(گزشتہ سےپیوستہ)
ٹرمپ نے اپنے دورِ حکومت میں ایسا کچھ نہیں کیاجس سے اندازہ لگایاجاسکے کہ وہ آئندہ امریکاکو نئی بلندیوں پر لے جانے کی بھرپورصلاحیت رکھتے ہیں۔وہ بظاہراس سیاسی بصیرت سے محروم دکھائی دیئے جوکسی امریکی صدرکے لئے لازم سمجھی جاتی ہے مگراس کا یہ مطلب بھی ہرگزنہیں کہ وہ اپنی شخصیت کاکوئی تاثرچھوڑنے میں مکمل ناکام رہے ہیں۔چند ایک معاملات میں انہوں نے بڑھک سے ہٹ کرعمل کے میدان میں اعتدال پسندی کاثبوت دیاہے مگرمجموعی طورپروہ اپنے اقوال واعمال سے امریکی فکرکومتاثرکرنے میں تھوڑے بہت کامیاب ضرورہوئے ہیں۔یہ بات محسوس کی جارہی ہے کہ امریکانے جن اصولوں اور طریق کارکواپناکراب تک عالمی سیاست ومعیشت میں اپنی بالادستی کسی نہ کسی طور برقرار رکھی ہے انہیں ٹرمپ نے متاثر کرنے کی کوشش کی ہے اورکسی حد تک کامیاب رہے ہیں۔ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ جوکچھ وہ سوچتے اورکرتے ہیں اس سے امریکا کی طاقت اوردولت میں غیرمعمولی اضافہ ہوگااورعالمی سیاست ومعیشت میں امریکی بالا دستی برقرار رہے گی مگردرحقیقت ان کی پالیسیوں سے امریکاکونقصان پہنچاہے۔
دوسری جنگ عظیم کے بعدامریکانے باضابطہ عالمی طاقت کی حیثیت اختیارکی۔ایسانہیں کہ سردجنگ کے زمانے میں سابق سوویت یونین کے ہوتے ہوئے امریکاکی عالمی حیثیت اتنی مضبوط تھی جسے چیلنج نہ کیاجاسکتاتھاتاہم دنیادوواضح عالمی قوتوں کے درمیان تقسیم تھی۔بظاہرامریکانے غیرمعمولی عسکری قوت کے ذریعے پوری دنیاکواپنی مٹھی میں رکھنے کی پوری کوشش کی لیکن سردجنگ کے خاتمے کے بعدامریکاکی عسکری قوت مزیدبڑھ گئی۔ عالمی معیشت میں بھی اس کاحصہ اس قدر بڑھ گیاکہ ایک مرحلے پرامریکی خام قومی پیداوار عالمی خام قومی پیداوارکا25فیصدتھی۔دنیانے کسی ایک ملک کوباقی دنیاکے مقابلے میں اس قدر طاقتورکبھی نہیں دیکھالیکن امریکاکویہ مقام کبھی نہ ملتااگرسوویت یونین افغانستان میں جارحیت کی غلطی نہ کرتااور پاکستان جیسا اتحادی امریکاکی بھرپور مددنہ کرتالیکن امریکانے اپنی سابقہ تاریخ دہراتے ہوئے پاکستان کے ساتھ وہی سلوک کیا کہ جونہی سابقہ روس شکست وریخت سے دوچار ہوا، امریکاوعدہ خلافی کرتے ہوئے پاکستان اور افغانستان کوبیچ منجدھارمیں چھوڑکر فوری طور پر پاکستان کے مخالف کیمپ کوگلے لگالیاکیونکہ بھارت نے بھی پانچ دہائیوں سے ایک وفادارساتھی روس سے بھی آنکھیں پھیر کرامریکاکی گود میں پناہ لے کراپنی برہمنی روایت کوقائم رکھاجس کاروسی وزارتِ خارجہ نے بھرپورگلہ کااظہاربھی کیا۔
لیکن قسمت کی ستم ظریفی دیکھئے کہ مکافاتِ عمل نے چند برسوں کے دوران امریکی بالادستی کے لئے بہت سےخطرات پیداکردیئے ہیں۔اب چین، روس اور دیگر ممالک ابھر کرسامنے آئے ہیں مگراس کے باوجود امریکا سمجھتاہے کہ اس کی عسکری اور معاشی قوت اب بھی اس قدرہے کہ وہ عالمی سیاست ومعیشت پرنمایاں حدتک متصرف ہے اورامریکی قیادت اب بھی دنیابھرمیں معاملات کوالٹنے اور پلٹنے کی بھرپورصلاحیت رکھتی ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے خاتمے پر امریکا چاہتاتوایسی حکمت عملی ترتیب دے سکتاتھاجوصرف اس کے لئے کارگر ہوتی اوراسے زیادہ سے زیادہ عسکری ومعاشی قوت سے ہمکنارکرتی مگرپالیسی سازوں نے ایک ایسابین الاقوامی نظام ترتیب دینے پرتوجہ دی جس کے ذریعے صرف امریکا بھرپور استحکام سے ہمکنارنہ ہوبلکہ مجموعی طور پرتمام خطے ترقی کریں،خوش حالی پائیں اورخاص طورپرہم خیال ممالک زیادہ مستفید ہوں۔