(گزشتہ سے پیوستہ)
اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکامیں مسلمان (پروٹسٹنٹ عیسائیوں کی طرح17)ویں صدی سے موجودتھے مگرنسل اورغلامی کے عوامل اس قدر مضبوط تھے کہ ان کے مذہب کامعاملہ سات پردوں میں لپٹارہا۔امریکاکے بانیان نے جب مستقبل کے امریکی مسلمانوں کے حقوق کاسوچاتھا تو ان کے ذہن میں سفید فام مسلم ہی رہے ہوں گے کیونکہ1790کے عشرے تک کسی بھی نسل یا مذہبی پس منظر کاحامل سفید فام شخص امریکامیں شہریت کیلئے درخواست دے سکتاتھا۔ جیفرسن نے صرف دومسلمانوں سے ملاقات کی تھی اوروہ دونوں ترک نسل کے شمالی افریقی سفیرتھے۔جیفرسن نے ان کی رنگت کے بارے میں کچھ کہا،نہ لکھا۔ دونوں بہت حد تک سفید فام تھے۔ان دونوں میں رنگ یامذہب کے اعتبار سے جیفرسن کیلئے کوئی کشش نہ تھی۔اس نے ان دونوں سے ملاقات کی اورانہیں اہمیت دی تواس کا سبب صرف یہ تھا کہ وہ سیاسی و سفارتی اعتبار سے بہت مضبوط تھے۔
اس سے قبل تھامس جیفرسن نے سفیر،وزیر خارجہ اورنائب صدرکی حیثیت سے شمالی افریقاکی ریاستو ں سے امریکاکے تنازع کومذہب کے نقطہ نظرسے کبھی نہیں دیکھا۔بحیرہ روم اورمشرقی بحراوقیانوس امریکی جہازرانی کوقزاقوں سے ہر وقت خطرہ رہتاتھا۔جیفرسن نے ٹریپولی اور تیونس کے حکمرانوں پرواضح کیاکہ ان کاملک اسلام مخالف جذبات یاتعصب نہیں رکھتا اورایک مرحلے پرتووہ یہاں تک گئے کہ انہوں نے دونوں حکمرانوں سے کہا کہ ہم بھی اسی خداکی عبادت کرتے ہیں،جس کے عبادت گزارآپ ہیں!
جیفرسن مذہب کوسیاست یاحکومت سے الگ رکھناچاہتے تھے۔انہوں نے بیرون ملک جن خیالات کورواج دیا،ملک میں انہی خیالات کواہمیت دی۔اسلام اورمسلمانوں کے حوالے سے جیفرسن کے تصورات بنیادی طورپرشمالی افریقاکی ریاستوں سے تعلق کی بنیاد پر پروان چڑھے ہوں گے۔یہی شمالی افریقاسے متعلق ان کی خارجہ پالیسی کی بنیادبھی تھے۔ یہ نکتہ بھی بھلایانہیں جاسکتاکہ جیفرسن نے ذاتی طورپر موحدہونے کی بنیادپراسلامی دنیاسے اپنے تعلق کوزیادہ اہمیت دی ہوگی۔
جیفرسن کے زمانے تک اسلام کے بارے میں بہت سے منفی تاثرات اورتصورات بھی پائے جاتے تھے اوریقینی طورپروہ ان سے پوری طرح محفوظ یالاتعلق تونہیں رہے ہوں گے۔ عین ممکن ہے کہ اسلام اوراسلامی دنیاسے متعلق یورپ سے ترکے میں ملنے والے چند تصورات اورمثالوں کوانہوں نے ورجینیامیں مذہب کوریاستی یاحکومتی امورسے الگ رکھنے کی بحث میں مضبوط بنیاد کے طور پر استعمال کیاہو۔جیفرسن نے18 ویں اور19ویں صدی میں اصول اورتعصب کی جس جنگ میں فتح پائی تھی،وہ اب بھی، 21ویں صدی میں، بحران کی صورت امریکیوں کے سامنے کھڑی ہے۔19ویں صدی کے اواخرسے اب تک امریکامیں مسلمانوں کی تعدادنمایاں رفتارسے بڑھی ہے اوراب امریکامیں آبادمسلمان نسلی تنوع اورتحرک سے متصف ہیں۔مگریہ بھی ایک حقیقت ہے کہ امریکا میں مسلمانوں کوکبھی کھلے دل سے قبول نہیں کیا گیا۔ جیفرسن کے زمانے میں مسلمانوں کی ایک تصوراتی آبادی کو تعصب کانشانہ بنایاجاتاتھا۔ آج کے امریکامیں ان مسلمانوں پرسیاسی حملے ہورہے ہیں، جوایک حقیقت کی حیثیت سے امریکی معاشرے کاحصہ ہیں۔ نائن الیون کے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پرامریکا میں مسلمانوں کے خلاف ایسی فضاتیار کر دی گئی ہے،جس میں سبھی اس بات کے حق میں دکھائی دیتے ہیں کہ مسلمانوں کوان کے تمام بنیادی وشہری حقوق نہ دئیے جائیں۔
اب امریکا میں یہ بحث بھی زورپکڑگئی ہے کہ کوئی مسلمان امریکی صدربننے کی اہلیت رکھتاہے یانہیں۔بارک اوباماکے حوالے سے یہی سوال اٹھاتھا مگر یہ سوال نیانہیں۔امریکی سیاسی تاریخ میں جیفرسن پہلی شخصیت تھے جن پرمسلمان ہونے کا الزام بھی عائد کیا گیا۔ کوئی امریکی مسلمان صدر بن سکتاہے یانہیں، یا اسے صدربننے دینا چاہیے یانہیں۔اِس نکتے پربحث سے ہمیں یہ اندازہ لگانے میں بھی مددملتی ہے کہ امریکی شعورِ عامہ میں مسلمان کس طورداخل ہوچکاہے اوریہ کہ مسلمانوں کے حقوق کس طرح ابتدائی مرحلے میں قومی آدرش کی حیثیت اختیارکرگئے تھے۔یوں آج کے امریکا میں مسلمانوں کی شہریت کے مسئلے کوسمجھنے کیلئے 18ویں صدی کے اواخرمیں مسلمانوں کے حقوق سے متعلق چھڑنے والی بحث کو سمجھنالازم ہے۔
امریکی مسلمانوں کے حقوق نے نظری سطح پرتوبہت پہلے قبولیت پالی مگرعملی دنیامیں انہیں سخت آزمائش سے گزرناپڑاہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکی مسلمانوں کوحقوق کے حوالے سے یومیہ بنیاد پرآزمائش کا سامنا کرناپڑتاہے۔آج کے امریکا میں اسلام کے معروف مورخ جان ایسپوزیٹوکوبھی مجبورہوکرکہناپڑاہے کہ امریکی مسلمان یہ سوچنے پر مجبورہوگئے ہیں کہ مغربی وسیع النظری اوررواداری یعنی کلیت پسندی کی حدودکیا ہیں؟ہمیں تھامس جیفرسن کاقرآن کے مطالعے سے یہ اندازہ لگانے میں مدد ملتی ہے کہ مسلمانوں کے حقوق کوامریکی آدرشوں کاحصہ کب،کہاں اورکس طرح بنایاگیا۔
مؤرخین نے اب تک یہ ثابت کرنے پرتوانائی صرف کی ہے کہ مسلمان مکمل طورپر امریکی آدرشوں کے خلاف ہیں۔اوریہی لوگ اس نکتے پربھی زوردیتے ہیں کہ پروٹسٹنٹ امریکیوں نے ہمیشہ اسلام اورمسلمانوں کوفطری طورپرغیرامریکی قراردیکرمسترد کیاہے۔بعض مورخین نے تویہ بھی ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ امریکا دراصل 18ویں صدی میں اسلام کی شدید مخالفت اوراس کے جابرانہ طرزِحکومت کے مآخذ کے خلاف ردعمل کے نتیجے میں معرضِ وجودمیں آیاتھا۔یہ بھی ناقابلِ تردیدحقیقت ہے کہ امریکاکی ابتدائی پالیسیوں اور حکمتِ عملی سے متعلق دستاویزات میں اس حوالے سے بہت کچھ مل بھی جاتاہے۔مگرساتھ ہی اسلام اورمسلمانوں کے بارے میں نمایاں حدتک مثبت تصورات بھی ملتے ہیں،جیساکہ مستقبل کے امریکی مسلم شہریوں کے حقوق سے متعلق بحث ہے۔اس سے یہ بھی اندازہ ہوتاہے کہ تمام پروٹسٹنٹس نے اسلام کویکسراجنبی مذہب کی حیثیت سے نہیں دیکھا تھا۔
