Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

امریکی دستاویزات لیک:مشرقِ وسطی میں سلامتی کےچیلنجز

ایران نےیکم اکتوبرکواسرائیل پرتقریباً 200 بیلسٹک میزائل داغےتھے۔اسرائیلی فوج کے مطابق ان میں سے زیادہ ترفضامیں ہی تباہ کردیئے گئے تھے لیکن یقیناکچھ اپنے اہداف تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔فی الحال اسرائیل اس حملے کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کومیڈیاسے چھپارہا ہے۔ یادرہے کہ اس سے قبل رواں سال اپریل میں شام کے دارالحکومت دمشق میں ایرانی قونصلیٹ پر اسرائیلی حملے کےبعدایران نے اسرائیل کی جانب ڈرونزاورمیزائل داغے تھے جس کےبعداسرائیل کو مزیدمحفوظ کرنےکیلئے امریکانے ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کر رکھا ہے۔ خطے میں مسلسل مزید خوفناک جنگ کے بادل ابھی تک منڈلارہے ہیں۔
چند دن قبل انہی خطرات کی نشاندہی ایک ٹیلی گرام چینل’’مڈل ایسٹ سپیکٹیٹر‘‘نے کچھ مبینہ خفیہ امریکی دستاویزات کوشائع کرکےخطے میں جاری خطرات سے آگاہ کیاہے کہ کس طرح امریکا کی جانب سے ایران پرحملہ کرنے کے اسرائیلی منصوبے کاجائزہ لیاگیاتھا۔چینل کا دعویٰ ہے کہ یہ دستاویزات امریکی انٹیلی جنس سےوابستہ ایک اہلکار نےانہیں فراہم کی ہیں۔ امریکی ایوانِ نمائندگان کےسپیکر مائیک جانسن نےعالمی میڈیاسےبات کرتے ہوئے کہاہے کہ انہیں اس بارے میں بریفنگ دی گئی ہے جس کی تفصیلات وہ فی الحال شیئر نہیں کرسکتے، تاہم اس ضمن میں تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ یہ خفیہ امریکی دستاویزات کیسے لیک ہوئیں ۔ اِن دستاویزات کا لیک ہونا ’’انتہائی پریشان کن‘‘ہے۔
اس سے قبل خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس(اے پی)نے تین نامعلوم امریکی اہلکاروں کےحوالے سے بتایاتھاکہ امریکااس بات کی تحقیقات کررہاہے کہ ایران پرممکنہ اسرائیلی حملے سے متعلق واشنگٹن کے جائزے پرمبنی دوخفیہ دستاویزات کیسے لیک ہوئیں؟ایک اورامریکی اہلکار نےاےپی کوبتایاکہ یہ دستاویزات اصلی معلوم ہوتی ہیں۔ان دستاویزات پر’’ٹاپ سیکرٹ‘‘ لکھا ہے اور تاریخ 15اور16اکتوبردرج ہے۔مذکورہ ٹیلی گرام چینل تہران سے چلایا جارہا ہے اور یہ’’مزاحمت کے محور‘‘کی خبروں کوکورکرتا ہے۔ ماضی میں اس چینل نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سیدعلی خامنہ ای کے حوالے سے میمزبھی شائع کی تھیں۔
سیٹلائٹ امیجزکے ذریعے ایران پرحملہ کرنے کی اسرائیلی تیاریوں کے حوالے سے مرتب کردہ یہ جائزہ دستاویزات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ اسرائیل اب بھی اپنے فوجی سازو سامان کو ایران پرحملے کیلئے نزدیکی اڈوں پرمنتقل کر رہاہے اوراس نے حال ہی میں ایک بڑی فوجی مشق بھی کی ہے۔امریکی سپیس انٹیلی جنس ایجنسی اور امریکی نیشنل سکیورٹی ایجنسی کی جانب سےتیار کردہ یہ دستاویزات ’’فائیوآئیزیعنی امریکا، برطانیہ ، کینیڈا ،آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ‘‘کے پانچ ملکی انٹیلی جنس اتحادکے ساتھ شئیرکی جانی تھیں۔
ٹیلی گرام کےبعدامریکی چینل نےبھی اس حوالے سےرپورٹ شائع کی ہے کہ امریکا تحقیقات کر رہاہے کہ یہ دستاویزات کیسےلیک ہوئیں؟ کیا کسی نےجان بوجھ کرانہیں لیک کیا یا یہ دستاویزات ہیکنگ جیسے دیگرطریقوں سے حاصل کی گئیں۔ایسے معاملات کی تفتیش عام طور پر امریکن فیڈرل پولیس(ایف بی اے)،وزارت دفاع اوردیگرامریکی سکیورٹی اداروں کی ذمہ داری ہوتی ہے۔تاہم ایف بی آئی نے فی الحال اس پرکوئی تبصرہ نہیں کیاہے تاہم’’اے پی‘‘کے مطابق ان دستاویزات میں سے ایک اس دستاویز سے ملتی جلتی ہے جوتقریباً 7ماہ قبل امریکی سپیس انٹیلی جنس ایجنسی کے ذریعے لیک ہوئی تھی اورامریکی ایئرنیشنل گارڈکے ایک اہلکار نے اسے لیک کرنے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔پینٹاگون نے اِن دستاویزات کے بارے میں شائع ہونے والی رپورٹس کانوٹس تولیاہےلیکن مزیدکوئی تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔اس کے علاوہ اسرائیلی فوج(آئی ڈی ایف)نے بھی اے پی کی جانب سے تبصرہ کرنے کی درخواست کاجواب نہیں دیاہے۔