اس بین الاقوامی نظام کو چلانے کے لئے ادارے معرض وجودمیں لائے گئے، پروگرامزترتیب دئیے گئے۔یوں اب تک بین الاقوامی نظام کے معاملے میں امریکا عالمی رہنماکی حیثیت اختیار کیے ہوئے ہے۔امریکانے عسکری اتحادتشکیل دئیے۔ کوشش کی گئی کہ بین الاقوامی تجارتی راستوں کو زیادہ سے زیادہ محفوظ بنایاجائے۔یہ سب کچھ عالمی سطح پرامن برقرار رکھنے کی خاطر کیا گیا، مگر درحقیقت امریکایہ چاہتا تھا کہ ایک ایسی دنیاتشکیل دی جائے جس میں وہ خودزیادہ آسانی سے ترقی واستحکام سے ہمکناررہ سکے۔
دوسری جنگ عظیم کے بعدکی دنیا کو اپنی مرضی کےسانچے میں ڈھالنے کی امریکی مساعی درحقیقت صرف اس مقصد کے تحت تھیں کہ عالمی سیاست ومعیشت میں اس کی بالادستی قائم ہو اورمستقل بغیرکسی چیلنج کے برقراررہے۔اسی لئے کویت عراق جنگ کے بعدجارج بش اول نے یہودی نژاد ہنری کسینجرکے تشکیل کردہ ’’نیوورلڈآرڈر‘‘ پروگرام کومتعارف کرانے کے بعد امریکا نےجو عالمی نظام پراس قدرزوردیاتو اس کابنیادی سبب یہ ہے کہ وہ معیشت،عسکری قوت اورسفارت کاری کے میدان میں اپنی پوزیشن زیادہ سے زیادہ مستحکم رکھناچاہتاہے۔اس کے لئے وہ جودنیاتشکیل دینے میں مصروف ہے،اس کا واحد مقصد اکیلے ہی اس سے بھرپوراستفادہ مقصودہے تاکہ عالمی معیشت کواپنی مرضی کے مطابق چلا کرامریکا اپنی طاقت میں بے پناہ اضافہ کرکے عالمی بالادستی کویقینی بنائے۔
یہ نکتہ نظراندازنہیں کیاجاناچاہیے کہ امریکانے عالمی سیاست ومعیشت میں اب تک جو بھی مرضی کے فیصلے کیے ہیں ان کے حوالے سے اپنے اتحادیوں کے لئے زیادہ طاقت استعمال نہیں کی۔وہ اگرچاہتاتواپنی طاقت کے ذریعے غیر معمولی حدتک اپنی مرضی کے فیصلے کر سکتا تھا مگراس کے بجائے کم استحصالی اندازاختیارکر کے امریکا نے ان تمام ممالک کو مجوزہ مفادات میں کچھ حصہ ضرور دیا جوعالمی نظام کے حوالے سے اس کے تصورات کو قبول کرنے کے لئے تیارتھے۔دیگرسپرپاورزکے مقابلے میں امریکانے طاقت کے ذریعے بات منوانے پرکم توجہ دی۔امریکاکے بہت سے شراکت داراس امرکابرملااعتراف کرتے ہیں کہ وہ کسی بھی معاملے میں امریکاکی بالادستی سے اتنانہیں ڈرتےجتنا اس بات سے ڈرتے ہیں کہ کہیں امریکامعاملات سے الگ تھلگ نہ ہوجائے اورپھران ممالک کودیگرقوتوں کے ساتھ بھی سردجنگ کاسامناکرناپڑے! ہرحال میں سب سے پہلے امریکاکانعرہ امریکی سیاست ومعیشت کے لئے بنیادی حیثیت رکھتاہے۔ امریکا نے کبھی اپنے مفادات کو کسی بھی صورتِ حال کے تابع نہیں کیا۔وہ صورتِ حال کواپنے مفادات کے تابع کرنے پریقین رکھتاآیاہے۔
ایک یورپی سفارت کارکاکہناہے کہ یورپ نے 70سال تک امریکاکی ڈفلی پررقص کیا ہے۔ ویتنام سے نکاراگواتک لوگ اس بات کے گواہ ہیں کہ اپنے ملک کے مفادات کوہرحال میں تقویت بہم پہنچانے کے لئے امریکی حکام نے غیرمعمولی تشدداورظلم وجبر کی راہ پرچلنے سے کبھی گریزنہیں کیا۔معیشت اورسیاست سے ہٹ کربھی کئی معاملات میں امریکی اندازِ قیادت بہت اہم رہاہے۔دوسری جنگ عظیم کےبعدسے امریکا نے عالمی سطح پرامن اور استحکام کے حوالے سے غیرمعمولی کرداراداکرنے کی یہ وجہ بھی تھی کہ اس وقت دنیا سرمایہ داری اورکیمونزم نظام میں واضح طورپرتقسیم تھی اورامریکاکے اتحادی یہ سمجھتے تھےکہ امریکا عسکری امور میں کمٹمنٹ کے مطابق کام کرنے اورڈلیورکرنے کی بھرپورصلاحیت رکھتا ہے اوریہ کہ ایکانتہائی خطرناک دنیا میں حقیقی استحکام پیداکرنے اوربرقراررکھنے کی صلاحیت اگرکسی میں پائی جاتی ہے تووہ امریکاہے۔
(جاری ہے)