یہ کتاب اس نکتے پرروشنی ڈالتی ہے کہ مسلمان نہ صرف یہ کہ غیرامریکی نہیں تھے بلکہ ملک کے قیام کے وقت ہی سے ان کی ممکنہ شہریت اور متوقع حقوق پربحث بھی ہوئی۔یہ اوربات ہے کہ ان میں سے بہت سے آئیڈیلزکواس وقت کے امریکیوں کی اکثریت نے کھلے دل سے قبول نہیں کیاتھا۔اسلام اوراسلامی دنیاکے حوالے سے جیفرسن کے نظریات کااحاطہ کرنے کے ساتھ ساتھ یہ کتاب جان ایڈمزاورجیمزمیڈیسن کے خیالات کوبھی عمدگی سے بیان کرتی ہے۔مسلمانوں کے حقوق کی بحث ملک کے بانیان تک محدودنہ تھی۔ ورجینیامیں بیپٹسٹ اور پریسبائٹیرینزکی جدوجہد اورمذہبی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ان کی معرکہ آرائی کااحوال بھی اس کتاب میں ہے اورکلیسائے انگلستان سے تعلق رکھنے والے مشہوروکیل جیمز آئرڈیل اورسیموئل جانسٹن کامسلمانوں کے حقوق کیلئے آوازاٹھانا بھی اسی کتاب سے ثابت ہے۔ایونجیلیکل بیپٹسٹ جان لیلینڈ نے،جوجیفرسن اورمیڈیسن کے ساتھیوں میں سے تھے، مسلمانوں کے حقوق کیلئے کنیکٹیکٹ اور میساچوسیٹس میں آوازاٹھائی۔ساتھ ہی انہوں نے آئین میں پائی جانے والی خامیوں،پہلی آئینی ترمیم کے نقائص اورریاستی سطح پر مذہب کے کردارکے خلاف بھی احتجاج کیا۔
اس کتاب میں مغربی افریقاسے تعلق رکھنے والے دومسلم غلاموں ابراہیم عبدالرحمن اورعمرابن سعید کا تذکرہ ملتاہے۔عمرابن سعید عربی جانتا تھا اور اس نے عربی میں آپ بیتی بھی لکھی تھی۔ان دو مسلمانوں کے تذکرے سے اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ اس وقت امریکامیں ہزاروں مسلمان تھے مگر انہیں مذہب پرکاربند رہنے سمیت بہت سے حقوق حاصل نہ تھے۔ انہیں شہریت کے حق سے بھی محروم رکھاگیاتھا۔کیتھولک عیسائیو ں اوریہودیوں نے20ویں صدی میں بھی اپنے حقوق کیلئے جدوجہدجاری رکھی۔انہیں جوحقوق ملے وہ آئین سے مکمل ہم آہنگ نہ تھے۔یہ حقیقت البتہ انتہائی تلخ ہے کہ آج بھی امریکامیں مسلمان واحد برادری ہے جسے مکمل طورپرقبول نہیں کیاگیااورآج بھی اس کے اثرات کادائرہ محدودرکھنے کی کوشش کی جارہی ہے۔قصر سفید کے فرعون ٹرمپ کے یروشلم کواسرائیل کادارلحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے کے بعدتوکسی شک وشبہ کی گنجائش بھی باقی نہیں رہی کہ صرف امریکا میں ہی نہیں بلکہ عالم اسلام کے خلاف اس نے کھلااعلان جنگ کردیاہے۔اب دیکھنایہ ہے کہ موجودہ جاری اسرائیلی درندگی کی امریکی انتخابات میں دونوں جماعتوں کے امیدواروں کی کھلم کھلا حمائت خطے میں گریٹراسرائیل کی تشکیل کیلئے جاری اسرائیلی جارحیت پرعالم اسلام خاموش رہ کراپنی خودکشی کامرتکب ہوتاہے یاپھراپنی تقدیر کوپھرسے سنوارنے کے مواقع سے فائدہ اٹھاتاہے؟