یہ پہلاموقع تھاکہ وائٹ ہائوس میں بیٹھے امریکی صدرجس کے پاس ایٹمی بریف کیس کابٹن دبانے کی مکمل طاقت ہے،اس کے بارے میں امریکی الیکٹرانک میڈیا پر ببانگ دہل ایک امریکی ماہر نفسیات دلائل کے ساتھ ٹرمپ کی دماغی صحت پر اپنے شک وشبہ کااظہارکرتے ہوئے اپنے خدشات کا اظہار کررہی تھی جس سے تمام دفاعی اورسیاسی تجزیہ نگاروں میں ایک خوف کی لہردوڑگئی تھی۔ماہرنفسیات ڈاکٹرکا کہناتھاکہ ڈونلڈٹرمپ نے جب سے امریکی صد ر کا منصب سنبھالاہے تب سے وہ ایسابہت کچھ کررہے ہیں جو امریکاکوایک عظیم طاقت بنانے والے عوامل کے خلاف ہے۔انہوں نے قدم قدم پرایسی باتیں اورحرکتیں کی ہیں جوان کے منصب کے تقاضوں سے کسی بھی طور میل نہیں کھاتیں۔ان کی کوشش رہی ہے کہ جوکھلنڈراپن ان کے مزاج میں پایاجاتاہے وہ امریکی صدرکے منصب میں بھی دکھائی دے۔امریکا کوایک عظیم طاقت میں تبدیل کرنے والے اصولوں،طریقوں اور خواص کوانہوں نے نشانے پرلینے کی کوشش کی ہے اوریہ بات اب بیشترامریکی زیادہ شدت سے محسوس کرتے ہیں۔
عالمی سیاست کے حوالے سے کوئی بھی پیش گوئی انتہائی دشوارکام ہے۔حالات اتنی تیزی سے بدلتے ہیں کہ ہرپیش گوئی خطرے میں پڑجاتی ہے اورٹرمپ کا معاملہ توہمیشہ سے پیچیدہ رہاہے۔ٹرمپ کے دورِ صدارت میں پہلے ایک سال کے دوران ایسابہت کچھ ہواجس کی بنیاد پران کے بارے میں پورے یقین سے کچھ کہناانتہائی دشوارہوگیاتھا۔ پیش گوئی کرنے والوں کوبھی اندازہ تھاکہ وہ اگرکچھ کہیں گے توٹرمپ اس کے خلاف کچھ نہ کچھ کرکے انہیں ناکامی و ذلت سے دوچارکردے گا۔یہ بات البتہ پورے یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ مورخین جب ٹرمپ کے ادوارکے بارے میں لکھیں گے تواس نکتے پرضرورزوردیں گے کہ انہوں نے اپنے کھلنڈرے مزاج سے وہ نظم وضبط تباہ کردیا جوامریکی صدرکے لئے لازم قراردیاجاتاتھا۔اب تک انہوں نے بہت کچھ اپنی خواہش کے اصول کی بنیادپرکیا،جس کے نتیجے میں امریکاکوکئی معاملات میں تھوڑی بہت سبکی کابھی سامنا کرناپڑا۔اس کوسب نے محسوس کیاکہ ٹرمپ کے پاس اپناکوئی وژن نہیں تھا۔وہ کوئی ایسی ’’گرینڈ اسٹریٹجی‘‘ تیارکرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے جس کی بنیاد پر کہا جا سکتاکہ وہ امریکی معاشرے اور قیادت کے ڈھانچے کو کوئی باضابطہ نئی شکل دینااوربحرانوں سے نکالنا چاہتا تھا۔ اس حوالے سے ان کی سنجیدگی کاگراف خاصا نیچارہا۔
کسی بھی ملک کے لئے یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ اس کی کوئی واضح اوربڑی حکمت عملی نہ ہو۔اس مرحلے سے گزرے بغیرکوئی بھی ریاست ترقی توکیاکرے گی،اپنا وجود بھی برقرارنہ رکھ پائے گی۔ امریکاکوئی عام ملک نہیں،عالمی طاقت ہے۔ اس کے لئے تو قیادت کے ڈھانچے کامضبوط ہونااور بیشتربین الاقوامی معاملات میں واضح حکمت عملی کاہونالازم ہے۔امریکا میں ایک زمانے سے عظیم،ہمہ گیرحکمت عملی اپنانے کارجحان رہاہے اوریہ رجحان محض اپنی پسندکانہیں بلکہ مجبوری اورلازم ہے۔امریکاسپر پاورہے،اسے کئی ممالک سے خصوصی تعلقات استواررکھناپڑتے ہیں۔ہرخطے پرنظررکھناپڑتی ہے۔ کسی بھی صدرکے لئے یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ ملک کی گرینڈاسٹریٹجی سے ہٹ کرکچھ کرے۔ وہ اگرنمایاں حدتک بصیرت سے محروم ہواورمستقبلِ بعید کے بارے میں سوچنے اوراس حوالے سے کوئی واضح منصوبہ تیار کرنے کااہل نہ ہوتب بھی اسے حکمت عملی کے حوالے سے بہت سے معاملات میں غیرمعمولی دلچسپی لیناہی پڑتی ہے۔ ڈونلڈٹرمپ بظاہربصیرت کے حامل نہیں مگران کے لئے بھی ممکن نہیں تھاکہ ملک کی گرینڈاسٹریٹجی کو نظراندازکرتے یااس سے مطابقت رکھنے والے اقدامات نہ کرتے۔ لیون ٹراٹسکی نے خوب کہاہے کہ اگرکوئی صدر گرینڈ اسٹریٹجی میں زیادہ دلچسپی نہ لیتاہوتب بھی گرینڈ اسٹریٹجی تواس میں دلچسپی لیتی ہی ہے۔یعنی پیچھے ہٹنے کی گنجائش نہیں، صرف بڑھنے کاآپشن ہے۔