یادرہےکہ ایران کے حالیہ میزائل حملے کے بعداسرائیل نے کہاہے کہ وہ مناسب وقت پر اور اپنے’’قومی مفادات‘‘کی بنیادپراس کاجواب دے گا۔گزشتہ ہفتے واشنگٹن پوسٹ نے خبردی تھی کہ نیتن یاہوایران کی جوہری اورفوجی تنصیبات کی بجائے صرف فوجی مراکزکونشانہ بنائیں گے۔ اسرائیل کے وزیردفاع یوو گیلنٹ نےبھی حال ہی میں اس عزم کااظہار کیاہے کہ جب اسرائیل کی طرف سے جوابی کارروائی کی جائے گی تویہ ’’باقاعدہ ہدف بناکرکی جائے گی اور مہلک‘‘ ہوگی اوریہ بھی کہ ایران اس کااندازہ نہیں لگا پائے گاجس کے جواب میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایران پرکسی بھی حملے کو’’ریڈلائن‘‘ قراردیتے ہوئے خبردارکیا ہے کہ تہران اس کامناسب جواب دے گا۔
ایران کے وزیرخارجہ نے ترکی کے این ٹی وی چینل کوبتایاکہ اسرائیل پرایران کے میزائل حملے میں صرف فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایاگیاتھا اوراس کے بیلسٹک میزائل حملے اسرائیل کی طرف سے حزب اللہ کے رہنما حسن نصراللہ اورحماس کے سیاسی رہنما اسماعیل ہنیہ کے قتل کاجواب تھے مگر اب ہم نے اسرائیل میں اپنے تمام اہداف کی نشاندہی کرلی ہے اوران پربھی ایساہی حملہ کیا جائے گا‘‘۔ اس کے ساتھ ہی ایران نے خلیجی عرب ریاستوں کو،جن میں سے بعض کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات ہیں، خبردارکیاہے کہ وہ اپنی فضائی حدود کواسرائیل کے ممکنہ جوابی حملے کیلئے استعمال نہ ہونے دیں کیونکہ جوبھی ملک ایران پر حملہ کرنے میں اسرائیل کی مددکرے گا اسے کسی بھی ایرانی ردعمل کاہدف سمجھاجائے گا۔
یادرہے حماس کے رہنمایحییٰ سنوارکی شہادت کے بعدامریکا اسرائیل پرزوردے رہاہے کہ وہ غزہ میں جنگ بندی کی جانب بڑھے۔ امریکانے اسرائیل کوخبردارکیاہے کہ وہ لبنان کے شمال میں فوجی کارروائیوں کومزیدوسعت نہ دے اوروسیع ترعلاقائی جنگ کا خطرہ مول نہ لے تاہم اسرائیل کی قیادت نے بارہااس بات پر زور دیاہے کہ وہ ایران کے میزائل حملے کاجواب ضرور دے گا۔امریکی صدربائیڈن نے برلن میں صحافیوں کے اس سوال کہ اسرائیل کب اورکیسے ایران کے میزائل حملوں کاجواب دے گا،کاجواب دیتے ہوئے صرف’ ’ہاں‘‘کہامگرانہوں نے مزید وضاحت نہیں کی۔
اہم بات یہ ہے کہ امریکامیں صدارتی انتخاب میں بھی کم وقت بچاہے اورایسی صورتحال میں وائٹ ہائوس ایرانی تیل کی تنصیبات پرکسی بھی ایسے حملے کاخیرمقدم نہیں کرے گا جس کا اثر تیل کی قیمتوں پرپڑسکتاہے اورنہ ہی وہ مشرق وسطیٰ کی ایک اور جنگ میں گھسیٹاجاناچاہے گالیکن ٹیلی گرام چینل پرلیک ہونے والی دستاویزات پرنیشنل سکیورٹی کونسل کے ترجمان جون کربی کا کہنا تھا کہ ’’دستاویزات لیک ہونے کے معاملے پر جوبائیڈن ‘‘ گہری تشویش’’ کا شکار ہیں‘‘۔ امریکی حکام اس بات کاتعین تاحال نہیں کر سکے ہیں کہ یہ دستاویزات جان بوجھ کرلیک کیے گئے ہیں یاانہیں حاصل کرنے کیلئے ہیکنگ کا سہارا لیا گیا ہے۔
عسکری تجزیہ کاروں کاکہناہے کہ دستاویزات میں استعمال کی گئی ہیڈنگز(شہ سرخیاں) مستند نظر آتی ہیں اوراسی طرح کے الفاظ کا استعمال ماضی میں سامنے آنی والی دیگرخفیہ دستاویزات میں بھی کیاگیاہے۔ان پر’’ٹاپ سیکرٹ‘‘کے ساتھ ساتھ’’ایف جی آئی‘‘ یعنی ’’فارن گورنمنٹ انٹیلی جنس‘‘بھی لکھا ہے۔ بظاہریہ دستاویزات’’فائیو آئیز‘‘یعنی امریکا، برطانیہ، کینیڈا،آسٹریلیااور نیوزی لینڈکے پانچ ملکی انٹیلی جنس اتحادکے ساتھ شیئرکی جانی تھیں۔ان دستاویزات میں ’’ٹی کے‘‘یعنی’’ٹیلنٹ کی ہول‘‘جیسے کوڈ ورڈ بھی استعمال کیے گئے ہیں جس کا مطلب سیٹلائیٹ بیسڈسگنلز انٹیلی جنس اینڈامیجری انٹیلی جنس ہے۔
( جاری ہے )

یہ بھی پڑھیں