Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

ماضی کی گونج،آج کے امریکی مسلمان

امریکامیں عمومی طورپررائے عامہ کے جائزوں کے ذریعے پیشگوئی کی جاتی ہے وائٹ ہاس کااگلامکین کون ہوگا،کون سا صدارتی امیدوارعوامی مقبولیت کی کس سطح پرکھڑاہے۔کیایہ جائزے درست بھی ثابت ہوتے ہیں،اس کافیصلہ اگلے چنددنوں میں دنیاکے سامنے آجائے گالیکن مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اورشدیدتنا کی صورتحال میں امریکی مسلمان کیا کرداراداکرسکتے ہیں،2009 میں معروف مصنفہ’’سوھیلاسنی‘‘کی انگریزی کتاب”امریکن اسلام:دی سٹرگل فاردی سول آف اے ریلیجن”میں امریکی مسلمانوں کے چیلنجز، حقوق اورثقافتی مسائل پرتفصیلی بحث کی گئی ہے جس سے ماضی کی تاریخ میں اسلام کی گونج،امریکامیں مسلمانوں کی تاریخ اورماضی سے حال تک اسلام فوبیاکی بڑی دلچسپ تاریخ بیان کی گئی ہے۔آئے اس کتاب کے تناظرمیں موجودہ امریکی انتخابات میں مسلمانوں کے کردارکاجائزہ لیتے ہیں۔
امریکاکے تیسرے صدراوراعلانِ آزادی کے خالق تھامس جیفرسن کیپاس نہ صرف یہ کہ قرآن کا نسخہ تھابلکہ انہوں نے اسلام کو امریکی معاشرے کی تصویرکے ایک ممکنہ رنگ کے طور پر دیکھااورمسلمانوں کے حقوق کاتحفظ یقینی بنانے کی کوشش بھی کی۔ تھامس جیفرسن نے مسلمانوں کونئی ابھرتی ہوئی امریکی ریاست کے ممکنہ شہریوں کے روپ میں دیکھا۔امریکا کا اعلانِ آزادی تحریرکرنے سے11سال قبل انہوں نے قرآن کانسخہ خریداتھا۔تھامس جیفرسن کاقرآن کاوہ نسخہ آج بھی کانگریس کی لائبریری میں محفوظ ہے اورامریکیوں کے اجداد اوراسلام کے تعلقات کی علامت ہے۔امریکی راست گودانشوروں کیلئے یہ تعلقات آج بھی غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔
تھامس جیفرسن کے پاس قرآن کے نسخے کاہونااس بات کاثبوت ہے کہ وہ اسلامی تعلیمات میں دلچسپی لیتے تھے مگراس امرکی وضاحت نہیں ہوتی کہ وہ مسلمانوں کے مسائل کاحل بھی چاہتے تھے۔تھامس جیفرسن نے بنیادی حقوق پراسلامی تصورسے پہلی شناسائی سترہویں صدی کے انگریزفلسفی جان لاک کی تحریروں سے حاصل کی۔ جان لاک نے یورپی معاشروں پرزور دیاتھاکہ وہ مسلمانوں اوریہودیوں کواپنے اندرسمونے کی کوشش کریں۔جان لاک نے ان کے نقشِ قدم پرچلنے کی کوشش کی تھی جنہوں نے یہ نکتہ ایک صدی قبل سمجھ لیاتھا۔مسلمانوں کے حقوق سے متعلق تھامس جیفرسن کا تصوربحیرہ اوقیانوس کے آرپارسولہویں سے انیسویں صدی عیسوی تک کے فکری ارتقاکی روشنی میں زیادہ آسانی سے سمجھاجاسکتاہے۔
جب یورپ میں عیسائیوں کے مختلف فرقوں کے درمیان لڑائی شروع ہوئی تب بہت سے عیسائیوں نے مسلمانوں کواس امرکی نشانی کے طورپرآزمایاکہ نظریاتی معاملات میں تمام مذاہب کے پیروکاروں کے حوالے سے تحمل اوررواداری کی حدکیاہوسکتی ہے۔یورپ میں قائم ہونے والی نظیروں کی بنیادپرامریکامیں بھی مسلمان،شہریت کی حدوداورروادادکے حوالے سے بحث کا موضوع بن گئے۔نئی حکومت کی تیاریوں کے دوران جب امریکاکے بانیان نے(جوتمام کے تمام پروٹسٹنٹ تھے)مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والوں کودی جانے والی مذہبی آزادی کے بارے میں غورکیاتواس حوالے سے اسلامی دنیامیں پائی جانے والی نظیروں کے حوالے دئیے۔امریکاکی بانی نسل نے اس نکتے پرخصوصی بحث کی کہ امریکاکومذہبی اعتبارسے پروٹسٹنٹ ہوناچاہیے یاتمام مذاہب کے پیروکاروں کوکھلے دل سے قبول کرناچاہیے۔اس نکتے پربھی پورے اہتمام سے بحث کی گئی کہ اگرتمام مذاہب کے پیروکاروں کوقبول ہی کرناہے توکیاکسی بھی غیرپروٹسٹنٹ کوصدرکے منصب تک پہنچنے کی اجازت دی جانی چاہیے؟اس سے انہیں مذہبی آزادی سے متعلق امورپرغورکرنے کی تحریک ملی۔انہوں نے کئی باتیں سوچیں مثلایہ کہ کیاامریکامیں کوئی ایسی اسٹیبلشمنٹ قائم ہونی چاہیے،جوپروٹسٹنٹ فرقے کوتحفظ فراہم کرتی ہو۔اس کابنیادی مقصد مذہب کو ریاست سے الگ رکھنے کا انتظام یقینی بناناتھا۔ساتھ ہی ساتھ آئین میں مذہب سے متعلق ٹیسٹ کامعاملہ بھی شامل کیاجاناتھا،جیساکہ19ویں صدی تک ریاستوں میں رہا۔
