹیکنالوجی کا بہتر جواب ہے،چاہے وہ زمین پر ہو، ہوا میں ہو یا سمندر میں ‘‘۔
الفتح-1کی نقاب کشائی کے چارماہ بعد پاسدار انِ انقلاب نے1500کلومیٹرتک مار کرنے والے الفتح-2 کی نقاب کشائی کی جوبہت کم اونچائی پرپروازکرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اورپروازکے دوران کئی باراپناراستہ بھی بدل سکتاہے۔اس میزائل کی نقاب کشائی علی خامنہ ای کے آئی آر جی سی سے وابستہ ایروسپیس سائنسز اینڈ ٹیکنالوجیز کی عاشورہ یونیورسٹی کے دورہ پرکی گئی تاہم اس میزائل کی رینج کے بارے میں کوئی معلومات شائع نہیں کی گئیں۔اگرچہ ایران نے فتح میزائل کواسرائیل کے خلاف خطرے کے طورپرمتعارف کروایاتھا لیکن اس نے13اپریل اورپھریکم اکتوبرکے حملے میں ان میزائلوں کااستعمال نہیں کیا تھا۔
گزشتہ دہائی میں ایران مختلف وجوہات کی بناپرعلاقائی تنازعات میں شامل ہواہے ،اس نے اپنی سرزمین سے مخالف گروہوں، جماعتوں اور ممالک کے خلاف سرحدپار کاروائیاں کی ہیں۔ ایران کی تمام بیرون ملک کارروائیاں پاسدارانِ انقلاب کی فضائیہ نے کی ہیں اورپاسداران کے اس شعبے نے ایران کی فوج کی جگہ تنازعات میں شمولیت اورردِعمل کی ذمہ داریاں سنبھالی ہوئی ہیں۔اگرچہ پاسداران انقلاب کی بیرون ملک شاخ قدس فورس کی افواج ایران،عراق جنگ کے خاتمے کے بعدافغانستان سے لے کربوسنیااور ہرزیگوینا ، عراق،شام، لبنان وغیرہ میں موجودتھیں لیکن اسے ایران کی سرکاری طورپرموجودگی یاردعمل نہیں سمجھاگیا۔ایران،عراق جنگ کے خاتمے کے بعدایران کی سرزمین سے دوسرے ملک پرپہلا حملہ شام کے شہردیرالزورمیں داعش کے خلاف ہوا۔یہ آپریشن جسے’’لیلتہ القدر‘‘کانام دیاگیاتھا،اسلامی کونسل پرداعش کے حملے کے جواب میں کیاگیاتھا۔ اس میں کرمان شاہ اور کردستان سے داعش کے ہیڈکوارٹرپردرمیانے فاصلے تک مارکرنے والے چھ ذوالفقاراورقیام بیلسٹک میزائل داغے گئے تھے۔پھرعراق کے کردستان ریجن میں واقع کوئسنجق میں کردستان ڈیموکریٹک پارٹی آف ایران کے ہیڈکوارٹرکوسات الفتح -110میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔ایک بیان میں پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیاکہ یہ جولائی2017میں ماریوان میں سیدالشہدا حمزہ بیس پرحملے کابدلہ تھا۔
نواکتوبر2017کوایران کے پاسدارانِ انقلاب نے اہوازمیں مسلح افواج کی پریڈپرحملے کا جواب دیتے ہوئے’’محرم کاحملہ‘‘نامی آپریشن میں شام میں چھ قیام اورذوالفقار میزائلوں کے علاوہ سات جنگی ڈرونزکی مدد سے دریائے فرات کے کنارے داعش کے ٹھکانوں کوتباہ کردیا۔18 جنوری2018کوعراق میں امریکاکے ہاتھوں قدس فورس کے کمانڈرقاسم سلیمانی کی ہلاکت کے جواب میں پاسداران انقلاب کی فضائیہ نے 13فتح-313اورقیام-2بیلسٹک میزائل عراق میں امریکی فوج کے سب سے بڑے اڈے عین الاسدپر داغے۔ اس کے علاوہ عراق کے کردستان خطے کے دارالحکومت اربیل میں ایک اڈے پربھی حملہ کیا گیا۔ قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعدہمسایہ ممالک پرایران کے میزائل حملوں کی شدت میں اضافہ دیکھاگیا۔پھرمارچ 2002میں اسلامی انقلاب گارڈنیبزکریم بزنجی کے ملکیتی مکان پر12فاتح، 110بیلسٹک میزائل فائر کیے جس کے بارے میں ایران کادعوی تھاکہ یہ کردستان کے علاقے میں اسرائیل کے’’سٹریٹیجک مراکز‘‘ میں سے ایک تھا۔
اگلے برس پاسداران انقلاب کی فضائیہ نے ’’ربیع‘‘”اور’’ربیع 2‘‘نامی کارروائیوں میں عراقی کردستان میں ایرانی کردپارٹیوں کے ہیڈ کوارٹرپر فتح 360میزائلوں سے حملہ کیا۔ جنوری2004 میں آئی آرجی سی نے ایک بارپھرعراقی تاجرکے مکان پرحملہ کیاجسے اس نے موسادکاہیڈکوارٹر قرار دیاتھااورساتھ ہی ادلب میں داعش اورحزب الترکستانی کے اڈوں پربھی حملہ کیاگیاتھا۔ 16ج نوری2024کواسلامی انقلابی گارڈکی فضائیہ نے پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ایک سرحدی گاؤں ’’سبزکوہ”‘‘کے رہائشی علاقے میں جیش
العدل گروپ کے مرکزپرمیزائل سے حملہ کیا جس کے اگلے ہی دن پاکستان نے ایران کے صوبہ سیستان اوربلوچستان میں کئی مقامات پر میزائل داغے۔ یہ پہلاموقع تھاجب کسی ملک نے ایران کے میزائل حملوں پربراہ راست ردِعمل ظاہر کیاتھا۔اس تناؤ کوکم کرنے کیلئے تیز ترکوششوں کے نتیجے میں ایرانی وزیرخارجہ نے پاکستان کادورہ کیااوربعدازاں ایرانی صدرکے پاکستانی دورہ نے حالات کومعمول پرلانے میں کافی مددکی۔دمشق میں ایران کے قونصل خانے کی عمارت پراسرائیلی میزائل حملے میں ایرانی جرنیل محمدرضازاہدی اورآئی آرجی سی کے چھ دیگرافسران کی ہلاکت کے بعد ایران نے’’وحد الصادق ‘‘نامی آپریشن کے دوران سینکڑوں ڈرونز،کروزاوربیلسٹک میزائلوں سے اسرائیل میں مختلف مقامات پرحملہ کیا۔ایران نے دعویٰ کیاکہ اس حملے میں گولان کی پہاڑیوں میں نوواتیم فضائی اڈے اورسیری ہرمون بیس کونشانہ بنایاگیا۔
عالمی سلامتی کے ایک محقق ولیم ایلبرک کے مطابق اسرائیل پرایرانی میزائل حملے میں ہدف کونشانہ بنانے اوردرست ہدف تک پہنچنے میں ایرانی میزائلوں کی صلاحیت میں کمی کسی حد تک نظرآئی لیکن ایران نے اس حملے سے اسرائیل کی دفاعی صلاحیتوں کے بارے میں بلکہ ایرانی میزائلوں کوپسپاکرنے کیلئے اسرائیل کے ساتھ شامل دیگرممالک کے بارے میں بھی بہت کچھ جان لیا۔ اس وقت ایران کامیزائل پروگرام اس ملک کے جدیدترین اوراہم ترین ہتھیاروں کے پروگراموں میں شمارہوتاہے۔ جیسے جیسے ایران کا میزائلوں کے بارے میں علم اوراسلحہ خانہ دن بہ دن بڑھتا جارہاہے،علاقائی تنازعات اورکشیدگی کادائرہ بھی بڑھتاجارہاہے لیکن یہ دیکھنا باقی ہے کہ مغرب اورمشرق وسطی کے ممالک کایہ سٹریٹجک صبرکہاں تک جاتاہے، اوردوسری طرف کیاایران اپنے میزائل پروگرام کے بارے میں دوبارہ غورکرتے ہوئے ان کی رینج بڑھانے پرمجبورہوگا۔