یہ نکتہ کسی بھی طورنظراندازنہیں کیاجاسکتاکہ ٹرمپ نے ایک اہم موقع پرامریکا کی صدارت سنبھالی تھی۔ ان کے انتخاب سے پہلے کے70برسوں میں امریکانے دوسری عالمی جنگ عظیم کے بعد سے ایک ایسی طاقت کاکرداراداکیاتھاجوپوری دنیاکو ایک نئے سانچے میں ڈھالنے کابھرپورعزم اورتوانائی رکھتی تھی۔ امریکا نے کئی خطوں کواپنی مرضی کے مطابق تبدیل کیا۔ متعدد ممالک کوتعمیروترقی کی نئی جہتوں سے آشناکیا اوردوسری طرف کئی ممالک امریکاکے ہاتھوں خرابیوں سے بھی دوچارہوئے۔ 1990ء میں سردجنگ کے خاتمے کے بعدامریکاچونکہ واحدسپرپاور تھااس لیے اس کی ذمہ داریاں بھی بڑھ گئیں۔تقریباً تین عشروں پرمحیط اس مدت کے دوران امریکانے اچھاکم اوربرازیادہ کیا ہے۔ بعض مواقع پر صاف محسوس کیاگیاکہ امریکا کے لئے معاملات الجھے ہوئے ہیں اوروہ جوکچھ بھی کررہاہے،اس کی پشت پریاتوبدحواسی ہے یاپھرخوف۔
امریکی دفاعی تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ حقیقت بھی نظراندازنہیں کی جاسکتی کہ ٹرمپ ایک ایسے وقت امریکاکے صدر منتخب ہوئے،جب چین اپنی پوری قوت کے ساتھ ابھرکرسامنے آچکاتھا۔چین ایک بڑاچیلنج ہے جس سے نمٹنے کے لئے امریکاکو اپنی گرینڈ اسٹریٹجی تبدیل کرناپڑے گی۔ایک طرف جہاں چین نے امریکا کی عسکری ومعاشی بالادستی کے لئے بہت بڑے چیلنج کی حیثیت اختیارکرلی ہے،وہاں خطے میں پاکستان جیسااہم اتحادی جس نے امریکاکودنیاکی واحدسپرپاوربننے میں اہم کرداراداکیا،سب کوعلم ہے کہ کشمیرمیں جاری ظلم وستم اور پاکستان میں دہشت گردی کی بنا پر بھارت کے ساتھ تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں لیکن امریکی بے وفائی اور بھارت کے ساتھ دوستی کی پینگیں بڑھانے اورافغانستان میں بدترین ہزیمت وشکست کے بعدپاکستان پربلاوجہ دباؤڈالنے کی غلط پالیسی اختیارکرنے کی بناپربھی سخت دھچکالگاہے اور ردعمل میں خطے میں چین،پاکستان،روس اورایران کا ایک مضبوط بلاک بھی تشکیل پاچکاہے۔
ایک طرف چین نے امریکاکی عسکری ومعاشی بالادستی کے لئے بہت بڑے چیلنج کی حیثیت اختیارکی ہے اوردوسری طرف مشرق وسطیٰ میں بھی صورتِ حال بہت تیزی سے تبدیل ہورہی ہے جوامریکا کے لئے مشکلات پیداکررہی ہے۔یہ نکتہ بھی ذہن نشین رہے کہ دنیابھرمیں جمہوریت کوبہترطرزِحکمرانی کی حیثیت سے قبول نہ کرنے کارجحان پروان چڑھ رہاہے۔عام آدمی یہ سوچنے پر مجبورہے کہ اگرآمریت اس کے مسائل حل کردے توجمہوریت کی کیاضرورت ہے؟
کئی عشروں سے امریکاعالمی سیاست ومعیشت پربلاشرکتِ غیرے متصرف رہاہے۔اس نے یورپ کوساتھ ملاکر اپنی مرضی کے فیصلے کیے ہیں اوران فیصلوں کاپھل بھی کھایاہے مگراب بہت کچھ بدل گیاہے۔کئی ممالک تیزی سے مضبوط ہوکرابھرے ہیں۔ یورپ نے اپنی راہ بہت حد تک الگ کرلی ہے۔چین،روس، برازیل،جنوبی افریقا اوردوسرے بہت سے ممالک تیزی سے مستحکم ہوئے ہیں۔ ان کااستحکام امریکی بالادستی کے لئے واضح خطرے کی شکل میں ابھراہے۔یہ سوال امریکامیں بھی جڑ پکڑ چکاہے کہ عالمی سیاست ومعیشت میں اب امریکاکے لئے کیارہ گیاہے۔موجودہ صدارتی انتخاب میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ عالمی سطح پرامریکاکو برترحیثیت برقراررکھنے کے قابل کس طوربنایا جائے۔سیدھی سی بات ہے،چیلنجزبڑھ چکے ہیں۔ حکمت عملی میں غیر معمولی تبدیلیاں ناگزیر ہیں۔
(جاری ہے)