مسلمانوں کی شہریت کے خلاف مزاحمت کاتصور18ویں صدی تک حیرت انگیزنہ تھا۔امریکیوں کویورپ سے مذہب کے پیشوایانہ اورسیاسی کردارپرکم وبیش ایک ہزارسال کے منفی خیالات ترکے میں ملے تھے۔مسلمانوں کے حوالے سے پائے جانے والے منفی تاثرکے باوجود یہ بات حیرت انگیزہے کہ امریکاکے ابتدائی دورکی چنداہم ترین شخصیات نے اس تصورکومستردکر دیاکہ مسلمانوں کوامریکاکے متوقع شہریوں کی حیثیت سے سوچاہی نہ جائے۔بانیانِ امریکانے مسلمانوں کاایسے شہریوں کے روپ میں تصورکیا جنہیں تمام حقوق میسر ہوں۔مسلمانوں کے حقوق کے دفاع سے متعلق بانیانِ امریکا کا یہ حیرت انگیز موقف دراصل یورپ میں سیاسی فکرکے ہزارسالہ ارتقاکامنطقی نتیجہ اوراس کی توسیع کے مترادف تھا۔اب سوال یہ پیداہوتاہے کہ شدید مخالفت کی فضا میں بھی مسلمانوں کوتمام حقوق کے ساتھ شہری بنانے کاتصورامریکامیں کیوںکرمحفوظ رہا؟اوراس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ اس تصورکا21ویں صدی میں مستقبل کیاہے؟
یہ کتاب ہمیں امریکاکے قیام کے ابتدائی دورمیں چندنمایاں شخصیات کے ان تصورات سے آگاہ کرتی ہے،جووہ اسلام کے بارے میں رکھتے تھے۔انہوں نے اسلام کے بارے میں پائی جانے والی منفی آراکوجوں کاتوں قبول کرنے سے انکارکردیا۔یورپ نے انہیں اسلام اورمسلمانوں کے بارے میں برداشت کارویہ نہ اپنانے کی غیرمحسوس تعلیم دی تھی، مگر انہوں نے اس تعلیم کوقبول نہ کیا۔
امریکاکے بیشترپروٹسٹنٹ باشندے یہ تصور رکھتے تھے کہ مسلمانوں کے خیالات کوقبول نہیں کیا جا سکتا۔ اس سے ایک طرف تو پروٹسٹنٹس میںاسٹیٹس کوکی راہ ہموارہوئی اوردوسری طرف امریکاکے دیگرباشندے یہ سوچنے پرمائل ہوئے کہ دوسروں کی بات سننے میں کوئی ہرج نہیں۔ایک طرف اگرمسلمانوں کوقبول نہ کرنے کی سوچ پروان چڑھی تودوسری طرف امریکیوں کی اکثریت نے یہ سوچناشروع کیاکہ دیگرمذاہب کے لوگوں کوبھی قبول کرناچاہیے تاکہ معاشرے میں امتیازی رویہ نہ پایا جائے۔ اس صورت میں مسلمانوں کوبھی اپنانے کاشعورپیداہوا۔
یہ سب کچھ اس وقت سوچاجارہاتھاجب مسلمان ابھی امریکامیں آئے نہ تھے۔ان کے آنے سے پہلے ہی انہیں قبول کرنے کی سوچ پروان چڑھائی جارہی تھی۔تھامس جیفرسن اوران کے قریبی رفقابخوبی جانتے اورسمجھتے تھے کہ مسلمانوں کے حقوق کے بارے میں سوچنے اوربحث کرنے سے امریکامیں حقوق کے حوالے سے آفاقیت کی راہ ہموارہوگی اورپھریہ ہوا کہ امریکامیں اقلیتوں (کیتھولک عیسائی اوریہودی) کوقبول کرنے اورمعاشرے کے مرکزی دھارے میں شامل کرنے کے حوالے سے فکرآگے بڑھی۔ مسلمانوں کے حقوق کے حوالے سے بحث نے امریکامیں یہ تصورپیداکیاکہ سب کوکھلے دل سے قبول کیاجائے۔
امریکا کوبرطانیہ سے حقیقی آزادی 1783ء میں ملی۔اس سال جارج واشنگٹن نے نیو یارک میں سکونت پذیرآئرش کیتھولک عیسائیوں کوخط لکھا۔تب تک امریکامیں صرف25ہزار کیتھولک عیسائی تھے،جن کے حقوق خاصے محدودتھے۔انہیں نیو یارک میں کسی بھی طرح کی سیاسی سرگرمی میں حصہ لینے کی اجازت بھی نہیں دی گئی تھی۔جارج واشنگٹن نے اس نکتے پرزوردیاکہ امریکاکوہر مذہب اور فرقے سے تعلق رکھنے والے ان لوگوں کوقبول کرناچاہیے جن پرمظالم ڈھائے گئے ہوں اورجنہیں مستقل دباؤمیں رکھا گیاہو۔انہوں نے یہودیوں کوبھی خط لکھا۔تب تک امریکامیں صرف دوہزاریہودی تھے۔جارج واشنگٹن چاہتے تھے کہ امریکی سر زمین پردنیابھرکے کچلے ہوئے لوگوں،بالخصوص مذہب کے نام پر نشانہ بنائے جانے والوں کوپناہ ملے۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں