(گزشتہ سے پیوستہ)
ان دستاویزات کے مطابق پتہ چلتاہے کہ اسرائیل ایران میں کہاں کہاں اہداف کونشانہ بنانے کی تیاریاں کررہاہے۔اس جائزہ رپورٹ کی بنیاد14اور15اکتوبرکوامریکی جیوسپیشل انٹیلی جنس ایجنسی کی جانب سے اکھٹی کی گئی معلومات کا تجزیہ ہے۔اس جائزہ رپورٹ میں دو ایئر لانچڈ بیلسٹک میزائلوں’’گولڈن ہوریزون‘‘ اور ’’راکس‘‘ کا ذکر بار بارآیا ہے۔”’’اکس‘‘ایک لانگ رینج (دورتک مار کرنے والا)میزائل سسٹم ہے جوکہ اسرائیلی کمپنی رافئل نے بنایاہے اوراس کے ذریعے زمین کے اوپراورزیرِزمین اہداف کونشانہ بنایاجا سکتاہے۔
’’گولڈن ہوریزون‘‘سےمراداسرائیل کا بلیوسپیرومیزائل سسٹم ہےجس کی رینج تقریبا دو ہزار کلومیٹرہے۔اس سے یہ عندیہ ملتاہےکہ اسرائیلی فضائیہ رواں برس یکم اپریل کی ہی طرز پرایران پرایک اورحملے کی منصوبہ بندی کررہی ہے لیکن یہ حملہ پچھلے حملے کے مقابلے میں وسیع ترہوگا۔اس مرتبہ وہ اپنے اِن دورتک مارکرنے والے ہتھیاروں کااستعمال کرنے کیلئے ایران کی ممکنہ دھمکی کی بناپراردن کی فضائی حدود کوبھی استعمال نہیں کرے گاکیونکہ ایران پہلےہی خبردارکرچکاہے کہ ممکنہ اسرائیلی حملےمیں جن ممالک کی فضائی حدود یا اڈے استعمال ہوئے انہیں ایران کاٹارگٹ سمجھاجائے گا۔
ان لیک ہونے والے دستاویزات سے یہ بھی اندازہ ہوتاہے کہ اسرائیل ایران کو مزید حملوں سے بازرکھنے کیلئے کسی بھی قسم کے جوہری آپشن کی تیاری نہیں کررہا۔اسرائیل کی درخواست پرامریکی حکومتوں نے کبھی یہ تسلیم نہیں کیاکہ اس کے قریب ترین اتحادی یعنی اسرائیل کے پاس جوہری ہتھیارہیں۔ایسے میں ان دستاویزات میں جوہری ہتھیارکاذکر آناامریکاکیلئے شرمندگی کا باعث بن رہاہے۔ان دستاویزات میں اس بات کا ذکرنہیں کہ اسرائیل کب اورکون سے ایرانی اہداف کونشانہ بنائے گا۔یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ امریکانے اسرائیل کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات اورتیل کی تنصیبات کونشانہ بنانے کی مخالفت کی ہے تواس کے بعدپاسدارانِ انقلاب کے عسکری اڈے،اس سے جڑی شخصیات اوربسیج فورس بچتے ہیں جوکہ ایران کے اندر اور باہراپنے ملک کے خلاف مزاحمت کوختم کرنے کی خدمات سرانجام دیتے ہیں۔
جہاں تک ایران پراسرائیلی حملے کاتعلق ہے توبہت سی شخصیات کامانناہے کہ انہیں توقع تھی کہ اسرائیل اب تک یہ کرگزرے گا لیکن رواں برس اپریل میں ایران نے بھی اسرائیل پر جوابی حملہ کرنے کیلئے12دن انتظارکیاتھا۔خیال رہے اس سے قبل اسرائیل نے دمشق میں ایک ایرانی سفارتی عمارت کونشانہ بنایاتھاجس میں پاسدارانِ انقلاب کے سات اراکین بھی ہلاک ہوئے تھے۔ایران پر اسرائیلی حملے میں تاخیرکی ایک وجہ امریکی خدشات بھی ہوسکتے ہیں۔ امریکانہیں چاہتاکہ ان کے ملک میں صدارتی انتخاب سے پہلے خطے میں مزیدتنائو بڑھے تاہم دونوں صدارتی امیدواروں نے جس طرح اپنی انتخابی مہم میں اسرائیل کی کھلم کھلاحمائت کی ہے اور یحییٰ سنوارکی شہادت پرجس خوشی کا اظہار کیا ہے،اس سے معلوم ہوتاہے کہ اسرائیل امریکی انتخابات سے قبل ایسی کوئی حرکت نہیں کرے گالیکن نیتن یاہوکاسابقہ کرداراس سے بالکل مختلف ہے۔
ممکنہ طورپر یہ دستاویزات کسی ایسے شخص نے افشاں کی ہیں جوایران پرحملے کے اسرائیلی منصوبے کوناکام بناناچاہتاتھا۔ ایران سائبر وار فیئر کے شعبے میں بھی وسیع صلاحیتیں رکھتاہے، اسی سبب یہ تحقیقات بھِی جاری ہیں کہ کہیں دستاویزات کی یہ لیک ہیکنگ کانتیجہ تونہیں ہے۔اگریہ دستاویزات اصلی ہیں تواس سے یہ بھی معلوم ہوتاہے کہ قریب ترین دفاعی اتحادی ہونے کے باوجود بھی امریکااسرائیل کی جاسوسی کرتا ہے۔ ان دستاویزات کے جائزے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اسرائیلی فضائیہ ایران کے خلاف کوئی لانگ رینج حملہ کرنے کاارادہ رکھتی ہے اوران کی جانب سے کسی بھی متوقع ایرانی حملے کوروکنے کیلئے بھی تیاریاں کی جارہی ہیں۔مختصراًیہ سمجھ لیجیے کہ جب اسرائیل اپنے منصوبے پرعمل کرے گاتب ایک بار پھر مشرقِ وسطی میں شدیدتنا ؤکی کیفیت طاری ہوجائے گی اورکیا دنیااس تناؤ کے ردعمل کودنیابرداشت کرپائے گی۔
ادھرتہران اورماسکوکے درمیان عسکری اورتکنیکی تعاون جو2002ء میں یوکرین کی جنگ سے جاری ہے،اب اس کاتعلق ایران اسرائیل جنگ میں بھی نظرآرہاہے۔ایران اس سے قبل روس کوجنگی ڈرون اورہتھیاروں کی دیگرچھوٹی چھوٹی کھیپیں دے چکاہے جنہیں روسی فوج یوکرین پرحملے کیلئے استعمال کررہی ہے لیکن خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد فوجی اورتکنیکی تعاون کواعلی سطح تک بڑھایاجاسکتا ہے۔روس ایران کو کچھ سوخوئی35(فلانکر) لڑاکاطیارے فروخت کرسکتاہے۔اس وقت ایرانی فضائیہ کے پاس صرف چنددرجن جنگی طیارے ہیں،جن میں سے زیادہ ترپرانے روسی اورامریکی ماڈلزہیں جواسلامی انقلاب1979سے پہلے کے دورکے ہیں۔
اس کے جواب میں روس ایران کو مختصرفاصلے تک مارکرنے والے میزائل سسٹم ’’پنتسیر۔ایس ون‘‘جیسے فضائی دفاعی نظام بھی فراہم کرسکتا ہے۔یہ نظام طویل فاصلے تک مار کرنے والے دفاعی نظام اوردیگراہم اہداف کو اسرائیلی میزائل حملوں سے محفوظ رکھنے میں مددگارثابت ہوں گے۔خفیہ امریکی دستاویزات کے مطابق2023ء میں روسی کرائے کے جنگجو ویگنرگروپ کی جانب سے اس نظام کوحزب اللہ یاایران کومنتقل کرنے کامنصوبہ تھا۔اس وقت امریکاکی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے اعلان کیاتھا کہ ایسی کسی کارروائی کی صورت میں امریکا’’روسی افراد اور اداروں کے خلاف انسداد دہشت گردی پابندیاں لگانے کیلئے تیارہے‘‘تاہم ابھی تک اس منصوبے پرعمل درآمدکے بارے میں کوئی رپورٹ شائع نہیں ہوئی۔
دوسری طرف ایران،روس کوآپریشنل ٹیکٹیکل یاکم فاصلے تک مارکرنے والے بیلسٹک میزائل بھیج سکتاہے۔روسی فوجی ہتھیاروں میں ایسے میزائلوں کااضافہ یوکرین میں جنگ کی موجودہ حالت پرخاصا اثرڈالے گا۔اسرائیل کے ساتھ جنگ کی صورت میں ایران جواس ملک سے تقریباً ایک ہزارکلومیٹر دور ہے، کودرمیانے فاصلے تک مارکرنے والے میزائلوں کی ضرورت ہوگی۔دوسری جانب روس کو500کلومیٹر سے کم رینج والے ٹیکٹیکل یاکم فاصلے تک مارکرنے والے میزائلوں کی ضرورت ہے۔اس لیے روس کو ایسے آلات کی منتقلی سے ایران کی اسرائیل پرحملہ کرنے کی صلاحیت متاثرنہیں ہوگی۔
یہ مسئلہ اتناسنگین ہے کہ اس نے ماسکو اور واشنگٹن کے درمیان مزیدسفارتی تناؤ پیدا کر دیا ہے۔گزشتہ ماہ ستمبرکے اوائل میں جو بائیڈن نے یوکرین کوروسی سرزمین پراہداف کے خلاف امریکی میزائل استعمال کرنے کی اجازت دینے پر غورکیا۔اس وقت امریکا، فرانس،جرمنی اور برطانیہ نے سرکاری طورپرایران پرروس کو بیلسٹک میزائل فراہم کرنے کاالزام لگایاتھا۔ دنیااس منافقت سے بے خبرنہیں کہ یہ تمام ممالک اس سے کہیں زیادہ خطرناک اسلحہ اسرائیل کوفراہم کررہے ہیں۔ایران نے سرکاری طورپران میزائلوں کو روس بھیجنے کی تردیدکی ہے۔لڑاکاطیاروں اور بیلسٹک میزائلوں کی ممکنہ فروخت ہتھیاروں کے سب سے بڑے سودے ہیں جومیڈیاکولیک ہوچکے ہیں لیکن ابھی تک ان پریقین کے ساتھ کچھ نہیں کہاجاسکتاہے لیکن اس طرح کی مساوات کاامکان ایران اورروس کے درمیان فوجی اور تکنیکی تعاون کی اعلیٰ صلاحیت کوظاہر کرتا ہے جوکہ خطے کے حالات کومتاثرکرتی ہے۔اس کے ساتھ ہی یہ تعاون اسرائیل کے مفادات کو متاثر کرتا ہے۔یوکرین خاص طورپراسرائیل کے مؤثر فضائی دفاعی نظام جیسے آئرن ڈوم میں دلچسپی رکھتاہے۔گویامستقبل میں مشرقِ وسطی میں بڑھتی کشیدگی کے ساتھ ساتھ یوکرین کامسئلہ بھی امریکا اوراس کے اتحادیوں کیلئے انتہائی خوفناک خواب بنتادکھائی دے رہا ہے۔